🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب المرأة التي أمر النبي صلى الله عليه وسلم برجمها من جهينة
باب: قبیلہ جہینہ کی ایک عورت کا ذکر جسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کرنے کا حکم دیا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4443
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ زَكَرِيَّا أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ امْرَأَةً فَحُفِرَ لَهَا إِلَى الثَّنْدُوَةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: أَفْهَمَنِي رَجُلٌ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْغَسَّانِيُّ: جُهَيْنَةُ، وَغَامِدٌ، وَبَارِقٌ وَاحِدٌ.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کرنا چاہا تو اس کے لیے ایک گڈھا سینے تک کھودا گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غسانی کا کہنا ہے کہ جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلہ ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4443]
ابن ابی بکرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو رجم کیا تو اس کے لیے سینے تک گڑھا کھودا گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے یہ حدیث ایک آدمی نے سمجھائی۔ (وہ عثمان سے کماحقہ نہیں سمجھ سکے تھے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے (مزید) کہا کہ غسانی نے کہا: جہینہ، غامد اور بارق تینوں ایک ہی قبیلے (کے نام) ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4443]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11684)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/36، 42، 43) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
فيه شيخ مجھول
والحديث السابق (الأصل : 4442) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4442
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ امْرَأَةً يَعْنِي مِنْ غَامِدَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ:" إِنِّي قَدْ فَجَرْتُ، فَقَالَ: ارْجِعِي فَرَجَعَتْ، فَلَمَّا أَنْ كَانَ الْغَدُ أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: لَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَى، فَقَالَ لَهَا: ارْجِعِي فَرَجَعَتْ، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ أَتَتْهُ، فَقَالَ لَهَا: ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي فَرَجَعَتْ، فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ، فَقَالَتْ: هَذَا قَدْ وَلَدْتُهُ، فَقَالَ لَهَا: ارْجِعِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ فَجَاءَتْ بِهِ وَقَدْ فَطَمَتْهُ وَفِي يَدِهِ شَيْءٌ يَأْكُلُهُ، فَأَمَرَ بِالصَّبِيِّ فَدُفِعَ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا وَأَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ، وَكَانَ خَالِدٌ فِيمَنْ يَرْجُمُهَا فَرَجَمَهَا بِحَجَرٍ فَوَقَعَتْ قَطْرَةٌ مِنْ دَمِهَا عَلَى وَجْنَتِهِ فَسَبَّهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْلًا يَا خَالِدُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ، وَأَمَرَ بِهَا فَصُلِّيَ عَلَيْهَا فَدُفِنَتْ".
بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ غامد کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا: میں نے زنا کر لیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس جاؤ، چنانچہ وہ واپس چلی گئی، دوسرے دن وہ پھر آئی، اور کہنے لگی: شاید جیسے آپ نے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا، اسی طرح مجھے بھی لوٹا رہے ہیں، قسم اللہ کی میں تو حاملہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ چنانچہ وہ پھر واپس چلی گئی، پھر تیسرے دن آئی تو آپ نے اس سے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ بچہ پیدا ہو جائے پھر آنا چنانچہ وہ چلی گئی، جب اس نے بچہ جن دیا تو بچہ کو لے کر پھر آئی، اور کہا: اسے میں جن چکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ واپس جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ یہاں تک کہ اس کا دودھ چھڑا دو دودھ چھڑا کر پھر وہ لڑکے کو لے کر آئی، اور بچہ کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا، تو بچہ کے متعلق آپ نے حکم دیا کہ اسے مسلمانوں میں سے کسی شخص کو دے دیا جائے، اور اس کے متعلق حکم دیا کہ اس کے لیے گڈھا کھودا جائے، اور حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے، تو وہ رجم کر دی گئی۔ خالد رضی اللہ عنہ اسے رجم کرنے والوں میں سے تھے انہوں نے اسے ایک پتھر مارا تو اس کے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر آ کر گرا تو اسے برا بھلا کہنے لگے، ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خالد! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ ٹیکس اور چنگی وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اس کی بھی بخشش ہو جاتی، پھر آپ نے حکم دیا تو اس کی نماز جنازہ پڑھی گئی اور اسے دفن کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4442]
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بنوغامد کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: میں نے بدکاری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واپس چلی جا۔ تو وہ لوٹ گئی۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئی اور بولی: شاید آپ مجھے اسی طرح لوٹا دینا چاہتے ہیں جس طرح آپ نے ماعز بن مالک کو واپس کیا تھا۔ اللہ کی قسم! میں حاملہ ہوں (یعنی زنا سے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: جا واپس چلی جا۔ تو وہ لوٹ گئی۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس چلی جا حتیٰ کہ تیرے بچے کی ولادت ہو جائے۔ تو وہ واپس لوٹ گئی۔ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ بچے کو لے کر آ گئی اور کہنے لگی: یہ رہا وہ، اس کو میں نے جنم دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: واپس جا اور اس کو دودھ پلا حتیٰ کہ تو اس کا دودھ چھڑا دے۔ وہ پھر اسے لے کر آئی جب کہ اس نے اس کا دودھ چھڑا دیا تھا، بچے کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جسے وہ کھا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کے متعلق حکم دیا جو مسلمانوں میں سے ایک آدمی کے حوالے کر دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق حکم دیا تو اس کے لیے گڑھا کھودا گیا اور حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا۔ اور سیدنا خالد رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں تھے جو اسے پتھر مار رہے تھے۔ انہوں نے اس کو ایک پتھر مارا تو اس سے خون کا ایک قطرہ ان کے رخسار پر جا لگا، اس کی وجہ سے انہوں نے اس کو برا بھلا کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: خالد! ذرا ٹھہرو (اس کو برا بھلا مت کہو) قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے اس قدر توبہ کی ہے کہ اگر کوئی ظالم بھتا لینے والا بھی اس قدر توبہ کرتا تو بخش دیا جاتا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا، چنانچہ اس پر نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور پھر اسے دفن بھی کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4442]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الحدود 5 (1695)، (تحفة الأشراف: 1947)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/547، 348)، سنن الدارمی/الحدود 14 (2366) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1695)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں