🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب في الخلفاء
باب: خلفاء کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4651
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ،" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَضَرَبَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: اثْبُتْ أُحُدُ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے پھر آپ کے پیچھے ابوبکر، عمر، عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے، تو وہ ان کے ساتھ ہلنے لگا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا اور فرمایا: ٹھہر جا اے احد! (تیرے اوپر) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4651]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلے گئے، پس پہاڑ نے حرکت کی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا پاؤں مارا اور فرمایا: «اُثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ» احد! ٹھہر جا! (تیرے اوپر) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المناقب 5 (3675)، 6 (3686)، 7 (3697)، سنن الترمذی/المناقب 19 (3697)، (تحفة الأشراف: 1172) وقد أخرجہ: مسند احمد (3/112) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: تیرے اوپر ایک نبی یعنی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک صدیق یعنی ابوبکر، اور دو شہید یعنی عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم ہیں، یہ تیرے لئے باعث فخر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3697)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، عَنْ ابْنِ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، وَسُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: ذَكَرَ سُفْيَانُ رَجُلًا فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ فُلَانٌ الْكُوفَةِ أَقَامَ فُلَانٌ خَطِيبًا، فَأَخَذَ بِيَدِي سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ: أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا الظَّالِمِ، فَأَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ إِنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ إِيثَمْ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ: وَالْعَرَبُ تَقُولُ: آثَمُ، قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِرَاءٍ:" اثْبُتْ حِرَاءُ إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ، قُلْتُ: وَمَنِ التِّسْعَةُ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ،وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي، وَقَّاصٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قُلْتُ: وَمَنِ الْعَاشِرُ؟ فَتَلَكَّأَ هُنَيَّةً، ثُمَّ قَالَ: أَنَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنِ ابْنِ حَيَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو فلاں شخص خطبہ کے لیے کھڑا ہوا ۱؎، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ۲؎ کیا تم اس ظالم ۳؎ کو نہیں دیکھتے ۴؎ پھر انہوں نے نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں ہیں، اور کہا: اگر میں دسویں شخص (کے جنت میں داخل ہونے) کی گواہی دوں تو گنہگار نہ ہوں گا، (ابن ادریس کہتے ہیں: عرب لوگ ( «إیثم» کے بجائے) «آثم» کہتے ہیں)، میں نے پوچھا: اور وہ نو کون ہیں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس وقت آپ حراء (پہاڑی) پر تھے: حراء ٹھہر جا (مت ہل) اس لیے کہ تیرے اوپر نبی ہے یا صدیق ہے یا پھر شہید میں نے عرض کیا: اور نو کون ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم، میں نے عرض کیا: اور دسواں آدمی کون ہے؟ تو تھوڑا ہچکچائے پھر کہا: میں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اشجعی نے سفیان سے، سفیان نے منصور سے، منصور نے ہلال بن یساف سے، ہلال نے ابن حیان سے اور ابن حیان نے عبداللہ بن ظالم سے اسی سند سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4648]
جناب عبداللہ بن ظالم مازنی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: جب فلاں کوفے میں آیا اور اس نے فلاں کو خطبے میں کھڑا کیا (عبداللہ نے کہا) تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے میرے ہاتھ دبائے اور کہا: کیا تم اس ظالم (خطیب) کو نہیں دیکھتے ہو؟ (غالباً وہ خطیب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ کہہ رہا تھا۔) میں نو افراد کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ جنتی ہیں، اگر دسویں کے بارے میں کہوں تو گناہ گار نہیں ہوں گا۔ابن ادریس نے کہا: عرب لوگ «آثِمٌ» کا لفظ بولتے ہیں (جبکہ سیدنا سعید نے «لَمْ آثَمْ» کہا)۔ عبداللہ کہتے ہیں، میں نے پوچھا: وہ نو افراد کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حراء پر کھڑے ہوئے تھے: اے حراء ٹھہر جا! تجھ پر سوائے نبی کے یا صدیق کے یا شہید کے اور کوئی نہیں ہے۔ میں نے کہا: اور وہ نو کون کون ہیں؟ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد بن ابی وقاص، (مالک) اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم۔ میں نے پوچھا: اور دسواں کون ہے؟ تو وہ لمحے بھر کے لیے ٹھٹھکے پھر کہا: میں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کو اشجعی نے سفیان سے، انہوں نے منصور سے، انہوں نے ہلال بن یساف سے، انہوں نے ابن حیان سے، انہوں نے عبداللہ بن ظالم سے اسی کی سند سے مذکورہ بالا کی مانند روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/المناقب 28 (3757)، سنن ابن ماجہ/المقدمة 11 (134)، (تحفة الأشراف: 4458)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/188، 189) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: فلاں شخص کوفہ میں آیا اس سے کنایہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہے، اور فلاں شخص خطبہ کے لئے کھڑا ہوا اس سے کنایہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہے، اس جیسے مقام کے لئے کنایہ ہی بہتر تھا تاکہ شرف صحابیت مجروح نہ ہو۔
۲؎: یہ عبداللہ بن ظالم مازنی کا قول ہے۔
۳؎: اس سے مراد خطیب ہے۔
۴؎: جو علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه الترمذي (3757 وسنده صحيح) وله شاھد انظر الحديث الآتي (4650)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں