🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
166. باب في الرسل
باب: ایلچی اور سفیر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2761
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: كَانَ مُسَيْلِمَةُ كَتَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَشْجَعَ يُقَالُ لَهُ: سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُعَيْمِ بْنِ مَسْعُودٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ نُعَيْمٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهُمَا حِينَ قَرَأَ كِتَابَ مُسَيْلِمَةَ:" مَا تَقُولَانِ أَنْتُمَا؟ قَالَا: نَقُولُ كَمَا قَالَ، قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّ الرُّسُلَ لَا تُقْتَلُ لَضَرَبْتُ أَعْنَاقَكُمَا".
نعیم بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے مسیلمہ کا خط پڑھا اس کے دونوں ایلچیوں سے کہتے سنا: تم دونوں مسیلمہ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ان دونوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں جو مسیلمہ ۱؎ نے کہا ہے، (یعنی اس کی تصدیق کرتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ نہ ہوتا کہ سفیر قتل نہ کئے جائیں تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2761]
محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ مسیلمہ (کذاب) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف خط بھیجا۔ (دوسری سند میں ہے) نعیم بن مسعود اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیلمہ کے دو ایلچیوں سے پوچھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کذاب کا) خط پڑھا کہ تم دونوں (اس کے بارے میں) کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں جو اس نے کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سفیر اور قاصدوں کو قتل نہیں کیا جاتا تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2761]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11650)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/487) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مسیلمہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نبوت کا دعوی کیا تھا، عبداللہ بن نواحہ اور ابن اثال مسیلمہ کا پیام لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے، اسی موقع پر آپ نے فرمایا تھا کہ اگر یہ نہ ہوتا کہ قاصد قتل نہ کئے جائیں، تو میں تم دونوں کی گردن مار دیتا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں ایک لشکر مسیلمہ سے مقابلہ کے لئے روانہ کیا گیا بالآخر وحشی کے ہاتھوں مسیلمہ مارا گیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3982)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّهُ أَتَى عَبْدَ اللَّهِ، فَقَالَ: مَا بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنْ الْعَرَبِ حِنَةٌ، وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ فَجِيءَ بِهِمْ فَاسْتَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ، قَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ فَأَنْتَ الْيَوْمَ لَسْتَ بِرَسُولٍ، فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلًا بِالسُّوقِ".
حارثہ بن مضرب سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہا: میرے اور کسی عرب کے بیچ کوئی عداوت و دشمنی نہیں ہے، میں قبیلہ بنو حنیفہ کی ایک مسجد سے گزرا تو لوگوں کو دیکھا کہ وہ مسیلمہ پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سن کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو بلا بھیجا، وہ ان کے پاس لائے گئے تو انہوں نے ابن نواحہ کے علاوہ سب سے توبہ کرنے کو کہا، اور ابن نواحہ سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اگر تو ایلچی نہ ہوتا تو میں تیری گردن مار دیتا آج تو ایلچی نہیں ہے۔ پھر انہوں نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا تو انہوں نے بازار میں اس کی گردن مار دی، اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص ابن نواحہ کو دیکھنا چاہے وہ بازار میں جا کر دیکھ لے وہ مرا پڑا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2762]
حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے (جبکہ وہ کوفہ میں والی تھے) اور کہا: مجھے کسی عرب سے کوئی عداوت نہیں اور میں قبیلہ بنو حنیفہ کی مسجد سے گزرا ہوں تو میں نے انہیں پایا ہے کہ وہ لوگ مسیلمہ پر ایمان رکھتے ہیں (یہ مسجد کوفہ ہی میں تھی) پس سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوا لیا، انہیں لایا گیا تو انہوں نے (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) ان سے توبہ کروائی، سوائے ابن نواحہ کے، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تجھ سے) کہا تھا: اگر تو سفیر نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا۔ اور آج تو سفیر یا قاصد نہیں ہے۔ چنانچہ انہوں نے قرظہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اس کو بازار میں (سر عام) قتل کر دیا۔ پھر فرمایا: جو ابن نواحہ کو مقتول دیکھنا چاہتا ہے وہ اسے بازار میں دیکھ لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2762]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 9196)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/384)، سنن الدارمی/السیر 60 (2545) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (8675)
أبو إسحاق عنعن
وحديث الحاكم (52/3 ح 4377 وسنده حسن)يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں