سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب إذا أقر الرجل بالزنا ولم تقر المرأة
باب: جب مرد زنا کا اقرار کرے اور عورت انکار کرے تو کیا ہو گا؟
حدیث نمبر: 4467
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ فَيَّاضٍ الْأَبْنَاوِيِّ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ:" أَنّ رَجُلًا مِنْ بَكْرِ بْنِ لَيْثٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ،فَجَلَدَهُ مِائَةً وَكَانَ بِكْرًا ثُمَّ سَأَلَهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمَرْأَة، فَقَالَتْ: كَذَبَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَلَدَهُ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، وہ کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا: قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے، اللہ کے رسول! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی (۸۰) کوڑے لگائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4467]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کا ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس نے چار بار یہ اقرار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سو کوڑے لگائے، اس لیے کہ وہ غیر شادی شدہ تھا، پھر اس سے عورت پر گواہی لی، تو عورت نے کہا: ”اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! یہ جھوٹ بولتا ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تہمت کی حد اسی کوڑے لگائی۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5664) (منکر)»
قال الشيخ الألباني: منكر
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (7348)
القاسم بن فياض مختلف فيه،وضعفه ابن معين وغيره،والجرح مقدم وفي التحرير (5483) ’’ضعيف ‘‘
وقال الحافظ ابن حجر في التقريب :’’ مجهول ‘‘ (!)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (7348)
القاسم بن فياض مختلف فيه،وضعفه ابن معين وغيره،والجرح مقدم وفي التحرير (5483) ’’ضعيف ‘‘
وقال الحافظ ابن حجر في التقريب :’’ مجهول ‘‘ (!)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 157
حدیث نمبر: 4437
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ؟ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے آپ سے نام لیا، زنا کیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا، اور اس کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے اس بات سے انکار کیا کہ اس نے زنا کیا ہے، تو آپ نے اس مرد پر حد نافذ کی، اسے سو کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4437]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ بدکاری کی ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس واقعہ کے متعلق دریافت کیا تو اس نے بدکاری سے انکار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو حد کے (سو) کوڑے لگائے اور اس عورت کو چھوڑ دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4437]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4705)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/339، 340)، ویأتی برقم (4466) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4466
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4466]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کرنے کا اقرار کیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس عورت کا نام بھی لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا تو عورت نے زنا سے انکار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو حد کے کوڑے لگائے اور عورت کو چھوڑ دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الحدود /حدیث: 4466]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (4437)، (تحفة الأشراف: 4705) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
انظر الحديث السابق (4437)
انظر الحديث السابق (4437)