🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

25. باب الْمَرْأَةِ الَّتِي أَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَجْمِهَا مِنْ جُهَيْنَةَ
باب: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4440
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ هِشَامًا الدَّسْتُوَائِيَّ، وَأَبَانَ ابْنَ يَزِيدَ، حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ امْرَأَةً، قَالَ فِي حَدِيثِ أَبَانَ: مِنْ جُهَيْنَةَ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنَّهَا زَنَتْ وَهِيَ حُبْلَى، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيًّا لَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَجِئْ بِهَا، فَلَمَّا أَنْ وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَصَلُّوا عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِّمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا"، لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبَانَ، فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اور اس نے عرض کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، اور وہ حاملہ ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا، اور اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا، اور جب یہ حمل وضع کر چکے تو اسے لے کر آنا چنانچہ جب وہ حمل وضع کر چکی تو وہ اسے لے کر آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا، پھر آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو لوگوں نے اس کے جنازہ کی نماز پڑھی، عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہم اس کی نماز جنازہ پڑھیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دی جائے تو انہیں کافی ہو گی، کیا تم اس سے بہتر کوئی بات پاؤ گے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی؟۔ ابان کی روایت میں اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے کے الفاظ نہیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4440]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی، ابان کی روایت میں ہے کہ وہ قبیلہ جہینہ سے تھی۔ اس نے کہا: میں نے زنا کیا ہے اور حمل سے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو طلب کیا اور اس سے فرمایا: اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا اور جب بچے کی ولادت ہو جائے تو اس (عورت) کو لے آنا۔ چنانچہ جب بچے کی ولادت ہو گئی تو وہ اسے لے آیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس پر اس کے کپڑے سخت کر کے باندھ دیے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا اور اسے رجم کر دیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے اس پر نماز (جنازہ) پڑھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ اس پر نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اسے اہل مدینہ کے ستر آدمیوں میں تقسیم کر دیں تو انہیں بھی کافی ہو جائے، اور کیا بھلا تم نے اس سے بڑھ کر بھی کوئی دیکھا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی ہے؟ ابان سے کپڑے سخت کر کے باندھنے کی بات مروی نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4440]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 5 (1696)، سنن الترمذی/الحدود 9 (1435)، سنن النسائی/الجنائز 64 (1959)، سنن ابن ماجہ/الحدود 9 (2555)، (تحفة الأشراف: 10879، 10881)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4 /420، 435، 437، 440)، دي /الحدود 18 (2370) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1696)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4441
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا يَعْنِي فَشُدَّتْ.
اوزاعی سے مروی ہے اس میں ہے «فشكت عليها ثيابها» کے معنی یہ ہیں کہ اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے تھے (تاکہ پتھر مارنے میں وہ نہ کھلیں)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4441]
جناب اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا: اس پر اس کے کپڑے سخت کر کے باندھے گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4441]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 10881) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (4440)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4442
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً يَعْنِي مِنْ غَامِدَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنِّي قَدْ فَجَرْتُ، فَقَالَ: ارْجِعِي فَرَجَعَتْ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْغَدُ أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: لَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى، فَقَالَ لَهَا: ارْجِعِي فَرَجَعَتْ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ أَتَتْهُ، فَقَالَ لَهَا: ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي فَرَجَعَتْ، فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ، فَقَالَتْ: هَذَا قَدْ وَلَدْتُهُ، فَقَالَ لَهَا: ارْجِعِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ فَجَاءَتْ بِهِ وَقَدْ فَطَمَتْهُ وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ يَأْكُلُهُ، فَأَمَرَ بِالصَّبِيِّ فَدُفِعَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا وَأَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، وَكَانَ خَالِدٌ فِيمَنْ يَرْجُمُهَا فَرَجَمَهَا بِحَجَرٍ فَوَقَعَتْ قَطْرَةٌ مِنْ دَمِهَا عَلَى وَجْنَتِهِ فَسَبَّهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا يَا خَالِدُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ، وَأَمَرَ بِهَا فَصُلِّيَ عَلَيْهَا فَدُفِنَتْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا: میں نے زنا کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، چنانچہ وہ واپس چلی گئی، دوسرے دن وہ پھر آئی، اور کہنے لگی: شاید جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا، اسی طرح مجھے بھی لوٹا رہے ہیں، قسم اللہ کی میں تو حاملہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ چنانچہ وہ پھر واپس چلی گئی، پھر تیسرے دن آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ بچہ پیدا ہو جائے پھر آنا چنانچہ وہ چلی گئی، جب اس نے بچہ جن دیا تو بچہ کو لے کر پھر آئی، اور کہا: اسے میں جن چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو دودھ چھڑا کر پھر وہ لڑکے کو لے کر آئی، اور بچہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا، تو بچہ کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ اسے مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دے دیا جائے، اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لیے گڈھا کھودا جائے، اور حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے، تو وہ رجم کر دی گئی۔ خالد رضی اللہ عنہ اسے رجم کرنے والوں میں سے تھے انہوں نے اسے ایک پتھر مارا تو اس کے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر آ کر گرا تو اسے برا بھلا کہنے لگے، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بھی بخشش ہو جاتی، پھر آپ نے حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4442]
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بنوغامد کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں نے بدکاری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس چلی جا۔ تو وہ لوٹ گئی۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئی اور بولی: شاید آپ مجھے اسی طرح لوٹا دینا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے ماعز بن مالک کو واپس کیا تھا۔ اللہ کی قسم! میں حاملہ ہوں (یعنی زنا سے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا واپس چلی جا۔ تو وہ لوٹ گئی۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلی جا حتیٰ کہ تیرے بچے کی ولادت ہو جائے۔ تو وہ واپس لوٹ گئی۔ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ بچے کو لے کر آ گئی اور کہنے لگی: یہ رہا وہ، اس کو میں نے جنم دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس جا اور اس کو دودھ پلا حتیٰ کہ تو اس کا دودھ چھڑا دے۔ وہ پھر اسے لے کر آئی جب کہ اس نے اس کا دودھ چھڑا دیا تھا، بچے کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے متعلق حکم دیا جو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے حوالے کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق حکم دیا تو اس کے لیے گڑھا کھودا گیا اور حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں تھے جو اسے پتھر مار رہے تھے۔ انہوں نے اس کو ایک پتھر مارا تو اس سے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر جا لگا، اس کی وجہ سے انہوں نے اس کو برا بھلا کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: خالد! ذرا ٹھہرو (اس کو برا بھلا مت کہو) قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اس قدر توبہ کی ہے کہ اگر کوئی ظالم بھتا لینے والا بھی اس قدر توبہ کرتا تو بخش دیا جاتا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا، چنانچہ اس پر نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور پھر اسے دفن بھی کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 5 (1695)، (تحفة الأشراف: 1947)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/547، 348)، سنن الدارمی/الحدود 14 (2366) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1695)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4443
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ زَكَرِيَّا أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَحُفِرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَفْهَمَنِي رَجُلٌ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْغَسَّانِيُّ: جُهَيْنَةُ، وَغَامِدٌ، وَبَارِقٌ وَاحِدٌ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کرنا چاہا تو اس کے لیے ایک گڈھا سینے تک کھودا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غسانی کا کہنا ہے کہ جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلہ ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4443]
ابن ابی بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا تو اس کے لیے سینے تک گڑھا کھودا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یہ حدیث ایک آدمی نے سمجھائی۔ (وہ عثمان سے کماحقہ نہیں سمجھ سکے تھے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے (مزید) کہا کہ غسانی نے کہا: جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلے (کے نام) ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11684)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 42، 43) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه شيخ مجھول
والحديث السابق (الأصل : 4442) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4444
قَالَ أَبُو دَاوُد: حُدِّثْتُ عَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ سُلَيْمٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، زَادَ ثُمَّ رَمَاهَا بِحَصَاةٍ مِثْلَ الْحِمِّصَةِ، ثُمَّ قَالَ: ارْمُوا وَاتَّقُوا الْوَجْهَ، فَلَمَّا طَفِئَتْ أَخْرَجَهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَقَالَ فِي التَّوْبَةِ نَحْوَ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ.
ابوداؤد کہتے ہیں مجھ سے یہ حدیث عبدالصمد بن عبدالوارث کے واسطہ سے بیان کی گئی ہے، زکریا بن سلیم نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی ہے، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چنے کے برابر ایک کنکری سے مارا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مارو لیکن چہرے کو بچا کر مارنا پھر جب وہ مر گئی تو آپ نے اسے نکالا، پھر اس پر نماز پڑھی، اور توبہ کے سلسلہ میں ویسے ہی فرمایا جیسے بریدہ کی روایت میں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4444]
زکریا بن سلیم نے اپنی سند سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا اور مزید کہا پھر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) اسے ایک کنکری ماری جیسے کہ چنا ہو اور فرمایا: مارو لیکن چہرہ بچاؤ۔ جب وہ ٹھنڈی ہو گئی تو اس کو گڑھے سے نکالا اور اس پر نماز (جنازہ) پڑھی اور اس کی توبہ میں اس طرح بیان کیا، جیسے کہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کی حدیث (4442) میں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 11684) (ضعیف)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شيخ أبي داود مجھول
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4445
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ" أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَكَانَ أَفْقَهَهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ وَائْذَنْ لِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: تَكَلَّمْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا الْأَسْلَمِيَّ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ رَجَمَهَا، فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا".
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے، ان میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! ہمارے مابین اللہ کی کتاب کی روشنی میں فیصلہ فرما دیجئیے، اور دوسرے نے جو ان دونوں میں زیادہ سمجھ دار تھا کہا: ہاں، اللہ کے رسول! ہمارے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ فرمائیے، لیکن پہلے مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا: اچھا کہو اس نے کہنا شروع کیا: میرا بیٹا اس کے یہاں «عسیف» یعنی مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، تو میں نے اسے اپنی سو بکریاں اور ایک لونڈی فدیئے میں دے دی، پھر میں نے اہل علم سے مسئلہ پوچھا، تو ان لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم اس کی بیوی پر ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں ضرور بالضرور تم دونوں کے درمیان اللہ کی کتاب سے فیصلہ کروں گا، رہی تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تو یہ تمہیں واپس ملیں گی اور اس کے بیٹے کو آپ نے سو کوڑے لگوائے، اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کر دیا، اور انیس اسلمی کو حکم دیا کہ وہ اس دوسرے شخص کی بیوی کے پاس جائیں، اور اس سے پوچھیں اگر وہ اقرار کرے تو اسے رجم کر دیں، چنانچہ اس نے اقرار کر لیا، تو انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4445]
سیدنا ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنا جھگڑا لے کر آئے۔ ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کر دیں۔ اور دوسرے نے کہا، اور وہ اس سے بڑھ کر سمجھدار تھا: ہاں اے اللہ کے رسول! ہم میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرما دیں اور مجھے اجازت دیں کہ بات کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس شخص کے ہاں نوکر تھا، «عَسِيف» کے معنی ہیں نوکر، مزدور، تو اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا۔ لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم ہے، میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی فدیہ دی ہے۔ پھر میں نے اہل علم سے معلوم کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کے لیے شہر بدری ہے اور سنگساری اس کی بیوی پر ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں تم میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ تیری بکریاں اور تیری لونڈی تجھے واپس ہوں گی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لڑکے کو سو کوڑے لگائے اور ایک سال کے لیے شہر بدر کر دیا اور انیس اسلمی رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائے، اگر وہ اعتراف کر لے تو اس کو سنگسار کر دے، چنانچہ اس نے اعتراف کر لیا تو انہوں نے اس کو سنگسار کر دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْحُدُودِ/حدیث: 4445]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوکالة 13 (2314)، الصلح 5 (2655)، الشروط 9 (2724)، الأیمان 3 (6633)، الحدود 30 (6827)، 34 (6835)، 38 (6859)، 46 (6860)، الأحکام 43 (7193)، الأحاد 1 (7258)، صحیح مسلم/الحدود 5 (1697)، سنن الترمذی/الحدود 8 (1433)، سنن النسائی/آداب القضاة 21 (5412)، سنن ابن ماجہ/الحدود 7 (2549)، (تحفة الأشراف: 3755)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحدود 1 (6)، مسند احمد (4/115، 116)، سنن الدارمی/الحدود 12 (2363) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6633، 6634) صحيح مسلم (1698)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں