سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب في صلة الشعر
باب: دوسرے کے بال اپنے بال میں جوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 4170
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" لُعِنَتِ الْوَاصِلَةُ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ مِنْ غَيْرِ دَاءٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَتَفْسِيرُ الْوَاصِلَةِ الَّتِي تَصِلُ الشَّعْرَ بِشَعْرِ النِّسَاءِ وَالْمُسْتَوْصِلَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالنَّامِصَةُ الَّتِي تَنْقُشُ الْحَاجِبَ حَتَّى تُرِقَّهُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا، وَالْوَاشِمَةُ الَّتِي تَجْعَلُ الْخِيلَانَ فِي وَجْهِهَا بِكُحْلٍ أَوْ مِدَادٍ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ الْمَعْمُولُ بِهَا.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ملعون قرار دی گئی ہے بال جوڑنے والی، اور جڑوانے والی، بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی، اور بغیر کسی بیماری کے گودنے لگانے والی اور گودنے لگوانے والی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «واصلة» اس عورت کو کہتے ہیں جو عورتوں کے بال میں بال جوڑے، اور «مستوصلة» اسے کہتے ہیں جو ایسا کروائے، اور «نامصة» وہ عورت ہے جو ابرو کے بال اکھیڑ کر باریک کرے، اور «متنمصة» وہ ہے جو ایسا کروائے، اور «واشمة» وہ عورت ہے جو چہرہ میں سرمہ یا سیاہی سے خال (تل) بنائے، اور «مستوشمة» وہ ہے جو ایسا کروائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4170]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ”لعنت کی گئی ہے اس عورت پر جو بال جوڑے اور جڑوائے، جو چہرے کے بال اکھیڑے اور اکھڑوائے اور جو جسم گودے یا گدوائے بغیر کسی بیماری کے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ” «الْوَاصِلَةُ» سے مراد وہ عورت ہے جو دوسری عورتوں کے بال جوڑتی ہو اور «الْمُسْتَوْصِلَةُ» وہ ہے جو یہ کام کروائے، «النَّامِصَةُ» وہ ہے جو ابروؤں کے بالوں کو نوچتی اور انہیں باریک بناتی ہو اور «الْمُتَنَمِّصَةُ» وہ ہے جو یہ کام کروائے، «الْوَاشِمَةُ» وہ ہے جو چہرے کی جلد پر سرمے یا سیاہی سے تل وغیرہ بناتی ہو اور «الْمُسْتَوْشِمَةُ» وہ ہے جو یہ کام کرواتی ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6378) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن وھب عنعن
و لبعض الحديث شواھد صحيحة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن وھب عنعن
و لبعض الحديث شواھد صحيحة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
حدیث نمبر: 4168
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی اس عورت پر جو دوسری عورت کے بال میں بال کو جوڑے، اور اس عورت پر اپنے بالوں میں اور بال جڑوائے، اور اس عورت پر دوسری عورت کا بدن گودے، اور نیل بھرے، اور اس عورت پر جو اپنا بدن گودوائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4168]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے ”اس عورت پر جو کسی کے بالوں میں بال جوڑے اور اس عورت پر جو یہ کام کروائے، اور اس عورت پر جو جسم گودے اور اس پر جو اپنا جسم گدوائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4168]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 83 (5937)، 85 (5940)، 87 (5947)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2124)، سنن الترمذی/اللباس 25 (1759)، الأدب 33 (2783)، سنن النسائی/الزینة من المجتبی 17 (5253)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1987)، (تحفة الأشراف: 8137)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/21) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بالوں میں اور بال ملا کر لمبے کرنا اور اپنا بدن گودوانا اور اس میں نیل بھرنا حرام ہے، اور جس کے بال جوڑے جائیں اور جو عورت بال جوڑے اور جو عورت اپنا بدن گودوائے اور نیل بھروائے اور جو عورت گودے اور نیل بھرے ان پر لعنت پڑتی ہے، اس لیے عورتوں کو ایسے کام کرنے اور کرانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5947) صحيح مسلم (2124)
حدیث نمبر: 4169
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْوَاصِلَاتِ، وَقَالَ عُثْمَانُ: وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، ثُمَّ اتَّفَقَا: وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ زَادَ عُثْمَانُ كَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ ثُمَّ اتَّفَقَا، فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ: بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْوَاصِلَاتِ، وَقَالَ عُثْمَانُ: وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، ثُمَّ اتَّفَقَا: وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، قَالَ عُثْمَانُ: لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، قَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ ثُمَّ قَرَأَ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: إِنِّي أَرَى بَعْضَ هَذَا عَلَى امْرَأَتِكَ، قَالَ: فَادْخُلِي فَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتِ؟ وَقَالَ عُثْمَانُ: فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: لَوْ كَانَ ذَلِكَ مَا كَانَتْ مَعَنَا".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اللہ نے جسم میں گودنے لگانے والیوں اور گودنے لگوانے والیوں پر لعنت کی ہے، (محمد کی روایت میں ہے) اور بال جوڑنے والیوں پر، (اور عثمان کی روایت میں ہے) اور اپنے بال اکھیڑنے والیوں پر، جو زیب و زینت کے واسطہ منہ کے روئیں اکھیڑتی ہیں، اور خوبصورتی کے لیے اپنے دانتوں میں کشادگی کرانے والیوں، اور اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والیوں پر۔ تو یہ خبر قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت (ام یعقوب نامی) کو پہنچی جو قرآن پڑھا کرتی تھی، تو وہ عبداللہ بن مسعود کے پاس آئی اور کہنے لگی: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں پر اور بال جوڑنے والیوں اور بال اکھیڑنے والیوں پر اور دانتوں کے درمیان کشادگی کرانے والیوں پر خوبصورتی کے لیے جو اللہ کی بنائی ہوئی شکل تبدیل کر دیتی ہیں پر لعنت کی ہے؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: میں ان پر کیوں نہ لعنت کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہو اور وہ اللہ کی کتاب کی رو سے بھی ملعون ہوں؟ تو اس عورت نے کہا: میں تو پورا قرآن پڑھ چکی ہوں لیکن یہ مسئلہ مجھے اس میں کہیں نہیں ملا؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو یہ مسئلہ ضرور پاتی پھر آپ نے آیت کریمہ «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ”اور تمہیں جو کچھ رسول دیں اسے لے لو اور جس سے منع کریں رک جاؤ“ (الحشر: ۷) پڑھی تو وہ بولی: میں نے تو اس میں سے بعض چیزیں آپ کی بیوی کو بھی کرتے دیکھا ہے، آپ نے کہا: اچھا اندر جاؤ اور دیکھو تو وہ اندر گئیں پھر باہر آئیں تو آپ نے پوچھا: تم نے کیا دیکھا ہے؟ تو اس عورت نے کہا: مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی تو آپ نے فرمایا: اگر وہ ایسا کرتی تو پھر میرے ساتھ نہ رہتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4169]
(امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے بواسطہ محمد بن عیسیٰ اور عثمان بن ابی شیبہ روایت کیا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”لعنت کی ہے اللہ نے ان عورتوں پر جو جسم گودیں اور گدوائیں۔“ محمد بن عیسیٰ نے کہا: ”اور جو بال جوڑ کر لمبے کریں۔“ عثمان نے کہا: ”اور جو چہرے کے بال اکھیڑیں، پھر دونوں شیخ روایت میں متفق ہیں۔ اور جو حسن کی خاطر دانتوں میں خلا کروائیں، اللہ کی خلقت کو تبدیل کریں۔“ یہ بات بنو اسد کی ایک عورت کو پہنچی جسے ام یعقوب کہا جاتا تھا۔ عثمان نے یہ اضافہ بیان کیا: ”اور اس نے پورا قرآن پڑھ رکھا تھا۔“ پھر دونوں شیخ روایت میں متفق ہیں، وہ خاتون سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہا: ”مجھے آپ سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ نے ان عورتوں پر لعنت کی ہے جو جسم گودیں اور گدوائیں۔“ محمد نے کہا: ”اور جو بال جوڑ کر لمبے کریں۔“ اور عثمان نے کہا: ”اور جو چہرے کے بال اکھیڑیں۔“ پھر دونوں روایت میں متفق ہیں۔ ”اور جو دانتوں میں خلا کروائیں۔“ عثمان نے کہا: ”زینت کی خاطر، اللہ کی خلقت کو بدلنے والیاں ہیں۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ”مجھے کیا ہوا کہ میں ان پر لعنت نہ کروں جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور یہ اللہ کی کتاب میں بھی وارد ہے۔“ وہ بولی: ”تحقیق میں نے پورا قرآن جو دو گتوں کے درمیان میں ہے پڑھا ہے، مجھے تو اس میں یہ حکم نہیں ملا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! اگر تو نے پڑھا ہوتا تو یقیناً پا لیتی۔“ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [سورة الحشر: 7] ”اور رسول جو کچھ تمہیں دے دیں وہ لے لو اور جس سے روک دیں اس سے رک جاؤ۔“ عورت نے کہا: ”میں ان میں سے کئی چیزیں تمہاری بیوی پر بھی دیکھتی ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”اندر جاؤ اور دیکھ لو۔“ چنانچہ وہ اندر گئی اور پھر باہر آ گئی۔ انہوں نے پوچھا: ”کیا دیکھا ہے؟“ عثمان نے کہا، عورت نے کہا: ”میں نے کچھ نہیں دیکھا۔“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر یہ ہوتا تو وہ ہمارے ساتھ نہ ہوتی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4169]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تفسیر سورة الحشر 4 (4886)، اللباس 82 (5931)، 84 (5939)، 85 (5943)، 86 (5944)، 87 (5948)، صحیح مسلم/اللباس 33 (2125)، سنن الترمذی/الأدب 33 (2782)، سنن النسائی/الزینة 24 (5102)، 26 (5110، 5111)، الزینة من المجتبی 18 (5254)، سنن ابن ماجہ/النکاح 52 (1989)، (تحفة الأشراف: 9450)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/409، 415، 434، 448، 454، 462، 465)، سنن الدارمی/الاشتذان 19 (2689) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5931) صحيح مسلم (2125)
حدیث نمبر: 4171
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيَكٌ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:" لَا بَأْسَ بِالْقَرَامِلِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَأَنَّهُ يَذْهَبُ إِلَى أَنَّ الْمَنْهِيَّ عَنْهُ شُعُورُ النِّسَاءِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَانَ أَحْمَدُ يَقُولُ الْقَرَامِلُ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.
سعید بن جبیر کہتے ہیں بالوں کی چوٹیاں بنا کر کسی چیز سے باندھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: گویا وہ اس بات کی طرف جا رہے ہیں کہ جس سے منع کیا گیا ہے وہ دوسری عورت کے بال اپنے بال میں جوڑنا ہے نہ کہ اپنے بالوں کی چوٹی باندھنی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: احمد کہتے تھے: چوٹی باندھنے میں کوئی حرج نہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4171]
جناب سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ ”دھاگوں سے بنی چوٹی (موباف) میں کوئی حرج نہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”گویا سعید رحمہ اللہ کی رائے یہ تھی کہ بالخصوص عورتوں کے بال (اور بال لگا کر) جوڑنا ہی منع ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اور ایسے ہی امام احمد رحمہ اللہ کہتے تھے کہ دھاگوں کی چوٹی کا کوئی حرج نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الترجل /حدیث: 4171]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18679) (ضعیف منکر)»
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148
إسناده ضعيف
شريك عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 148