سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب في اجتناب الشبهات
باب: شبہات سے بچنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3329
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، وَلَا أَسْمَعُ أَحَدًا بَعْدَهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ، وَأَحْيَانًا يَقُولُ مُشْتَبِهَةٌ، وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا، إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَا حَرَّمَ، وَإِنَّهُ مَنْ يَرْعَ حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُخَالِطَهُ، وَإِنَّهُ مَنْ يُخَالِطُ الرِّيبَةَ، يُوشِكُ أَنْ يَجْسُرَ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”حلال واضح ہے، اور حرام واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں (جن کی حلت و حرمت میں شک ہے) اور کبھی یہ کہا کہ ان کے درمیان مشتبہ چیز ہے اور میں تمہیں یہ بات ایک مثال سے سمجھاتا ہوں، اللہ نے (اپنے لیے) محفوظ جگہ (چراگاہ) بنائی ہے، اور اللہ کی محفوظ جگہ اس کے محارم ہیں (یعنی ایسے امور جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا ہے) اور جو شخص محفوظ چراگاہ کے گرد اپنے جانور چرائے گا، تو عین ممکن ہے کہ اس کے اندر داخل ہو جائے اور جو شخص مشتبہ چیزوں کے قریب جائے گا تو عین ممکن ہے کہ اسے حلال کر بیٹھنے کی جسارت کر ڈالے“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3329]
جناب شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا اور ان کے بعد کسی اور سے سننے کی مجھے کوئی حاجت نہیں (کیونکہ وہ ایک سچے صحابی تھے) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بلاشبہ حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے مابین کئی امور شبہے والے ہیں۔ میں تمہیں اس کی بابت مثال بیان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی ایک چراگاہ ہے (محفوظ مخصوص علاقہ جسے رکھ یا محفوظہ کہا جاتا ہے) اور اللہ کی رکھ اور اس کا محفوظہ وہی ہے جو اس نے حرام کیا ہے، جو شخص اس محفوظ علاقے کے قریب اپنے جانور چرائے گا قریب ہے کہ وہ اس میں جا پڑے۔ اور جو شک والی باتوں میں پڑتا ہے قریب ہے کہ وہ ان میں (بے دھڑک) جرات کرنے لگے۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3329]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الإیمان 39 (52)، والبیوع 2 (2051)، صحیح مسلم/المساقاة 20 (1599)، سنن الترمذی/البیوع 1 (1205)، سنن النسائی/البیوع 2 (4458)، سنن ابن ماجہ/الفتن 14 (3984)، (تحفة الأشراف: 11624)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/267، 269، 270، 271، 275)، سنن الدارمی/البیوع 1 (2573) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2051) صحيح مسلم (1599)
حدیث نمبر: 3330
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:" وَبَيْنَهُمَا مُشَبَّهَاتٌ، لَا يَعْلَمُهَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ، فَمَنِ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ عِرْضَهُ وَدِينَهُ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی حدیث بیان فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”ان دونوں کے درمیان کچھ شبہے کی چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے، جو شبہوں سے بچا وہ اپنے دین اور اپنی عزت و آبرو کو بچا لے گیا، اور جو شبہوں میں پڑا وہ حرام میں پھنس گیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3330]
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث بیان فرماتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ان (حلال و حرام) کے درمیان کچھ شبہے والی چیزیں ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے، تو جو شبہات سے بچ گیا اس نے اپنی عزت اور اپنے دین کو محفوظ کر لیا اور جو شبہے والی چیزوں میں جا پڑا وہ حرام میں داخل ہوا۔“ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3330]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11624) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (52) صحيح مسلم (1599)