🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب مَا جَاءَ فِي رَبْطِ الأَسْنَانِ بِالذَّهَبِ
باب: سونے سے دانت بندھوانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4234
اس سند سے بھی اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4234]
عبدالرحمٰن بن طرفہ نے عرفجہ بن اسعد سے، انہوں نے اپنے والد (سیدنا عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا کہ عرفجہ (کی ناک کٹ گئی تھی) مذکورہ بالا کے ہم معنی روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4234]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4232)، (تحفة الأشراف: 9895) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
انظر الحديث السابق (4232)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4232
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ طَرَفَةَ،" أَنَّ جَدَّهُ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدَ قُطِعَ أَنْفُهُ يَوْمَ الْكُلَابِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ".
عبدالرحمٰن بن طرفہ کہتے ہیں کہ کے دادا عرفجہ بن اسعد کی ناک جنگ کلاب ۱؎ کے دن کاٹ لی گئی، تو انہوں نے چاندی کی ایک ناک بنوائی، انہیں اس کی بدبو محسوس ہوئی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا، تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4232]
عبدالرحمٰن بن طرفہ رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ معرکہ کلاب میں میرے دادا عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کی ناک کٹ گئی تھی، تو انہوں نے چاندی کی بنوائی، مگر اس میں بو پڑ گئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے سونے کی ناک بنوا لی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخاتم /حدیث: 4232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/اللباس 31 (1770)، سنن النسائی/الزینة 41 (5164)، (تحفة الأشراف: 8995)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/342، 5/23) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: بصرہ اور کوفہ کے مابین ایک چشمہ کا نام ہے، زمانہ جاہلیت میں یہاں ایک جنگ ہوئی تھی (النہا یۃ لا بن الا ثیر)
۲؎: اگرچہ حدیث میں دانت بندھوانے کا ذکر نہیں ہے، مگر مصنف نے دانت کو ناک پر قیاس کیا کہ جب ناک جو ایک عضو ہے سونے کی بنوانی جائز ہے تو سونے سے دانتوں کا بندھوانا بھی جائز ہو گا، اسی لئے دانت بندھوانے کا باب باندھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4400)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں