🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في الخلفاء
باب: خلفاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4645
حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، قَالَ: جَمَّعْتُ مَعَ الْحَجَّاجِ فَخَطَبَ، فَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، قَالَ فِيهَا:" فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِخَلِيفَةِ اللَّهِ، وَصَفِيِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ"، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَلَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ، وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْحَمْرَاءِ.
سلیمان الاعمش کہتے ہیں میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی، اس نے خطبہ دیا، پھر راوی ابوبکر بن عیاش والی روایت (۴۶۴۳) ذکر کی، اس میں ہے کہ اس نے کہا: سنو اور اللہ کے خلیفہ اور اس کے منتخب عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرو، اس کے بعد آگے کی حدیث بیان کی اور کہا: اگر میں مضر کے جرم میں ربیعہ کو پکڑوں (تو یہ غلط نہ ہو گا) اور عجمیوں والی بات کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4645]
شریک نے سلیمان اعمش سے روایت کیا، انہوں نے کہا: میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ پڑھا تو اس نے خطبہ دیا، اور ابوبکر بن عیاش والی (مذکورہ بالا) حدیث (4643) بیان کی۔ اس نے کہا: اللہ کے خلیفہ اور اس کے منتخب عبدالملک بن مروان کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ اور حدیث بیان کی۔ مزید کہا: اور اگر میں مضر کے بدلے ربیعہ کی گرفت کروں۔ اور عجمیوں کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر رقم: (4643)، (تحفة الأشراف: 18851) (صحیح إلی الحجاج)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح إلى الحجاج الظالم
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
شريك القاضي مدلس وعنعن
والحديث السابق (الأصل : 4643) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 164

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، يَقُولُ:" اتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ، وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَاللَّهِ لَوْ أَمَرْتُ النَّاسَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَخَرَجُوا مِنْ بَابٍ آخَرَ لَحَلَّتْ لِي دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَاللَّهِ لَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ لَكَانَ ذَلِكَ لِي مِنَ اللَّهِ حَلَالًا، وَيَا عَذِيرِي مِنْ عَبْدِ هُذَيْلٍ يَزْعُمُ أَنَّ قِرَاءَتَهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا هِيَ إِلَّا رَجَزٌ مِنْ رَجَزِ الْأَعْرَابِ مَا أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ عَلَيْهِ السَّلَام، وَعَذِيرِي مِنْ هَذِهِ الْحَمْرَاءِ يَزْعُمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَرْمِي بِالْحَجَرِ، فَيَقُولُ إِلَى أَنْ يَقَعَ الْحَجَرُ: قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ، فَوَاللَّهِ لَأَدَعَنَّهُمْ كَالْأَمْسِ الدَّابِرِ"، قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِلْأَعْمَشِ، فَقَالَ: أَنَا وَاللَّهِ سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
عاصم کہتے ہیں کہ میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا: جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے، اللہ کی قسم، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے، اللہ کی قسم! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے، اور کون مجھے عبدہذیل (عبداللہ بن مسعود ہذلی) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی، وہ سوائے اعرابیوں کے رجز کے کچھ نہیں، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے، پھر کہتا ہے، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے؟ (فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے، اللہ کی قسم، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا (جو اب کبھی نہیں آنے والا)۔ عاصم کہتے ہیں: میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے: اللہ کی قسم میں نے بھی اسے، اس سے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4643]
عاصم سے مروی ہے کہ میں نے حجاج سے سنا، وہ برسرِ منبر کہہ رہا تھا: ﴿فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ﴾ [سورة التغابن: 16] اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جہاں تک ہمت پاؤ، اس میں کوئی استثنا نہیں۔ امیر المؤمنین عبدالملک (عبدالملک بن مروان) کی بات سنو اور اطاعت کرو، اس میں کوئی استثنا نہیں۔ اللہ کی قسم! اگر میں لوگوں کو حکم دوں کہ مسجد کے فلاں دروازے سے باہر جاؤ اور وہ دوسرے کسی دروازے سے باہر نکلیں تو میرے لیے ان کے خون اور مال حلال ہوں گے۔ اللہ کی قسم! اگر میں مضر کے بدلے قبیلہ ربیعہ کی گرفت کروں تو یہ میرے لیے اللہ کی طرف سے حلال ہے۔ اور کون ہے جو مجھے ہذیل کے غلام (اشارہ ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کی طرف سے معذور جانے، اس کا خیال ہے کہ اس کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے۔ اللہ کی قسم! یہ (اس کی قراءت) تو بدویوں کے رجز (چھوٹے چھوٹے شعروں) کی مانند ہے۔ اللہ نے اسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں کیا ہے۔ اور کون ہے جو مجھے ان عجمیوں سے معذور جانے، ان میں سے کوئی پتھر پھینک دیتا ہے (فتنے کی بات کر دیتا ہے) پھر کہتا ہے دیکھو یہ کہاں تک جاتا ہے۔ اللہ کی قسم! میں انہیں کلِ ماضی کی مانند کر کے رکھ دوں گا (نیست و نابود کر دوں گا)۔ راوی نے کہا کہ میں نے یہ واقعہ اعمش کو بیان کیا تو اس نے کہا: میں نے بھی اللہ کی قسم! اسے اس سے سنا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18851) (صحیح)» ‏‏‏‏ (یہ حجاج بن یوسف کا کلام ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں