سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. باب في المرأة هل تنقض شعرها عند الغسل
باب: کیا غسل کے وقت عورت اپنے سر کے بال کھولے؟
حدیث نمبر: 253
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَتْ إِحْدَانَا إِذَا أَصَابَتْهَا جَنَابَةٌ، أَخَذَتْ ثَلَاثَ حَفَنَاتٍ هَكَذَا تَعْنِي بِكَفَّيْهَا جَمِيعًا، فَتَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، وَأَخَذَتْ بِيَدٍ وَاحِدَةٍ فَصَبَّتْهَا عَلَى هَذَا الشِّقِّ وَالْأُخْرَى عَلَى الشِّقِّ الْآخَرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ہم (ازواج مطہرات) میں سے جب کسی کو غسل جنابت کی ضرورت ہوتی تو وہ تین لپ پانی اس طرح لیتی یعنی اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ایک ساتھ کر کے، پھر اسے اپنے سر پر ڈالتی اور ایک ہاتھ سے پانی لیتی تو ایک جانب ڈالتی اور دوسرے سے لے کر دوسری جانب ڈالتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 253]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”ہم میں سے جب کسی کو غسل جنابت کی ضرورت ہوتی تو وہ اس طرح یعنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے تین لپ پانی لیا کرتی اور اپنے سر پر ڈالتی اور (پھر باقی جسم پر) ایک چلو لے کر اس جانب ڈالتی اور دوسرا چلو دوسری جانب۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 19 (277)، (تحفة الأشراف: 17850) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (277)
حدیث نمبر: 239
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّهُمْ ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُسْلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا أَنَا، فَأُفِيضُ عَلَى رَأْسِي ثَلَاثًا، وَأَشَارَ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا".
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو تین چلو اپنے سر پر ڈالتا ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بنا کر اشارہ کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 239]
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں غسل جنابت کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مگر میں تو اپنے سر پر پانی کے تین لپ ڈالتا ہوں۔“ اور ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 4 (254)، صحیح مسلم/الحیض 11 (327)، سنن النسائی/الطھارة 158 (251)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 95 (575)، (تحفة الأشراف: 3186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (254) صحيح مسلم (327)
حدیث نمبر: 240
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، دَعَا بِشَيْءٍ مِنْ نَحْوِ الْحِلَابِ، فَأَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَبَدَأَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ الْأَيْسَرِ، ثُمَّ أَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَقَالَ بِهِمَا عَلَى رَأْسِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو ایک برتن منگواتے جیسے دودھ دوہنے کا برتن ہوتا ہے، پھر اپنے دونوں ہاتھ سے پانی لے کر سر کی داہنی جانب ڈالتے، پھر بائیں جانب ڈالتے، پھر دونوں ہاتھوں سے پانی لے کر (بیچ) سر پر ڈالتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 240]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل جنابت کرنا ہوتا تو دودھ کے ڈول کی طرح کا برتن طلب کرتے۔ پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے پانی لیتے اور اپنے سر کی دائیں جانب سے شروع کرتے پھر بائیں جانب، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے پانی لیتے اور اپنے سر پر ڈالتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 6 (258)، صحیح مسلم/الحیض 9 (318)، 10 (320)، سنن النسائی/الطھارة 153 (245)، 156 (248)، 157 (249)، والغسل 16 (420)، 19 (423)، (تحفة الأشراف: 17447)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الطھارة 76 (104)، موطا امام مالک/الطھارة 17(67)، مسند احمد (6/94، 115، 143، 161، 173)، سنن الدارمی/الطھارة 66 (775) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (258) صحيح مسلم (318)