سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب في الساقي متى يشرب
باب: جو شخص قوم کا ساقی ہو وہ کب پئے؟
حدیث نمبر: 3726
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أُتِيَ بِلَبَن ٍ قَدْ شِيبَ بِمَاءٍ، وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ، وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ، فَشَرِبَ، ثُمَّ أَعْطَى الْأَعْرَابِيَّ، وَقَالَ: الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا جس میں پانی ملایا گیا تھا، آپ کے دائیں ایک دیہاتی اور بائیں ابوبکر بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا پھر دیہاتی کو (پیالہ) دے دیا اور فرمایا: ”دائیں طرف والا زیادہ حقدار ہے پھر وہ جو اس کے دائیں ہو ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3726]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأشربة 14 (5612، 1893)، 18 (5619)، المساقاة 1 (2352)، الھبة 4 (2571)، صحیح مسلم/الأشربة 17 (2029)، سنن الترمذی/الأشربة 19 (1893)، سنن ابن ماجہ/الأشربة 22 (3425)، (تحفة الأشراف: 1528)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صفة النبی 9 (17)، مسند احمد (3/110، 113، 197)، سنن الدارمی/الأشربة 18 (2162) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر چیز کی ابتدا داہنی طرف سے مسنون و مستحب ہے، گرچہ بائیں طرف والے لوگ معاشرہ کے معزز افراد ہوں، ہاں اگر کسی نے پانی مانگا تو وہ سب سے پہلے اس کا مستحق ہے، لیکن وہ اپنے دائیں طرف والوں کو دے دے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۷۲۹) میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5619) صحيح مسلم (2029)
حدیث نمبر: 3729
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ مَنْ بَنِي سُلَيْمٍ، قَالَ:" جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَذَكَرَ حَيْسًا أَتَاهُ بِهِ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَ فَنَاوَلَ مَنْ عَلَى يَمِينِهِ، وَأَكَلَ تَمْرًا، فَجَعَلَ يُلْقِي النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةُ وَالْوُسْطَى، فَلَمَّا قَامَ قَامَ أَبِي فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ".
عبداللہ بن بسر جو بنی سلیم سے تعلق رکھتے ہیں کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس قیام کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا، پھر انہوں نے حیس ۱؎ کا ذکر کیا جسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے پھر وہ آپ کے پاس پانی لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا پھر جو آپ کے داہنے تھا اسے دیدیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوریں کھائیں اور ان کی گٹھلیاں درمیانی اور شہادت والی انگلیوں کی پشت پر رکھ کر پھینکنے لگے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو میرے والد بھی کھڑے ہوئے اور انہوں نے آپ کی سواری کی لگام پکڑ کر عرض کیا: میرے لیے اللہ سے دعا کر دیجئیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم» ”اے اللہ جو روزی تو نے انہیں دی ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے، اور ان پر رحم فرما“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الأشربة 22 (2042)، سنن الترمذی/الدعوات 118 (3576)، (تحفة الأشراف: 5205)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/188، 190)، سنن الدارمی/الأطعمة 2 (2065) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک کھانے کا نام ہے جو کھجور وغیرہ سے تیار کیا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2042)