🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. باب ما يقول إذا شرب اللبن
باب: دودھ پی کر کیا دعا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3730
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" كُنْتُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَجَاءُوا بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ عَلَى ثُمَامَتَيْنِ، فَتَبَزَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ خَالِدٌ: إِخَالُكَ تَقْذُرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: أَجَلْ، ثُمَّ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ، وَإِذَا سُقِيَ لَبَنًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا لَفْظُ مُسَدَّدٍ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا کہ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے، لوگ دو بھنی ہوئی گوہ دو لکڑیوں پر رکھ کر لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر تھوکا، تو خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرا خیال ہے اس سے آپ کو گھن (کراہت) ہو رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیا اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے یہ دعا پڑھنی چاہئیے «اللهم بارك لنا فيه وأطعمنا خيرا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور ہمیں اس سے بہتر کھانا کھلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور جب اسے کوئی دودھ پلائے تو اسے چاہیئے کہ یہ دعا پڑھے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور اسے ہمیں اور دے کیونکہ دودھ کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3730]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں (اپنی خالہ) ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے ساتھ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ گھر والوں نے دو سانڈھے بھنے ہوئے پیش کیے جو دو لکڑیوں پر رکھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں دیکھ کر) تھوک دیا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال ہے آپ اسے ناپسند کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرما لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو یوں دعا کیا کرے «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ» اے اللہ! ہمیں اس میں برکت دے اور اس سے عمدہ عطا فرما۔ اور جب اسے دودھ پلایا جائے تو یوں کہے «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ» اے اللہ! ہمیں اس میں برکت دے اور مزید عنایت فرما۔ دودھ کے سوا اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کھانے اور پینے دونوں سے کفایت کرے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ الفاظ جناب مسدد کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الدعوات 55 (3455)، (تحفة الأشراف: 6298)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الأطعمة 35 (3322)، مسند احمد (1/225)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (286) (حسن)» ‏‏‏‏ (علی بن زید بن جدعان ضعیف ہیں، لیکن دوسرے طریق سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحہ 2320)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (3455)
علي بن زيد بن جدعان : ضعيف وعمر بن حرملة :مجهول (تق : 4875)
وللحديث شاهد ضعيف في الصحيحة للألباني (2320) !
وانظر ضعيف سنن ابن ماجه : 3322
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 132

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3793
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ،" أَنَّ خَالَتَهُ أَهْدَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم سَمْنًا وَأَضُبًّا وَأَقِطًا، فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَمِنَ الْأَقِطِ، وَتَرَكَ الْأَضُبَّ تَقَذُّرًا، وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، گوہ اور پنیر بھیجا، آپ نے گھی اور پنیر کھایا اور گوہ کو گھن محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا، اور آپ کے دستر خوان پر اسے کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر نہیں کھایا جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3793]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کی خالہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، سانڈے اور پنیر کا ہدیہ بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر کھا لیا مگر سانڈے کو طبیعت کے نہ چاہنے پر چھوڑ دیا۔ تاہم اسے آپ کے دستر خوان پر کھایا گیا، اگر حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستر خوان پر ہرگز نہ کھایا جاتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الہبة 7 (2575)، الأطعمة 8 (5789)، 16 (5402)، الاعتصام 24 (7358)، صحیح مسلم/الذبائح 7 (1947)، سنن النسائی/الصید 26 (4324)، (تحفة الأشراف: 5448)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/255، 284، 322، 329، 340، 247) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2575) صحيح مسلم (1947)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3794
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ،" أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ، فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ: أَخْبِرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، فَقَالُوا: هُوَ ضَبٌّ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: لَا، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ"، قَالَ خَالِدٌ: فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَكَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ.
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو آپ کی خدمت میں بھنا ہوا گوہ لایا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا تو میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں موجود بعض عورتوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس چیز کی خبر کر دو جسے آپ کھانا چاہتے ہیں، تو لوگوں نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) یہ گوہ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں لیکن میری قوم کی سر زمین میں نہیں پایا جاتا اس لیے مجھے اس سے گھن محسوس ہوتی ہے۔ (یہ سن کر) میں اسے کھینچ کر کھانے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3794]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (سیدنا خالد رضی اللہ عنہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، انہیں بھونا ہوا سانڈا پیش کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو بعض خواتین نے جو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھیں، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کھانے لگے ہیں انہیں اس کے متعلق بتا دو۔ پس صحابہ نے کہا: یہ سانڈا ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن یہ میرے وطن میں نہیں پائے جاتے اس لیے میں طبعی کراہت کی بنا پر اس سے بچتا ہوں۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا اور کھا لیا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3794]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأطعمة 10 (5391)، 14 (5400)، الذبائح 33 (5537)، صحیح مسلم/الذبائح 7 (1946)، سنن النسائی/الصید 26 (4321)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3241)، (تحفة الأشراف: 3504)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/88، 89)، دی/الصید 8 (2060) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2537) صحيح مسلم (1945)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3795
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ ثَابِتٍ بْنِ وَدِيعَةَ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ فَأَصَبْنَا ضِبَابًا، قَالَ: فَشَوَيْتُ مِنْهَا ضَبًّا، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَأَخَذَ عُودًا فَعَدَّ بِهِ أَصَابِعَهُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيُّ الدَّوَابِّ هِيَ، قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَنْهَ".
ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لشکر میں تھے کہ ہم نے کئی گوہ پکڑے، میں نے ان میں سے ایک کو بھونا اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے سامنے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی لی اور اس سے اس کی انگلیاں شمار کیں پھر فرمایا: بنی اسرائیل کا ایک گروہ مسخ کر کے زمین میں چوپایا بنا دیا گیا لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ کون سا جانور ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو کھایا اور نہ ہی اس سے منع کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3795]
سیدنا ثابت بن ودیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم ایک لشکر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، ہمیں سانڈے ملے۔ میں ان میں سے ایک بھون کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تنکا لیا اور اس سے اس کی انگلیاں شمار کیں۔ پھر فرمایا: بنو اسرائیل کی ایک قوم کو زمین کے جانوروں کی شکل میں مسخ کر دیا گیا تھا، مجھے نہیں معلوم وہ کون سے جانور تھے۔ کہا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اسے کھایا اور نہ منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأشربة /حدیث: 3795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الصید 26 (4325)، سنن ابن ماجہ/الصید 16 (3238)، (تحفة الأشراف: 2069)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/220)، سنن الدارمی/الصید 8 (2059) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شواھد عند مسلم (1949، 1951) وغيره

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں