سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب في العقيقة
باب: عقیقہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2838
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ وَيُسَمَّى"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَيُسَمَّى أَصَحُّ كَذَا، قَالَ سَلَّامُ بْنُ أَبِي مُطِيعٍ، عَنْ قَتَادَةَ،وَإِيَاسُ ابْنُ دَغْفَلٍ، وَأَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ قَالَ: وَيُسَمَّى، وَرَوَاهُ أَشْعَثُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَيُسَمَّى.
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے گروی ہے، ساتویں روز اس کی طرف سے ذبح کیا جائے، اس کا سر منڈایا جائے اور اس کا نام رکھا جائے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: لفظ «يسمى» لفظ «يدمى» سے زیادہ صحیح ہے، سلام بن ابی مطیع نے اسی طرح قتادہ، ایاس بن دغفل اور اشعث سے اور ان لوگوں نے حسن سے روایت کی ہے، اس میں «ويسمى» کا لفظ ہے، اور اسے اشعث نے حسن سے اور حسن نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، اس میں بھی «ويسمى» ہی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2838]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے۔ (لہٰذا) ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے اور نام رکھا جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لفظ «يُسَمَّىٰ» صحیح تر ہے۔ سلام بن ابی مطیع نے قتادہ سے اور ایاس بن دغفل اور اشعث نے بواسطہ حسن لفظ «وَيُسَمَّىٰ» روایت کیا ہے اور اشعث نے حسن سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی لفظ «وَيُسَمَّىٰ» بیان کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2838]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 4581) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
صححه ابن الجارود (910 وسنده صحيح)
صححه ابن الجارود (910 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 2837
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" كُلُّ غُلَامٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى"، فَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الدَّمِ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ قَالَ: إِذَا ذَبَحْتَ الْعَقِيقَةَ أَخَذْتَ مِنْهَا صُوفَةً وَاسْتَقْبَلْتَ بِهِ أَوْدَاجَهَا، ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَسِيلَ عَلَى رَأْسِهِ مِثْلَ الْخَيْطِ، ثُمَّ يُغْسَلُ رَأْسُهُ بَعْدُ وَيُحْلَقُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ هَمَّامٍ وَيُدَمَّى، قَالَ أَبُو دَاوُد: خُولِفَ هَمَّامٌ فِي هَذَا الْكَلَامِ وَهُوَ وَهْمٌ مِنْ هَمَّامٍ، وَإِنَّمَا قَالُوا: يُسَمَّى، فَقَالَ هَمَّامٌ: يُدَمَّى، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ يُؤْخَذُ بِهَذَا.
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کا خون اس کے سر پر لگایا جائے ۱؎“۔ قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خون لگایا جائے؟ تو کہتے: جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھا لے کر اس کی رگوں پر رکھ دو، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «يدمى» ہمام کا وہم ہے، اصل میں «ويسمى» تھا جسے ہمام نے «يدمى» کر دیا، ابوداؤد کہتے ہیں: اس پر عمل نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2837]
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بچہ اپنے عقیقے کے ساتھ گروی ہوتا ہے۔ (لہٰذا) ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے، سر منڈایا جائے اور اس پر خون لگایا جائے۔“ قتادہ رحمہ اللہ سے جب یہ پوچھا جاتا کہ خون کس طرح لگایا جائے تو وہ کہتے: ”جب جانور ذبح کیا جا رہا ہو تو اس کے چند بال لے کر اس کی (کٹنے والی) رگوں کے آگے کر دو اور بچے کی چندیا پر رکھ دیے جائیں حتیٰ کہ وہ (تازہ تازہ خون) اس کے سر پر دھاگے کی مانند بہنے لگے۔ پھر اس کا سر دھویا جائے اور بال مونڈ دیے جائیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «وَيُدَمَّىٰ» ”خون لگانے والی بات“ ہمام کا وہم ہے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس جملے میں ہمام کی مخالفت کی گئی ہے۔ دیگر لوگ «وَيُسَمَّىٰ» ”بچے کا نام رکھا جائے“ روایت کرتے ہیں، مگر ہمام نے اس لفظ کو «وَيُدَمَّىٰ» کہہ دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”یہ قابل عمل بھی نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2837]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأضاحي 23 (1522)، سنن النسائی/العقیقة 4 (4225)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3165)، (تحفة الأشراف: 4581)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العقیقة 2 (5472)، مسند احمد (5/7، 8، 12، 17، 18، 22)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2012) (صحیح)» (لیکن «يدمى» کی جگہ «يسمى» صحیح ہے جیسا کہ اگلی روایت میں آرہا ہے، ترمذی نسائی اور ابن ماجہ میں «يسمى» ہی ہے)
وضاحت: ۱؎: بریدہ رضی اللہ عنہ کی آنے والی حدیث نمبر (۲۸۴۳) اس حدیث کے لئے ناسخ ہے، لہٰذا عقیقہ کا خون بچے کے سر پر نہیں لگایا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله ويدمى والمحفوظ ويسمى
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
قتادة : عنعن والحديث الآتي(الأصل:2838) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102
إسناده ضعيف
قتادة : عنعن والحديث الآتي(الأصل:2838) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 102
حدیث نمبر: 2839
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ الرَّبَابِ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی پیدائش کے ساتھ اس کا عقیقہ ہے تو اس کی جانب سے خون بہاؤ، اور اس سے تکلیف اور نجاست کو دور کرو“ (یعنی سر کے بال مونڈو اور غسل دو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2839]
سیدنا سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کے لیے عقیقہ لازمی ہے، لہٰذا اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس کی میل کچیل دور کرو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2839]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العقیقة 2 (5471)، سنن الترمذی/الأضاحي 17 (1515)، سنن النسائی/العقیقة 1 (4219)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 1 (3164)، (تحفة الأشراف: 4485)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/17، 18، 214)، سنن الدارمی/الأضاحي 9 (2010) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5471، 5472)