سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء في ترك الخاتم
باب: انگوٹھی نہ پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4221
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ لُوَيْنٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ:" رَأَى فِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، فَصَنَعَ النَّاسُ، فَلَبِسُوا وَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَرَحَ النَّاسُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، وَشُعَيْبٌ، وَابْنُ مُسَافِرٍ كُلُّهُمْ قَالَ: مِنْ وَرِقٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں اور پہننے لگے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی پھینک دی تو لوگوں نے بھی پھینک دی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے زہری سے روایت کیا ہے، اور سبھوں نے «من ورق» کہا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4221]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں صرف ایک دن چاندی کی انگوٹھی دیکھی، تو لوگوں نے بھی بنوا کر پہن لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اتار پھینکی تو لوگوں نے بھی اتار پھینکیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”اس روایت کو زہری رحمہ اللہ سے زیاد بن سعد، شعیب اور ابن مسافر نے روایت کیا اور ان سب کا بیان ہے کہ انگوٹھی چاندی کی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4221]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 46 (5868)، صحیح مسلم/اللباس والزینة من المجتبی 27 (5293)، (تحفة الأشراف: 1475)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/160، 223، 225) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2094) صحيح مسلم (5868)
وانظر الحديث السابق (4216)
وانظر الحديث السابق (4216)
حدیث نمبر: 4214
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ الرُّوَاسِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى بَعْضِ الْأَعَاجِمِ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض شاہان عجم کو خط لکھنے کا ارادہ فرمایا تو آپ سے عرض کیا گیا کہ وہ ایسے خطوط کو جو بغیر مہر کے ہوں نہیں پڑھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4214]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارادہ کیا کہ ”عجمی بادشاہوں کو خط لکھیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ ”وہ لوگ مہر کے بغیر خط نہیں پڑھتے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس میں یہ کلمات کندہ تھے: «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4214]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 47 (5868)،50 (5872)، 52 (5875)، 54 (5877)، (تحفة الأشراف: 1163، 1185، 1256، 1368)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، سنن الترمذی/اللباس 14 (1739)، الشمائل 11 (92)، الاستئذان (2718)، سنن النسائی/الزینة سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3641)، 41 (3645)، مسند احمد (3/161، 170، 181، 198، 209، 223) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5872)
حدیث نمبر: 4216
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَنَسٌ، قَالَ:" كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَرِقٍ فَصُّهُ حَبَشِيٌّ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4216]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی اور اس کا نگینہ حبشی تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ اللباس 47 (5868)، صحیح مسلم/ اللباس 12 (2012)، سنن الترمذی/ اللباس 14 (1739)، سنن النسائی/ الزینة 45 (5199)، سنن ابن ماجہ/ اللباس 39 (3641)، 41 (3646)، (تحفة الأشراف: 1554)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/209، 225) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5868) صحيح مسلم (2094)
حدیث نمبر: 4217
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِضَّةٍ كُلُّهُ فَصُّهُ مِنْهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری انگوٹھی چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی چاندی کا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4217]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی ”ساری کی ساری چاندی کی تھی، اس کا نگینہ بھی اسی ہی سے تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4217]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 15 (1740)، الشمائل 11 (84)، سنن النسائی/الزینة 45 (5203)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3641)، (تحفة الأشراف: 662)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/اللباس 48 (5870) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه البخاري (5870) من حديث حميد عن أنس به وصرح بالسماع
أخرجه البخاري (5870) من حديث حميد عن أنس به وصرح بالسماع
حدیث نمبر: 4218
