🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب في أرزاق الذرية
باب: مسلمانوں کی اولاد کو وظیفہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2954
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں مسلمانوں سے ان کی اپنی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں (بس) جو مر جائے اور مال چھوڑ جائے تو وہ مال اس کے گھر والوں کا حق ہے اور جو قرض چھوڑ جائے یا عیال، تو وہ (قرض کی ادائیگی اور عیال کی پرورش) میرے ذمہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2954]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ﴿میں مومنوں کے لیے ان کی جانوں سے بھی نزدیک تر ہوں﴾ [سورة الأحزاب: 6] (کہ میرا مقام پہچانیں اور بے چوں و چرا اطاعت کریں) چنانچہ جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے گھر والوں کا حق ہے اور جو کوئی قرضہ چھوڑ جائے یا چھوٹے بچے، تو وہ میری طرف ہیں اور میرے ذمے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المقدمة 7 (45)، والصدقات 13 (2416)، (تحفة الأشراف: 2605)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الجمعة 13 (867)، سنن النسائی/العیدین 21 (1579)، والجنائز 67 (1964)، مسند احمد (3/371) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه مسلم (867)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2899
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ الْمِقْدَامِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيَّ، وَرُبَّمَا قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ أَعْقِلُ لَهُ وَأَرِثُهُ وَالْخَالُ وَارِثُ، مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ".
مقدام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بوجھ (قرضہ یا بال بچے) چھوڑ جائے تو وہ میری طرف ہے، اور کبھی راوی نے کہا اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے ۲؎ اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جس کا کوئی وارث نہیں اس کا میں وارث ہوں، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور اس شخص کا ترکہ لوں گا، ایسے ہی ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہیں وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2899]
سیدنا مقدام (مقدام بن معد یکرب) رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی قرضہ یا عیال و اطفال چھوڑ گیا تو وہ میرے ذمے ہیں، اور کبھی یوں بھی فرمایا، کہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں۔ اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے۔ اور جس کا کوئی وارث نہ ہو میں اس کا وارث ہوں، اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا اور اس کا وارث بنوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی اور وارث نہ ہو، وہ اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا اور اس کا وارث بھی بنے گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2899]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الفرائض 9 (2738)، والدیات 7 (2634)، (تحفة الأشراف: 11569)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/131، 133) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: میت کا ایسا رشتہ دار جو نہ ذوی الفروض میں سے ہو اور نہ عصبہ میں سے۔
۲؎: یعنی میں اس کا قرض ادا کروں گا اور اس کی اولاد کی خبر گیری کروں گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3052)
وله شاھد عند ابن حبان (1226 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2900
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ يَعْنِي ابْنَ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد، رَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ عَائِذٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ، وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ رَاشِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَقُولُ الضَّيْعَةُ مَعْنَاهُ عِيَالٌ.
مقدام کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مسلمان سے اس کی ذات کی نسبت قریب تر ہوں، جو کوئی اپنے ذمہ قرض چھوڑ جائے یا عیال چھوڑ جائے تو اس کا قرض ادا کرنا یا اس کے عیال کی پرورش کرنا میرے ذمہ ہے، اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے، اور جس کا کوئی والی نہیں اس کا والی میں ہوں، میں اس کے مال کا وارث ہوں گا، اور میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا، اور جس کا کوئی والی نہیں، اس کا ماموں اس کا والی ہے (یہ) اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس روایت کو زبیدی نے راشد بن سعد سے، راشد نے ابن عائذ سے، ابن عائذ نے مقدام سے روایت کیا ہے اور اسے معاویہ بن صالح نے راشد سے روایت کیا ہے اس میں «عن المقدام» کے بجائے «سمعت المقدام» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «ضيعة» کے معنی «عیال» کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2900]
سیدنا مقدام (مقدام بن معد یکرب) کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مومن کے لیے اس کی اپنی ذات سے بھی قریب تر ہوں، جو شخص قرض یا چھوٹی اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے ذمے ہے اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، میں اس کا ولی ہوں جس کا کوئی ولی نہ ہو، میں اس کے مال کا وارث بنوں گا اور اس کے قیدی چھڑاؤں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا اور کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کے مال کا وارث ہو گا اور اس کا قیدی چھڑائے گا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «الضَّيْعَةُ» کے معنی عیال کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2900]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11569) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3052)
انظر الحديث السابق (2899)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2955
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ وَمَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال چھوڑ کر جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے، اور جو عیال چھوڑ کر مر جائے تو ان کی پرورش ہمارے ذمہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2955]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے اور جو عیال و اطفال چھوڑ جائے تو وہ ہماری طرف ہیں۔ (ہم ان کے ذمہ دار ہیں اور ہم ان کی کفالت کریں گے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الاستقراض 11 (2398)، الفرائض 25 (6763)، صحیح مسلم/الفرائض 4 (1619)، (تحفة الأشراف: 13410)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجنائز 69 (2019)، سنن النسائی/الجنائز 67 (1965)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 13 (2416) مسند احمد (2/290، 453، 455) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6763) صحيح مسلم (1619)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2956
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ دَيْنًا فَإِلَيَّ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں ہر مسلمان سے اس کی جان سے بھی زیادہ قریب ہوں، تو جو مر جائے اور قرض چھوڑ جائے تو اس کی ادائیگی میرے ذمہ ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ مال اس کے وارثوں کا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2956]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ہر مومن کے لیے اس کی جان سے بھی قریب تر ہوں، جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر قرضہ ہو تو وہ میرے ذمے ہے اور جو مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں کا حق ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3159) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث شواھد منھا الحديث السابق (2954)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں