🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. باب يقاد من القاتل
باب: قاتل سے قصاص لیے جانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4529
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً كَانَ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ لَهَا فَرَضَخَ رَأْسَهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقَالَ لَهَا: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ فَقَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: مَنْ قَتَلَكِ فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ قَالَتْ: لَا بِرَأْسِهَا، قَالَ: فُلَانٌ قَتَلَكِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ بِرَأْسِهَا، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُتِلَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے، ابھی اس میں جان باقی تھی، آپ نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا؟ فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: کیا فلاں نے کیا ہے؟ اس نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، تو اسے دو پتھروں کے درمیان (کچل کر) مار ڈالا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4529]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی اپنے چاندی کے زیور پہنے ہوئے تھی کہ ایک یہودی نے پتھر سے اس کا سر کچل دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس لڑکی کے پاس آئے جب کہ (ابھی) اس میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے؟ کیا فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تجھے کس نے قتل کیا ہے، کیا فلاں نے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا فلاں نے تجھے قتل کیا ہے؟ اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا: ہاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اسے دو پتھروں میں رکھ کر قتل کیا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4527)، (تحفة الأشراف: 1631) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6877) صحيح مسلم (1672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4527
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4527]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی پائی گئی کہ اس کا سر دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا گیا تھا (اور ابھی اس میں زندگی کی رمق باقی تھی) تو اس سے پوچھا گیا: یہ تیرے ساتھ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ حتیٰ کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا۔ (ہاں) تو اس یہودی کو پکڑا گیا اور پھر اس نے اعتراف کر لیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھروں سے کچلا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4527]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الوصایا 5 (2746)، والطلاق 24 (تعلیقاً)، الدیات 4 (6876)، 5 (6877)، 12 (6884)، صحیح مسلم/القسامة 3 (1672)، سنن الترمذی/الدیات 6 (1394)، سنن النسائی/المحاربة 7 (4049)، القسامة 8 (4746)، سنن ابن ماجہ/الدیات 24 (2665)، (تحفة الأشراف: 1391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163، 183، 203، 267)، سنن الدارمی/الدیات 4 (2400) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2746) صحيح مسلم (1672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4528
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ يَهُودِيًّا قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ، فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ، فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ نَحْوَهُ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اسے رجم کر دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4528]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری لڑکی کو قتل کر دیا جو کچھ زیور پہنے ہوئے تھی، اور پھر ایک کنویں میں پھینک دیا اور اس کا سر پتھر سے کچل دیا۔ پھر اسے پکڑ لیا گیا تو اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے سنگسار کیا جائے حتیٰ کہ مر جائے۔ چنانچہ اسے سنگسار کیا گیا، حتیٰ کہ وہ مر گیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس روایت کو ابن جریح نے ایوب سے اسی کی مانند روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/ الحدود 3 (1672)، سنن النسائی/ المحاربة 7 (4049)، (تحفة الأشراف: 950)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/163) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1672)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4535
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ:" أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا: تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں، چنانچہ اس یہودی کو پکڑا گیا، اس نے اقبال جرم کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4535]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک لڑکی پائی گئی جس کا سر دو پتھروں میں رکھ کر کچل دیا گیا تھا، تو اس سے پوچھا گیا: تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے؟ کیا فلاں نے؟ کیا فلاں نے؟ حتیٰ کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کیا (کہ ہاں)۔ وہ یہودی پکڑ لیا گیا تو اس نے اقرار کر لیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچلا جائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الديات /حدیث: 4535]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر حدیث رقم: (4527)، (تحفة الأشراف: 1391) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2746) صحيح مسلم (1672)
وانظر الحديث السابق (4527)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں