🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب في صاحب الحد يجيء فيقر
باب: جس نے حد کا کام کیا پھر خود آ کر اقرار جرم کیا اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4379
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا الْفِّرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا فَصَاحَتْ وَانْطَلَقَ فَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، وَمَرَّتْ عِصَابَةٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَتْ: إِنَّ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَانْطَلَقُوا فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا فَأَتَوْهَا بِهِ فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا، فَأَتَوْا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا صَاحِبُهَا، فَقَالَ لَهَا: اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي الرَّجُلَ الْمَأْخُوذَ، وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا ارْجُمُوهُ، فَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ أَيْضًا، عَنْ سِمَاكٍ.
وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نماز پڑھنے کے ارادہ سے نکلی تو اس سے ایک مرد ملا اور اسے دبوچ لیا، اور اس سے اپنی خواہش پوری کی تو وہ چلائی، وہ جا چکا تھا، اتنے میں اس کے پاس سے ایک اور شخص گزرا تو وہ کہنے لگی کہ اس (فلاں) نے میرے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، اتنے میں مہاجرین کی ایک جماعت بھی آ گئی ان سے بھی اس نے یہی کہا کہ اس نے اس کے ساتھ ایسا ایسا کیا ہے، تو وہ سب گئے اور اس شخص کو پکڑا جس کے متعلق اس نے کہا تھا کہ اس نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے، اور اسے لے کر آئے، تو اس نے کہا: ہاں اسی نے کیا ہے، چنانچہ وہ لوگ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلسلہ میں حکم دیا (کہ اس پر حد جاری کی جائے) یہ دیکھ کر اصل شخص جس نے اس سے صحبت کی تھی کھڑا ہو گیا، اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! فی الواقع یہ کام میں نے کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: تم جاؤ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بخش دیا (کیونکہ یہ تیری رضا مندی سے نہیں ہوا تھا) اور اس آدمی سے بھلی بات کہی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مراد وہ آدمی ہے (ناحق) جو پکڑا گیا تھا، اور اس آدمی کے متعلق جس نے زنا کیا تھا فرمایا: اس کو رجم کر دو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ سارے مدینہ کے لوگ ایسی توبہ کریں تو ان کی طرف سے وہ قبول ہو جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4379]
جناب علقمہ بن وائل اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت نماز کے ارادے سے نکلی تو راستے میں اسے ایک مرد ملا جو اس پر چڑھ بیٹھا اور اس سے اپنی نفسانی خواہش پوری کی، وہ چیخی چلائی اور وہ چلا گیا۔ پھر عورت کے پاس سے ایک اور آدمی گزرا تو وہ عورت بولی: یہی ہے وہ جس نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے۔ مہاجرین کی ایک جماعت وہاں سے گزری تو عورت نے کہا: بے شک اس آدمی نے میرے ساتھ ایسے ایسے کیا ہے۔ تو وہ گئے اور اسے پکڑ لائے جس کے بارے میں اس نے گمان کیا کہ اس نے اس کے ساتھ مباشرت کی ہے۔ وہ اسے پکڑ کر عورت کے پاس لائے تو اس نے کہا: ہاں، یہی ہے وہ۔ پس وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا (یعنی حد لگانے کا) تو اصل مجرم، جو عورت کے ساتھ ملوث ہوا تھا، کھڑا ہو گیا اور بولا: اے اللہ کے رسول! اس کا مجرم میں ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: تم جاؤ، اللہ نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ اور اس آدمی کے متعلق اچھے کلمات فرمائے۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: یعنی اس آدمی کے متعلق جو (شبہے میں) پکڑا گیا تھا۔ اور جو مرتکب ہوا تھا اس کے متعلق فرمایا: اسے رجم کر دو۔ پھر فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے، اگر یہ (توبہ) اہل مدینہ کرتے تو بھی قبول کر لی جاتی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو اسباط بن نصر نے بھی سماک سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4379]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الحدود 22 (1454)، (تحفة الأشراف: 11770)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/399) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن دون قوله ارجموه والأرجح أنه لم يرجم
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3572)
أخرجه الترمذي (1454 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4440
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ هِشَامًا الدَّسْتُوَائِيَّ، وَأَبَانَ ابْنَ يَزِيدَ، حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ امْرَأَةً، قَالَ فِي حَدِيثِ أَبَانَ: مِنْ جُهَيْنَةَ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنَّهَا زَنَتْ وَهِيَ حُبْلَى، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيًّا لَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَجِئْ بِهَا، فَلَمَّا أَنْ وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَصَلُّوا عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِّمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا"، لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبَانَ، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، اور وہ حاملہ ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا، اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا، اور جب یہ حمل وضع کر چکے تو اسے لے کر آنا چنانچہ جب وہ حمل وضع کر چکی تو وہ اسے لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی، عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم اس کی نماز جنازہ پڑھیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو انہیں کافی ہو گی، کیا تم اس سے بہتر کوئی بات پاؤ گے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی؟۔ ابان کی روایت میں اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4440]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی، ابان کی روایت میں ہے کہ وہ قبیلہ جہینہ سے تھی۔ اس نے کہا: میں نے زنا کیا ہے اور حمل سے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو طلب کیا اور اس سے فرمایا: اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب بچے کی ولادت ہو جائے تو اس (عورت) کو لے آنا۔ چنانچہ جب بچے کی ولادت ہو گئی تو وہ اسے لے آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس پر اس کے کپڑے سخت کر کے باندھ دیے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اس پر نماز (جنازہ) پڑھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دیں تو انہیں بھی کافی ہو جائے، اور کیا بھلا تم نے اس سے بڑھ کر بھی کوئی دیکھا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی ہے؟ ابان سے کپڑے سخت کر کے باندھنے کی بات مروی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن الترمذی/الحدود 9 (1435)، سنن النسائی/الجنائز 64 (1959)، سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2555)، (تحفة الأشراف: 10879، 10881)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4 /420، 435، 437، 440)، دي /الحدود 18 (2370) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1696)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں