سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب لزوم السنة
باب: سنت پر عمل کرنے کی دعوت دینے والوں کے اجر و ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ:" كُنْتُ أَسِيرُ بِالشَّامِ فَنَادَانِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَوْنٍ مَا هَذَا الَّذِي يَذْكُرُونَ، عَنِ الْحَسَنِ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَى الْحَسَنِ كَثِيرًا".
ابن عون کہتے ہیں کہ میں ملک شام میں چل رہا تھا تو ایک شخص نے پیچھے سے مجھے پکارا جب میں مڑا تو دیکھا رجاء بن حیوہ ہیں، انہوں نے کہا: اے ابوعون! یہ کیا ہے جو لوگ حسن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں؟ میں نے کہا: لوگ حسن پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4621]
جناب ابن عون رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”میں ملک شام میں تھا کہ پیچھے سے کسی نے مجھ کو آواز دی۔ میں متوجہ ہوا تو دیکھا کہ جناب رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ تھے۔“ انہوں نے کہا: ”ابو عون! یہ کیا باتیں ہیں جو لوگ حسن بصری رحمہ اللہ کے متعلق کہہ رہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”یہ لوگ حسن رحمہ اللہ پر بہت جھوٹ بول رہے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18523، 18639) (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: حسن بصری رحمہ اللہ سے متعلق خصوصا جھوٹے صوفیوں نے بہت سا کفر و شرک گھڑ رکھا ہے، اعاذنااللہ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
سليم صوابه سليمان وھو أبو خالد سليمان بن حيان الأحمر مدلس (جزء القرا ء ة بتحقيقي : 267) وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
إسناده ضعيف
سليم صوابه سليمان وھو أبو خالد سليمان بن حيان الأحمر مدلس (جزء القرا ء ة بتحقيقي : 267) وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 163
حدیث نمبر: 4618
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ:" قَدِمَ عَلَيْنَا الْحَسَنُ مَكَّةَ، فَكَلَّمَنِي فُقَهَاءُ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ أُكَلِّمَهُ فِي أَنْ يَجْلِسَ لَهُمْ يَوْمًا يَعِظُهُمْ فِيهِ، فَقَالَ: نَعَمْ، فَاجْتَمَعُوا فَخَطَبَهُمْ فَمَا رَأَيْتُ أَخْطَبَ مِنْهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَلَقَ الشَّيْطَانَ؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ! خَلَقَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ وَخَلَقَ الْخَيْرَ وَخَلَقَ الشَّرَّ، قَالَ الرَّجُلُ: قَاتَلَهُمُ اللَّهُ كَيْفَ يَكْذِبُونَ عَلَى هَذَا الشَّيْخِ".
حمید کہتے ہیں کہ حسن ہمارے پاس مکہ تشریف لائے تو اہل مکہ کے فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے درخواست کروں کہ وہ ان کے لیے ایک دن نشست رکھیں، اور وعظ فرمائیں، وہ اس کے لیے راضی ہو گئے تو لوگ اکٹھا ہوئے اور آپ نے انہیں خطاب کیا، میں نے ان سے بڑا خطیب کسی کو نہیں دیکھا، ایک شخص نے سوال کیا: اے ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق ہے؟ اللہ نے شیطان کو پیدا کیا اور اسی نے خیر پیدا کیا، اور شر پیدا کیا، وہ شخص بولا: اللہ انہیں غارت کرے، کس طرح یہ لوگ اس بزرگ پر جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4618]
جناب حمید نے بیان کیا کہ سیدنا حسن بصری رضی اللہ عنہ مکہ آئے تو وہاں کے علماء و فقہاء نے مجھ سے کہا کہ میں ان سے یہ کہوں کہ وہ ایک دن ہمیں وعظ سنائیں۔ تو انہوں نے قبول کر لیا۔ چنانچہ وہ جمع ہو گئے اور حسن بصری رضی اللہ عنہ نے درس دیا تو میں نے ان سے بڑھ کر کسی کو خطیب نہ پایا۔ ایک آدمی نے پوچھا: ”ابوسعید! شیطان کو کس نے پیدا کیا ہے؟“ وہ کہنے لگے: ” «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، بھلا اللہ کے سوا بھی کوئی خالق ہے؟ اللہ ہی نے شیطان کو پیدا کیا ہے۔ خیر اور شر کا خالق وہی ہے۔“ تو وہ آدمی کہنے لگا: ”اللہ ان کو ہلاک کرے (نامعلوم) کس بنا پر وہ اس شیخ پر جھوٹ بولتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18509) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ہمیشہ اہل بدعت کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ موحدین اور صحیح عقیدہ والوں پر افتراءات باندھتے رہتے ہیں، کچھ لوگوں نے حسن بصری کے متعلق بھی اسی طرح کے بہتان لگائے تھے اسی کی طرف اشارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح