سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
50. باب الإسراع بالجنازة
باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3184
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَحْيَى الْمُجَبِّرِ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي مَاجِدَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَشْيِ مَعَ الْجَنَازَةِ، فَقَالَ" مَا دُونَ الْخَبَبِ إِنْ يَكُنْ خَيْرًا تَعَجَّلَ إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُنْ غَيْرَ ذَلِكَ فَبُعْدًا لِأَهْلِ النَّارِ، وَالْجَنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ، وَلَا تُتْبَعُ لَيْسَ مَعَهَا مَنْ تَقَدَّمَهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهُوَ ضَعِيفٌ، هُوَ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يَحْيَى الْجَابِرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا كُوفِيٌّ، وَأَبُو مَاجِدَةَ بَصْرِيٌّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَبُو مَاجِدَةَ هَذَا لَا يُعْرَفُ 10.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے اپنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: «خبب» ۱؎ سے کچھ کم، اگر جنازہ نیک ہے تو وہ نیکی سے جلدی جا ملے گا، اور اگر نیک نہیں ہے تو اہل جہنم کا دور ہو جانا ہی بہتر ہے، جنازہ کی پیروی کی جائے گی (یعنی جنازہ آگے رہے گا اور لوگ اس کے پیچھے رہیں گے) اسے پیچھے نہیں رکھا جا سکتا، جو آگے رہے گا وہ جنازہ کے ساتھ نہیں سمجھا جائے گا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یحییٰ المجبر ضعیف ہیں اور یہی یحییٰ بن عبداللہ ہیں اور یہی یحییٰ الجابر ہیں، یہ کوفی ہیں اور ابوماجدہ بصریٰ ہیں، نیز ابوماجدہ غیر معروف شخص ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3184]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جنازے کے ساتھ چلنے کا کیا ادب ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درمیانی سی تیز رفتار سے چلا جائے، اگر وہ نیک ہے تو بھلائی کی طرف جلدی لے جاتے ہو اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو دوزخیوں کے لیے ہلاکت ہے۔ جنازہ آگے آگے ہونا چاہیے، پیچھے نہیں ہونا چاہیے، ایسا نہ ہو کہ کوئی اس کے آگے چلے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ روایت ضعیف ہے (یحییٰ الجمیر) یہ یحییٰ بن عبداللہ ہے اور یہی یحییٰ الجابر ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”یہ کوفی ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”ابوماجدہ بصری، غیر معروف راوی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3184]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 27 (1011)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 16 (1484)، (تحفة الأشراف: 9637)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/378، 394، 415، 419، 432) (ضعیف)» (اس کے راوی یحییٰ الجابر لین الحدیث، اور ابوماجدة مجہول ہیں، واضح رہے کہ ابوماجد، کو ابوماجدہ نیز ابن ماجدہ کہا جاتا ہے)
وضاحت: ۱؎: چال کی ایک قسم ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1011) ابن ماجه (1484)
يحيي بن عبد اللّٰه المجبر : لين الحديث وأبوماجدة : مجهول (تق : 7581،8334)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
إسناده ضعيف
ترمذي (1011) ابن ماجه (1484)
يحيي بن عبد اللّٰه المجبر : لين الحديث وأبوماجدة : مجهول (تق : 7581،8334)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 117
حدیث نمبر: 3179
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَا بَكْرٍ،وَعُمَرَ، يَمْشُونَ أَمَامَ الْجَنَازَةِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3179]
سیدنا سالم اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ: ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ یہ لوگ جنازہ کے آگے آگے چلتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3179]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 26 (1007)، سنن النسائی/الجنائز 56 (1946)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 16 (1482)، (تحفة الأشراف: 6820)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الجنائز 3 (8)، مسند احمد (2/8، 122) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (1668)
الراجح أنه حديث صحيح و أعل بما لا يقدح والزھري صرح بالسماع
مشكوة المصابيح (1668)
الراجح أنه حديث صحيح و أعل بما لا يقدح والزھري صرح بالسماع
حدیث نمبر: 3180
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَحْسَبُ أَنَّ أَهْلَ زِيَادٍ أَخْبَرُونِي، أَنَّهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا، وَأَمَامَهَا، وَعَنْ يَمِينِهَا، وَعَنْ يَسَارِهَا، قَرِيبًا مِنْهَا، وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے، آگے دائیں بائیں کسی بھی جانب جنازے کے قریب ہو کر چل سکتا ہے، اور کچے بچوں ۱؎ کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور ان کے والدین کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3180]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار آدمی جنازہ کے پیچھے چلے اور پیدل لوگ اس کے پیچھے، آگے، دائیں اور بائیں اس کے قریب قریب چلیں، اور بچہ جو ناقص پیدا ہو اس کی بھی نماز جنازہ پڑھی جائے اور اس کے ماں باپ کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3180]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 42 (1031)، سنن النسائی/الجنائز 55 (1944)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 15 (1481)، 26 (1507)، (تحفة الأشراف: 11490)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/247، 248، 249، 252) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسے ببچے جو مدت حمل پوری ہونے سے پہلے پیدا ہو جائیں اور زندہ رہ کر مر جائیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1667)
أخرجه الترمذي (1031 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (1507 وسنده صحيح)
مشكوة المصابيح (1667)
أخرجه الترمذي (1031 وسنده صحيح) ورواه ابن ماجه (1507 وسنده صحيح)
حدیث نمبر: 3182
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ فِي جَنَازَةِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، وَكُنَّا نَمْشِي مَشْيًا خَفِيفًا، فَلَحِقَنَا أَبُو بَكْرَةَ، فَرَفَعَ سَوْطَهُ، فَقَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَرْمُلُ رَمَلًا".
عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ وہ عثمان بن ابوالعاص کے جنازے میں تھے اور ہم دھیرے دھیرے چل رہے تھے، اتنے میں ہم سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ آ ملے اور انہوں نے اپنا کوڑا لہرایا (ڈرانے کے لیے) اور کہا: ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم (جنازے لے کر) تیز چلا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3182]
سیدنا عیینہ بن عبدالرحمٰن اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک تھے اور ہم میت کو اٹھائے آہستہ آہستہ چل رہے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیں پیچھے سے آن ملے تو انہوں نے اپنا کوڑا بلند کیا اور کہا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ گویا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور (میت کو اٹھا کر) درمیانی چال سے دوڑ رہے ہوتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الجنائز /حدیث: 3182]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الجنائز 44 (1914)، (تحفة الأشراف: 11695)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 37، 38) (صحیح)» (اس واقعہ میں عثمان بن ابی العاص کا نام وہم ہے، صحیح نام عبدالرحمن بن سمرہ ہے جیسا کہ اگلی روایت میں ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح لكن قوله عثمان ابن أبي العاص شاذ والمحفوظ عبدالرحمن بن سمرة
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
قوله عثمان بن أبي العاص وھم، والصواب في جنازة عبد الرحمن بن سمرة انظر الحديث الآتي (3183)
قوله عثمان بن أبي العاص وھم، والصواب في جنازة عبد الرحمن بن سمرة انظر الحديث الآتي (3183)