سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الأمراض المكفرة للذنوب
باب: گناہوں کے لیے کفارہ بننے والی بیماریوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3090
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْمِصِّيصِيُّ، الْمَعْنَى قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد، قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ السَّلَمِيُّ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ، لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلِهِ، ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ، أَوْ فِي مَالِهِ، أَوْ فِي وَلَدِهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: زَادَ ابْنُ نُفَيْلٍ، ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ اتَّفَقَا حَتَّى يُبْلِغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى.
خالد سلمی اپنے والد سے (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیان کرتے ہوئے سنا: ”جب بندے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا رتبہ مل جاتا ہے جس تک وہ اپنے عمل کے ذریعہ نہیں پہنچ پاتا تو اللہ تعالیٰ اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے ذریعہ اسے آزماتا ہے، پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بندہ اس مقام کو جا پہنچتا ہے جو اسے اللہ کی طرف سے ملا تھا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3090]
محمد بن خالد سے روایت ہے، امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن مہدی نے اس راوی (محمد بن خالد) کے متعلق کہا کہ یہ ”سلمی“ ہیں، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا شرف حاصل تھا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بیشک بندے کے لیے جب اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی مقام و مرتبہ مقدر ہو چکا ہو اور وہ اپنے اعمال کی بنا پر اس تک نہ پہنچ سکتا ہو، تو اللہ اسے اس کے اپنے جسم یا مال یا اولاد کی آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن نفیل نے یہ اضافہ بیان کیا: ”اور پھر اللہ تعالیٰ اسے صبر کی توفیق بھی دیتا ہے۔“ پھر دونوں راوی حدیث بیان کرنے میں متفق ہو جاتے ہیں: ”حتیٰ کہ اسے اس مقام و مرتبہ تک پہنچا دیتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی سے اس کے لیے مقدر ہو چکا ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3090]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15562)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/272) (صحیح)» (شواہد اور متابعات سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ اس کے اندر محمد بن خالد اور ان کے والد خالد سلمی دونوں مجہول ہیں، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ، نمبر: 2599)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (1568)
وللحديث شاھد عند أبي يعلٰي الموصلي (10/482 ح 6095 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (1568)
وللحديث شاھد عند أبي يعلٰي الموصلي (10/482 ح 6095 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 3092
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ، قَالَتْ: عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَرِيضَةٌ، فَقَالَ:" أَبْشِرِي يَا أُمَّ الْعَلَاءِ، فَإِنَّ مَرَضَ الْمُسْلِمِ يُذْهِبُ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ، كَمَا تُذْهِبُ النَّارُ خَبَثَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ".
ام العلاء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب میں بیمار تھی تو میری عیادت کی، آپ نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اے ام العلاء! بیشک بیماری کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمان بندے کے گناہوں کو ایسے ہی دور کر دیتا ہے جیسے آگ سونے اور چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3092]
سیدہ ام علاء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں بیمار ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے اور فرمایا: ”اے ام علاء! تمہیں خوشخبری ہو، بلاشبہ مسلمان کی بیماری کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے جیسے کہ آگ سونے اور چاندی کا کھوٹ نکال دیتی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3092]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18339) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر المعجم الكبير للطبراني (10/186 ح 10406 وسنده حسن) وھو يغني عنه (معاذ علي زئي)
انظر المعجم الكبير للطبراني (10/186 ح 10406 وسنده حسن) وھو يغني عنه (معاذ علي زئي)