حَدَّثَنَا نُصَيْرُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِمَ الذَّهَبِ فَلَمَّا رَآهُمْ قَدِ اتَّخَذُوهَا رَمَى بِهِ، وَقَالَ: لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ نَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ ثُمَّ لَبِسَ الْخَاتَمَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ، عُمَرُ ثُمَّ لَبِسَهُ بَعْدَهُ عُثْمَانُ حَتَّى وَقَعَ فِي بِئْرِ أَرِيسَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَمْ يَخْتَلِفِ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ حَتَّى سَقَطَ الْخَاتَمُ مِنْ يَدِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنائی، اس کے نگینہ کو اپنی ہتھیلی کے پیٹ کی جانب رکھا اور اس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں، جب آپ نے انہیں سونے کی انگوٹھیاں پہنے دیکھا تو اسے پھینک دیا، اور فرمایا: ”اب میں کبھی اسے نہیں پہنوں گا“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس میں «محمد رسول الله» کندہ کرایا، پھر آپ کے بعد وہی انگوٹھی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نے پھر ان کے بعد عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی یہاں تک کہ وہ بئراریس میں گر پڑی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان سے لوگوں کا اختلاف اس وقت تک نہیں ہوا جب تک انگوٹھی ان کے ہاتھ میں رہی (جب وہ گر گئی تو پھر اختلافات اور فتنے رونما ہونے شروع ہو گئے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4218]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (پہلے پہل) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس کا نگینہ ہتھیلی کی جانب رکھنا شروع کیا اور اس میں «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کے الفاظ کندہ کروائے تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ لوگوں نے بھی (ویسی ہی انگوٹھیاں) بنوا لی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگوٹھی اتار پھینکی اور فرمایا: ”میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی اس میں بھی «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» ”محمد اللہ کے رسول ہیں“ کے الفاظ نقش کروائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد یہ انگوٹھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پہنی، پھر ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے پہنی حتیٰ کہ اریس نامی کنویں میں گر گئی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے اس وقت تک لوگوں نے کوئی اختلاف نہیں کیا حتیٰ کہ انگوٹھی ان کے ہاتھ سے گر گئی۔ (اس کے بعد اختلافات نے بھی سر اٹھا لیا)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4218]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 45 (5866)، الأیمان والنذور 6 (6651)، الاعتصام 4 (7298)، (تحفة الأشراف: 7832)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/اللباس 12 (2092)، سنن الترمذی/الشمائل 11 (84)، اللباس 16 (1741)، سنن النسائی/الزینة 45 (5199)، سنن ابن ماجہ/اللباس 39 (3639) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5866) صحيح مسلم (2091)
حدیث نمبر: 4224
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَزِيَادُ بْنُ يَحْيَى، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ أَبُو عَتَّابٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَكِينٍ نُوحُ بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَيْقِيبِ، وَجَدُّهُ مِنْ قِبَلِ أُمِهِ أَبُو ذُبَابٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" كَانَ خَاتَمُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ حَدِيدٍ مَلْوِيٌّ عَلَيْهِ فِضَّةٌ، قَالَ: فَرُبَّمَا كَانَ فِي يَدِهِ، قَالَ: وَكَانَ الْمُعَيْقِيبُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی اس پر چاندی کی پالش تھی کبھی کبھی وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی۔ ٍ راوی کہتے ہیں: اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے امین معیقیب تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4224]
ایاس بن حارث بن معیقیب نے اپنے دادا سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا (خیال رہے کہ ایاس کے نانا کا نام ”ابوذباب“ ہے)، انہوں نے کہا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی لوہے کی تھی جس پر چاندی کا ملمع کیا گیا تھا۔“ کہا: ”بسا اوقات وہ انگوٹھی میرے ہاتھ میں ہوتی تھی۔“ راوی نے کہا: ”سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے محافظ تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4224]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الزینة 47 (5208)، (تحفة الأشراف: 11486) (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (5208 وسنده حسن)
أخرجه النسائي (5208 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 4227
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَتَخَتَّمُ فِي يَسَارِهِ، وَكَانَ فَصُّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ ابْنُ إِسْحَاق، وَأُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، بِإِسْنَادِهِ فِي يَمِينِهِ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انگوٹھی اپنے بائیں ہاتھ میں پہنتے تھے اور اس کا نگینہ آپ کی ہتھیلی کے نچلے حصہ کی طرف ہوتا تھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن اسحاق اور اسامہ نے یعنی ابن زید نے نافع سے اسی سند سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4227]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنا کرتے تھے اور اس کا نگینہ اندر ہتھیلی کی جانب ہوا کرتا تھا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن اسحاق اور اسامہ بن زید نے نافع سے مذکورہ سند سے یہ روایت کیا: ”دائیں ہاتھ میں پہنا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7766) (شاذ)» (محفوظ اور صحیح دائیں ہاتھ میں پہننا ہے)
قال الشيخ الألباني: شاذ والمحفوظ في يمينه
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف / شاذ
ابن أبي رواد،خالفه أسامة بن زيد (مسلم : 2091) وابن إسحاق في متن الحديث وھو المحفوظ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150
إسناده ضعيف / شاذ
ابن أبي رواد،خالفه أسامة بن زيد (مسلم : 2091) وابن إسحاق في متن الحديث وھو المحفوظ
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 150