سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب في قتال اللصوص
باب: چوروں سے مقابلہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4766
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ، قَالَ: سِيمَاهُمُ التَّحْلِيقُ وَالتَّسْبِيدُ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ , قال أَبُو دَاوُد: التَّسْبِيدُ اسْتِئْصَالُ الشَّعْرِ.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا، البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: ”ان کی علامت سر منڈانا اور بالوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے، لہٰذا جب تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دو“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «تسبید»: بال کو جڑ سے ختم کرنے کو کہتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4766]
جناب قتادہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا ہے، اس روایت میں ہے کہ ”ان (خوارج) کی علامت سر منڈانا اور بال دور کرنا ہے۔ جب تم انہیں پاؤ تو انہیں سلا (قتل کر) دینا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حدیث میں وارد لفظ «التَّسْبِيدُ» کے معنی ہیں «اسْتِئْصَالُ الشَّعْرِ» ”بالوں کو جڑوں سے اکھیڑنا یا جڑوں سے مونڈنا۔“” [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/المقدمة 12 (175)، (تحفة الأشراف: 1337)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/197) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (175)
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
إسناده ضعيف
ابن ماجه (175)
قتادة مدلس وعنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 166
حدیث نمبر: 4768
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ الْجُهَنِيُّ، أَنَّهُ كَانَ فِي الْجَيْشِ الَّذِينَ كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَام الَّذِينَ سَارُوا إِلَى الْخَوَارِجِ، فَقَالَ عَلِيٌّ:" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يَخْرُج قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَيْسَتْ قِرَاءَتُكُمْ إِلَى قِرَاءَتِهِمْ شَيْئًا، وَلَا صَلَاتُكُمْ إِلَى صَلَاتِهِمْ شَيْئًا، وَلَا صِيَامُكُمْ إِلَى صِيَامِهِمْ شَيْئًا، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ يَحْسِبُونَ أَنَّهُ لَهُمْ، وَهُوَ عَلَيْهِمْ، لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَوْ يَعْلَمُ الْجَيْشُ الَّذِينَ يُصِيبُونَهُمْ مَا قُضِيَ لَهُمْ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَكَلُوا عَنِ الْعَمَلِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّ فِيهِمْ رَجُلًا لَهُ عَضُدٌ، وَلَيْسَتْ لَهُ ذِرَاعٌ عَلَى عَضُدِهِ، مِثْلُ حَلَمَتي الثَّدْيِ عَلَيْهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ، أَفَتَذْهَبُونَ إِلَى مُعَاوِيَةَ وَأَهْلِ الشَّامِ، وَتَتْرُكُونَ هَؤُلَاءِ يَخْلُفُونَكُمْ فِي ذَرَارِيِّكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ؟ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونُوا هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ، فَإِنَّهُمْ قَدْ سَفَكُوا الدَّمَ الْحَرَامَ، وَأَغَارُوا فِي سَرْحِ النَّاسِ، فَسِيرُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ"، قَالَ سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ: فَنَزَّلَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ مَنْزِلًا مَنْزِلًا، حَتَّى مَرَّ بِنَا عَلَى قَنْطَرَةٍ، قَالَ: فَلَمَّا الْتَقَيْنَا وَعَلَى الْخَوَارِجِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ الرَّاسِبِيُّ، فَقَالَ لَهُمْ: أَلْقُوا الرِّمَاحَ وَسُلُّوا السُّيُوفَ مِنْ جُفُونِهَا، فَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يُنَاشِدُوكُمْ كَمَا نَاشَدُوكُمْ يَوْمَ حَرُورَاءَ، قَالَ: فَوَحَّشُوا بِرِمَاحِهِمْ وَاسْتَلُّوا السُّيُوفَ وَشَجَرَهُمُ النَّاسُ بِرِمَاحِهِمْ، قَالَ: وَقَتَلُوا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضِهِمْ، قَالَ: وَمَا أُصِيبَ مِنَ النَّاسِ يَوْمَئِذٍ إِلَّا رَجُلَانِ، فَقَالَ عَلِيٌّ: الْتَمِسُوا فِيهِمُ الْمُخْدَجَ، فَلَمْ يَجِدُوا، قَالَ: فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَفْسِهِ، حَتَّى أَتَى نَاسًا قَدْ قُتِلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: أَخْرِجُوهُمْ، فَوَجَدُوهُ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ فَكَبَّرَ، وَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَبَلَّغَ رَسُولُهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبِيدَةُ السَّلْمَانِيُّ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ حَتَّى اسْتَحْلَفَهُ ثَلَاثًا، وَهُوَ يَحْلِفُ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ مَالِكٌ: ذُلٌّ لِلِعْلِمْ أَنْ يُجِيبَ الْعَالِمُ كَلَّ مَنْ سَأَلَهُ.
زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس فوج میں شامل تھے جو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی، اور جو خوارج کی طرف گئی تھی، علی نے کہا: اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”میری امت میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے، تمہارا پڑھنا ان کے پڑھنے کے مقابلے کچھ نہ ہو گا، نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے کچھ ہو گی، اور نہ ہی تمہارا روزہ ان کے روزے کے مقابلے کچھ ہو گا، وہ قرآن پڑھیں گے، اور سمجھیں گے کہ وہ ان کے لیے (ثواب) ہے حالانکہ وہ ان پر (عذاب) ہو گا، ان کی صلاۃ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی، وہ اسلام سے نکل جائیں گے، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، اگر ان لوگوں کو جو انہیں قتل کریں گے، یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے لیے ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کس چیز کا فیصلہ کیا گیا ہے، تو وہ ضرور اسی عمل پر بھروسہ کر لیں گے (اور دوسرے نیک اعمال چھوڑ بیٹھیں گے) ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کے بازو ہو گا، لیکن ہاتھ نہ ہو گا، اس کے بازو پر پستان کی گھنڈی کی طرح ایک گھنڈی ہو گی، اس کے اوپر کچھ سفید بال ہوں گے“ تو کیا تم لوگ معاویہ اور اہل شام سے لڑنے جاؤ گے، اور انہیں اپنی اولاد اور اسباب پر چھوڑ دو گے (کہ وہ ان پر قبضہ کریں اور انہیں برباد کریں) اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں (جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے) اس لیے کہ انہوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کی چراگاہوں پر شب خون مارا ہے، چلو اللہ کے نام پر۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں: پھر زید بن وہب نے مجھے ایک ایک مقام بتایا (جہاں سے ہو کر وہ خارجیوں سے لڑنے گئے تھے) یہاں تک کہ وہ ہمیں لے کر ایک پل سے گزرے۔ وہ کہتے ہیں: جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا اس نے ان سے کہا: نیزے پھینک دو اور تلواروں کو میان سے کھینچ لو، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تم سے اسی طرح صلح کا مطالبہ نہ کریں جس طرح انہوں نے تم سے حروراء کے دن کیا تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے نیز ے پھینک دئیے، تلواریں کھینچ لیں، لوگوں (مسلمانوں) نے انہیں اپنے نیزوں سے روکا اور انہوں نے انہیں ایک پر ایک کر کے قتل کیا اور (مسلمانوں میں سے) اس دن صرف دو آدمی شہید ہوئے، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں «مخدج» یعنی لنجے کو تلاش کرو، لیکن وہ نہ پا سکے، تو آپ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو ایک پر ایک کر کے مارے گئے تھے، آپ نے کہا: انہیں نکالو، تو انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ سب سے نیچے زمین پر پڑا ہے، آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور بولے: اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے ساری باتیں پہنچا دیں۔ پھر عبیدہ سلمانی آپ کی طرف اٹھ کر آئے کہنے لگے: اے امیر المؤمنین! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ وہ بولے: ہاں، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، یہاں تک کہ انہوں نے انہیں تین بار قسم دلائی اور وہ (تینوں بار) قسم کھاتے رہے۔ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4768]
زید بن وہب جہنی نے بیان کیا کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس لشکر میں شریک تھے جو خارجیوں کی طرف گیا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھتے ہوں گے۔ تمہاری قراءت ان کی قراءت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہو گی، نہ تمہاری نمازیں ان کی نمازوں کے مقابلے میں کچھ ہوں گی نہ تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں کچھ حیثیت رکھتے ہوں گے، وہ قرآن پڑھتے ہوں گے اور سمجھیں گے کہ یہ ان کے حق میں دلیل اور تائید ہے، حالانکہ وہ ان کے خلاف ہو گا۔ ان کی نمازیں ان کی ہنسلیوں سے آگے نہیں بڑھیں گی۔ اسلام سے ایسے گزر جائیں گے جیسے تیر اپنے شکار میں سے نکل جاتا ہے۔“ اگر اس لشکر کو جو ان (خارجیوں) کو قتل کرے گا ان فضائل کا علم ہو جائے جو اللہ نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ان کے لیے مقدر فرمائے ہیں تو وہ اسی پر تکیہ کر لیں اور ان (خارجیوں) کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کی کہنی سے اوپر کا بازو تو ہو گا، کہنی سے نیچے کلائی نہیں ہو گی۔ اوپر کے بازو کا آخر پستان کی بھٹنی کی طرح ہو گا۔ اس پر سفید بال ہوں گے۔ کیا بھلا تم لوگ معاویہ اور اہل شام کی طرف جانا چاہتے ہو اور ان (خارجیوں) کو اپنی اولادوں اور مال و اسباب میں پیچھے چھوڑ دینا چاہتے ہو؟ اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں (جن کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی) انہوں نے حرام خون بہایا اور لوگوں کے محفوظ علاقے (جان، عزت، مال) لوٹے۔ چنانچہ اللہ کا نام لے کر (ان کے مقابلے میں) چلو۔“ سلمہ بن کہیل نے کہا کہ زید بن وہب مجھے منزل بمنزل لے کر چلتے گئے حتیٰ کہ ہم ایک پل سے گزرے، پھر بتایا کہ جب ہم ان کے مقابل ہوئے اور خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا تو اس نے اپنے لوگوں سے کہا: ”نیزے پھینک دو اور تلواریں اپنی میانوں سے نکال لو۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ تم سے اسی طرح مقابلہ کریں گے جیسے حروراء والے دن کیا تھا۔“ کہا: چنانچہ ان لوگوں نے اپنے نیزے پھینک دیے اور تلواریں کھینچ لیں تو لوگوں نے ان کو اپنے نیزوں سے چھلنی کرنا شروع کر دیا اور ان کو ایک دوسرے کے اوپر قتل کیا۔ جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں سے صرف دو آدمی شہید ہوئے۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تلاش کرو، ان میں ایک لنجا ہو گا۔“ مگر انہیں نہ ملا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے حتیٰ کہ ان میتوں کے پاس آئے جو ایک دوسرے پر قتل ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا: ”انہیں نکالو۔“ چنانچہ انہوں نے اسے پا لیا جو کہ سب سے نیچے زمین پر پڑا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ بہت بڑا ہے“ پکارا اور کہا: ”اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچا دیا۔“ پس جناب عبیدہ سلمانی ان کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے امیر المؤمنین! قسم اس اللہ کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کیا یہ بیان آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ حتیٰ کہ انہوں نے تین بار قسم دی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بھی تین بار قسم سے جواب دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ علم کی اہانت ہے کہ عالم ہر پوچھنے والے کا جواب دینے لگے۔“ [سنن ابي داود/كتاب السنة /حدیث: 4768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الزکاة 48 (1066)، (تحفة الأشراف: 10100)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/90) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1066)