🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب الرُّجُوعِ فِي الْهِبَةِ
باب: ہبہ کر کے واپس لے لینا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3538
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، وَهَمَّامٌ، وَشُعْبَةُ، قَالُوا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ" قَالَ هَمَّامٌ: وَقَالَ قَتَادَةُ: وَلَا نَعْلَمُ الْقَيْءَ إِلَّا حَرَامًا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہبہ کی ہوئی چیز واپس لے لینے والا قے کر کے اسے پیٹ میں واپس لوٹا لینے والے کے مانند ہے۔ ہمام کہتے ہیں: اور قتادہ نے (یہ بھی) کہا: ہم قے کو حرام ہی سمجھتے ہیں (تو گویا ہدیہ دے کر واپس لے لینا بھی حرام ہی ہوا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3538]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہدیہ دے کر واپس لے لینے والا ایسے ہے جیسے کوئی قے کرے اور پھر اسے کھا لے۔ ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: ہم تو قے کو حرام سمجھتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الھبة 14 (2588)، صحیح مسلم/الھبة 2 (1622)، سنن النسائی/الھبة 2 (3672)، سنن ابن ماجہ/الأحکام 5 (2385)، (تحفة الأشراف: 5662)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/البیوع 62، (1299)، مسند احمد (1/250، 280، 289، 291، 339، 342، 345، 349) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2621) صحيح مسلم (1622)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1593
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر اسے بکتا ہوا پایا تو خریدنا چاہا تو اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو، اپنے صدقے کو مت لوٹاؤ۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 1593]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر دیکھا کہ اسے بیچا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے خرید لینا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مت خریدو اور اپنا صدقہ مت واپس لو۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 1593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الزکاة 59(1489)، والھبة 30 (2623)، 37 (2636)، والوصایا 31 (2775)، والجہاد 119 (2971)، 137 (3002)، صحیح مسلم/الھبات 1 (1621)، (تحفة الأشراف:8351)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة 32 (668)، سنن النسائی/الزکاة 100 (2616)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 1 (2390)، 2 (2392)، موطا امام مالک/الزکاة 26(49)، مسند احمد (1/40، 54) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2636) صحيح مسلم (1620)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3539
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُعْطِيَ عَطِيَّةً أَوْ يَهَبَ هِبَةً فَيَرْجِعَ فِيهَا، إِلَّا الْوَالِدَ فِيمَا يُعْطِي وَلَدَهُ، وَمَثَلُ الَّذِي يُعْطِي الْعَطِيَّةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَأْكُلُ فَإِذَا شَبِعَ قَاءَ ثُمَّ عَادَ فِي قَيْئِهِ".
عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ کسی کو کوئی عطیہ دے، یا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرے اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے والد کے کہ وہ بیٹے کو دے کر اس سے لے سکتا ہے ۱؎، اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر (یا ہبہ کر کے) واپس لے لیتا ہے کتے کی مثال ہے، کتا پیٹ بھر کر کھا لیتا ہے، پھر قے کرتا ہے، اور اپنے قے کئے ہوئے کو دوبارہ کھا لیتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3539]
سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے حلال نہیں کہ کوئی عطیہ دے یا ہدیہ اور پھر اسے واپس لوٹا لے، سوائے باپ کے جو وہ اپنے بیٹے کو دے (تو واپس لے سکتا ہے)۔ اس شخص کی مثال جو عطیہ دے کر واپس لے لیتا ہے اس کتے کی سی ہے جو کھاتا ہے، جب پیٹ بھر جائے تو قے کر دیتا ہے اور پھر دوبارہ اسی کو کھانے لگ جاتا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3539]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 62 (1299)، الولاء والبراء 7 (2132)، سنن النسائی/الھبة 2 (3720)، سنن ابن ماجہ/الھبات 1 (2377)، (تحفة الأشراف: 5743، 7097)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/27، 78) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: چونکہ باپ اور بیٹے کا مال ایک ہی ہے اور اس میں دونوں حقدار ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی اپنا مال ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر دے اس لئے واپس لینے میں کوئی قباحت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3021)
رواه النسائي (3720 وسنده صحيح) وابن ماجه (2377 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3540
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَثَلُ الَّذِي يَسْتَرِدُّ مَا وَهَبَ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ فَيَأْكُلُ قَيْئَهُ، فَإِذَا اسْتَرَدَّ الْوَاهِبُ فَلْيُوَقَّفْ، فَلْيُعَرَّفْ بِمَا اسْتَرَدَّ، ثُمَّ لِيُدْفَعْ إِلَيْهِ مَا وَهَبَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہدیہ دے کر واپس لے لینے والے کی مثال کتے کی ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا لیتا ہے، تو جب ہدیہ دینے والا واپس مانگے تو پانے والے کو ٹھہر کر پوچھنا چاہیئے کہ وہ واپس کیوں مانگ رہا ہے، (اگر بدل نہ ملنا سبب ہو تو بدل دیدے یا اور کوئی وجہ ہو تو) پھر اس کا دیا ہوا اسے لوٹا دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3540]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہدیہ دے کر واپس لینے والے کی مثال کتے کی سی ہے، جو قے کرتا اور پھر دوبارہ اسے کھانے لگتا ہے۔ تو جب کوئی ہبہ کرنے والا اپنا عطیہ واپس لینے لگے تو اسے برسرِ عام کھڑا کیا جائے اور جو واپس لے رہا ہو اس کے متعلق پوچھا جائے پھر وہ چیز اسے واپس دے دی جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الإجارة /حدیث: 3540]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الھبات2 (2378)، سنن النسائی/الہبة 2 (3719)، (تحفة الأشراف: 8722، 8660)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/75) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں