🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب في كسب الحجام
باب: سینگی (پچھنا) لگانے والے کی اجرت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3421
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، أَخْبَرَنَا أَبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ قَارِظٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَسْبُ الْحَجَّامِ خَبِيثٌ، وَثَمَنُ الْكَلْبِ خَبِيثٌ، وَمَهْرُ الْبَغِيِّ خَبِيثٌ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی (پچھنا) لگانے والے کی کمائی بری (غیر شریفانہ) ہے ۱؎ کتے کی قیمت ناپاک ہے اور زانیہ عورت کی کمائی ناپاک (یعنی حرام) ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3421]
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سینگی لگانے والے کی کمائی ناپسندیدہ ہے، کتے کی قیمت خبیث ہے اور بدکار عورت کی خرچی خبیث ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3421]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساقاة 9 (1568)، سنن الترمذی/البیوع 46 (1275)، سنن النسائی/الذبائح 15 (4299)، (تحفة الأشراف: 3555)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/464، 465، 4/141) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «كسب الحجام خبيث» میں «خبيث» کا لفظ حرام ہونے کے مفہوم میں نہیں ہے بلکہ گھٹیا اور غیر شریفانہ ہونے کے معنی میں ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والی حدیث نمبر: (۳۴۲۲) میں محیصہ رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ پچھنا لگانے کی اجرت سے اپنے اونٹ اور غلام کو فائدہ پہنچاؤ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود پچھنا لگوایا اور لگانے والے کو اس کی اجرت بھی دی، پس پچھنا لگانے والے کی کمائی کے متعلق «خبيث» کا لفظ ایسے ہی ہے جیسے آپ نے «ثوم وبصل» (لہسن، پیاز) کو «خبيث» کہا باوجود یہ کہ ان دونوں کا استعمال حرام نہیں ہے، اسی طرح حجام کی کمائی بھی حرام نہیں ہے یہ اور بات ہے کہ غیر شریفانہ ہے۔ 
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1568)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3422
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ مُحَيِّصَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّهُ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِجَارَةِ الْحَجَّامِ، فَنَهَاهُ عَنْهَا، فَلَمْ يَزَلْ يَسْأَلُهُ وَيَسْتَأْذِنُهُ، حَتَّى أَمَرَهُ أَنْ أَعْلِفْهُ نَاضِحَكَ وَرَقِيقَكَ".
محیصہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سینگی لگا کر اجرت لینے کی اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اس کے لینے سے منع فرمایا، وہ برابر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھتے اور اجازت طلب کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ نے ان سے کہہ دیا کہ اس سے اپنے اونٹ اور اپنے غلام کو چارہ کھلاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3422]
جناب ابن محیصہ (حرام بن سعد بن محیصہ) اپنے والد (یعنی دادا) سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے (محیصہ رضی اللہ عنہ نے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگانے کی اجرت کے متعلق دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا۔ وہ پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے اور اجازت چاہتے رہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ اسے اپنی اونٹنی اور اپنے غلام کو کھلا دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3422]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 47 (1277)، سنن ابن ماجہ/التجارات 10 (2166)، (تحفة الأشراف: 11238)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان 10 (28)، مسند احمد (5/435، 436) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (2778)
أخرجه الترمذي (1277) وابن ماجه (2166) وانظر مسند الحميدي بتحقيقي (1293، 880)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3428
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ۱؎، زانیہ عورت کی کمائی ۲؎، اور کاہن کی اجرت ۳؎ لینے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3428]
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، بدکار عورت کی کمائی اور کاہن کے نذرانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3428]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 113 (2237)، الإجارة 20 (2282)، الطلاق 51 (5346)، الطب 46 (5761)، صحیح مسلم/المساقاة 9 (1567)، سنن الترمذی/البیوع 46 (1276)، النکاح 37 (1133)، الطب 23 (2071)، سنن النسائی/الصید والذبائح 15 (4297)، سنن ابن ماجہ/التجارات 9 (2159)، (تحفة الأشراف: 10010)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/البیوع 29(68)، مسند احمد (4/118، 120، 140، 141)، سنن الدارمی/البیوع 34 (2610) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کتا نجس ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی قیمت بھی ناپاک ہوگی، اس کی نجاست کا حال یہ ہے کہ شریعت نے اس برتن کو جس میں کتا منہ ڈال دے سات مرتبہ دھونے کا حکم دیا جس میں ایک مرتبہ مٹی سے دھونا بھی شامل ہے، اسی سبب سے کتے کی خرید و فروخت اور اس سے فائدہ اٹھانا منع ہے الا یہ کہ کسی اشد ضرورت مثلاً گھر، جائداد اور جانوروں کی حفاظت کے لئے ہو۔
۲؎: چونکہ زنا گناہ کبیرہ ہے اور فحش امور میں سے ہے اس لئے اس سے حاصل ہونے والی اجرت بھی ناپاک اور حرام ہے اس میں کوئی فرق نہیں کہ زانیہ لونڈی ہو یا آزاد عورت۔
۳؎: علم غیب رب العالمین کے لئے خاص ہے اس کا دعویٰ کرنا عظیم گناہ ہے اسی طرح اس دعویٰ کی آڑ میں کاہن اور نجومی عوام سے باطل طریقے سے جو مال حاصل کرتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5761) صحيح مسلم (1567)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3481
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَمَهْرِ الْبَغِيِّ، وَحُلْوَانِ الْكَاهِنِ".
ابومسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے منع فرمایا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3481]
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «ثَمَنِ الْكَلْبِ» کتے کی قیمت، «مَهْرِ الْبَغِيِّ» زانیہ کی خرچی اور «حُلْوَانِ الْكَاهِنِ» کاہن کے نذرانے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (3428)، (تحفة الأشراف: 13407، 10010) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کتے کی قیمت، زانیہ عورت کی کمائی اور کاہن کی کمائی سے متعلق ملاحظہ فرمائیں حدیث نمبر (۳۴۲۸) کے حواشی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5761) صحيح مسلم (1567)
وانظر الحديث السابق (3428)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3484
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَعْرُوفُ بْنُ سُوَيْدٍ الْجُذَامِيُّ، أَنَّ عُلَيَّ بْنَ رَبَاحٍ اللَّخْمِيَّ، حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ ثَمَنُ الْكَلْبِ، وَلَا حُلْوَانُ الْكَاهِنِ، وَلَا مَهْرُ الْبَغِيِّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت حلال نہیں ہے، نہ کاہن کی کمائی حلال ہے اور نہ فاحشہ کی کمائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3484]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کتے کی قیمت، کاہن کا نذرانہ اور زانیہ کی خرچی حلال نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصید والذبائح 15 (4298)، (تحفة الأشراف: 14260) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (4298 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں