🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب في ثمن الخمر والميتة
باب: شراب اور مردار کی قیمت لینا حرام ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3490
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا، وَقَالَ: حُرِّمَتِ التِّجَارَةُ فِي الْخَمْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں: «يسألونك عن الخمر والميسر...» اتریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے یہ آیتیں ہم پر پڑھیں اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کر دی گئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3490]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سورہ بقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور انہیں ہم پر پڑھا اور فرمایا: شراب کی تجارت حرام کر دی گئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 73 (459)، والبیوع 25 (2084)، 105 (2226)، وتفسیر آل عمران 49 (4540)، 52 (4543)، صحیح مسلم/المساقاة 12 (1580)، سنن النسائی/البیوع 89 (4669)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 7 (3382)، (تحفة الأشراف: 17636)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/46، 100، 127، 186، 190، 287)، سنن الدارمی/البیوع 35 (2612) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2226) صحيح مسلم (1580)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3485
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ بُخْتٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْمَيْتَةَ وَثَمَنَهَا، وَحَرَّمَ الْخِنْزِيرَ وَثَمَنَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، سور اور اس کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3485]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب اور اس کی قیمت (یعنی خرید و فروخت) کو حرام کیا ہے، مردار اور اس کی قیمت کو حرام کیا ہے، خنزیر اور اس کی قیمت کو حرام کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13792) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3486
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ:" إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةَ وَالْخِنْزِيرَ وَالْأَصْنَامَ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ، فَقَالَ: لَا، هُوَ حَرَامٌ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ شُحُومَهَا أَجْمَلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا (آپ مکہ میں تھے): اللہ نے شراب، مردار، سور اور بتوں کے خریدنے اور بیچنے کو حرام کیا ہے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ (اس سے تو بہت سے کام لیے جاتے ہیں) اس سے کشتیوں پر روغن آمیزی کی جاتی ہے، اس سے کھال نرمائی جاتی ہے، لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں (ان سب کے باوجود بھی) وہ حرام ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہود کو تباہ و برباد کرے، اللہ نے ان پر جانوروں کی چربی جب حرام کی تو انہوں نے اسے پگھلایا پھر اسے بیچا اور اس کے دام کھائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3486]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتح مکہ کے سال جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ ہی میں تھے، سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خرید و فروخت حرام ٹھہرائی ہے۔ کہا گیا: اے اللہ کے رسول! مردار کی چربی کے متعلق فرمائیں کہ اسے کشتیوں کے تختوں اور چمڑوں پر استعمال کیا جاتا ہے اور لوگ اسے چراغوں میں بھی جلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ حرام ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو ہلاک کرے، اللہ تعالیٰ نے جب ان پر اس (مردار) کی چربی حرام کر دی تو انہوں نے اسے پگھلا کر بیچنا شروع کر دیا اور پھر اس کی قیمت کھانے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/البیوع 112 (2236)، المغازي 51 (4296)، تفسیر سورة الأنعام 6 (4633)، صحیح مسلم/المساقاة 13 (1581)، سنن الترمذی/البیوع 61 (1297)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة 7 (4261)، البیوع 91 (4673)، سنن ابن ماجہ/التجارات 11 (2167)، (تحفة الأشراف: 2494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/324، 326، 370) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2236) صحيح مسلم (1581)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3675
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا؟ قَالَ: أَهْرِقْهَا، قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خَلًّا؟ قَالَ: لَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابوطلحہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیموں کے سلسلے میں پوچھا جنہوں نے میراث میں شراب پائی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بہا دو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا میں اس کا سرکہ نہ بنا لوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3675]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یتیموں کو ورثے میں شراب ملی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے بہا دو (اور ضائع کر دو)۔ انہوں نے کہا: کیا میں اس سے سرکہ نہ بنا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأشربة 2 (1983)، سنن الترمذی/البیوع 58 (1294)، (تحفة الأشراف: 1668)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/119، 180، 260)، سنن الدارمی/الأشربة 17 (2161) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1983)
مشكوة المصابيح (3649)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں