سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. باب ما يكره من الضحايا
باب: قربانی میں کون سا جانور مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2805
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الدَّسْتُوَائِيُّ وَيُقَالُ لَهُ هِشَامُ بْنُ سَنْبَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جُرَيِّ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُضَحَّى بِعَضْبَاءِ الأُذُنِ وَالْقَرْنِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: جُرَيٌّ سَدُوسِيٌّ بَصْرِيٌّ لَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ إِلَّا قَتَادَةُ.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عضباء» (یعنی سینگ ٹوٹے کان کٹے جانور) کی قربانی سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2805]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”ایسی قربانی کرنے سے منع فرمایا ہے، جس کا کان یا سینگ جڑ سے کٹ گیا ہو یا ٹوٹ گیا ہو۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”جری بن کلی، سدوسی ہے، بصرہ کا رہنے والا ہے، اس سے قتادہ رحمہ اللہ کے سوا اور کسی نے حدیث نہیں لی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2805]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأضاحي 9 (1504)، سنن النسائی/الضحایا 11 (4382)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 8 (3145)، (تحفة الأشراف: 10031)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/83، 101، 109، 127، 129، 150) (ضعیف)» (اس کے راوی جری لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1464)
أخرجه النسائي (4382 وسنده حسن) جري بن كليب حسن الحديث
مشكوة المصابيح (1464)
أخرجه النسائي (4382 وسنده حسن) جري بن كليب حسن الحديث
حدیث نمبر: 2802
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ مَا لَا يَجُوزُ فِي الأَضَاحِيِّ، فَقَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَصَابِعِي أَقْصَرُ مِنْ أَصَابِعِهِ، وَأَنَامِلِي أَقْصَرُ مِنْ أَنَامِلِهِ، فَقَالَ: أَرْبَعٌ لَا تَجُوزُ فِي الأَضَاحِيِّ الْعَوْرَاءُ بَيِّنٌ عَوَرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ بَيِّنٌ مَرَضُهَا، وَالْعَرْجَاءُ بَيِّنٌ ظَلْعُهَا، وَالْكَسِيرُ الَّتِي لَا تَنْقَى، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ فِي السِّنِّ نَقْصٌ، قَالَ: مَا كَرِهْتَ فَدَعْهُ، وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى أَحَدٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ لَهَا مُخٌّ.
عبید بن فیروز کہتے ہیں کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ: کون سا جانور قربانی میں درست نہیں ہے؟ تو آپ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، میری انگلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں اور میری پوریں آپ کی پوروں سے چھوٹی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار انگلیوں سے اشارہ کیا اور فرمایا: ”چار طرح کے جانور قربانی کے لائق نہیں ہیں، ایک کانا جس کا کانا پن بالکل ظاہر ہو، دوسرے بیمار جس کی بیماری بالکل ظاہر ہو، تیسرے لنگڑا جس کا لنگڑا پن بالکل واضح ہو، اور چوتھے دبلا بوڑھا کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو“، میں نے کہا: مجھے قربانی کے لیے وہ جانور بھی برا لگتا ہے جس کے دانت میں نقص ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تمہیں ناپسند ہو اس کو چھوڑ دو لیکن کسی اور پر اس کو حرام نہ کرو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ( «لا تنقى» کا مطلب یہ ہے کہ) اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2802]
جناب عبید بن فیروز کہتے ہیں: ”میں نے سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ قربانی میں کون سا جانور جائز نہیں؟“ تو انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور میری انگلیاں اور پورے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں اور پوروں سے بہت ہیچ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (چار انگلیوں کے اشارہ سے) فرمایا: ”چار قسم کے جانور قربانی میں جائز نہیں ہیں، کانا جس کا کانا پن ظاہر ہو، بیمار جس کی بیماری واضح ہو، لنگڑا جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو اور انتہائی کمزور کہ اس کی ہڈی میں گودا نہ ہو۔““ میں (عبید بن فیروز) نے کہا: ”مجھے ایسا جانور بھی ناپسند ہے جس کے دانت میں عیب ہو۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جو تمہیں ناپسند ہو تو اسے چھوڑ دو مگر دوسروں کے لیے حرام نہ ٹھہراؤ۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: «لَا تُنْقِي» کے معنی ہیں ”جس (کی ہڈیوں) میں گودا نہ ہو (بالکل لاغر، ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2802]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأضاحي 5 (1497)، سنن النسائی/الضحایا 4 (4374)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 8 (3144)، (تحفة الأشراف: 1790)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الضحایا 1(1)، مسند احمد (4/284، 289، 300، 301)، سنن الدارمی/الأضاحي 3 (1992) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1465)
أخرجه النسائي (4374 وسنده صحيح) وابن ماجه (3144 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2912 وسنده صحيح)
دَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ
مشكوة المصابيح (1465)
أخرجه النسائي (4374 وسنده صحيح) وابن ماجه (3144 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2912 وسنده صحيح)
دَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