سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب كيف الأذان
باب: اذان کس طرح دی جائے؟
حدیث نمبر: 501
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ السَّائِبِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، وَأُمُّ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ،عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ، وَفِيهِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ فِي الْأُولَى مِنَ الصُّبْحِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ مُسَدَّدٍ أَبْيَنُ، قَالَ فِيهِ: قَالَ: وَعَلَّمَنِي الْإِقَامَةَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَإِذَا أَقَمْتَ الصَّلاةَ، فَقُلْهَا مَرَّتَيْنِ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، أَسَمِعْتَ؟ قَالَ: فَكَانَ أَبُو مَحْذُورَةَ لَا يَجُزُّ نَاصِيَتَهُ وَلَا يَفْرُقُهَا، لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَيْهَا.
اس سند سے بھی ابو محذورہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے کہ پہلی یعنی صبح کی اذان میں «الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مسدد کی روایت زیادہ واضح ہے، اس میں یہ ہے کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دوہری تکبیر سکھائی «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» ۔ عبدالرزاق کی روایت میں ہے: اور جب تم نماز کی اقامت کہو تو دوبار «قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة» کہو، (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:) کیا تم نے سن لیا؟ (یعنی اذان و اقامت کو سمجھ لیا ہے؟) (سائب نے کہا) اس میں یہ بھی ہے کہ ابو محذورہ اپنی پیشانی کے بال نہ ہی کاٹا کرتے تھے اور نہ ہی مانگ نکالا کرتے تھے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 501]
جناب عثمان بن سائب اپنے والد (سائب) سے، وہ اور ام عبدالملک بن ابی محذورہ رضی اللہ عنہا (یعنی زوجہ ابومحذورہ) دونوں سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس خبر کی مانند روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ «اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اَلصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ”نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے“ پہلی یعنی صبح کی اذان میں ہے، امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”مسدد کی حدیث زیادہ واضح ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اقامت سکھائی، اس کے کلمات دو دو بار تھے: «اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اَللهُ أَكْبَرُ، اَللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔“”امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ عبدالرزاق نے کہا: ”جب تو نماز کی اقامت کہے تو «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”یقیناً نماز کھڑی ہو گئی، یقیناً نماز کھڑی ہو گئی“ دو بار کہہ۔“ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا) ”کیا تم نے سن لیا؟“ (یعنی اذان و اقامت کو سمجھ لیا ہے؟) (سائب نے) کہا کہ سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ اپنے ماتھے کے بال نہ کاٹا کرتے تھے اور نہ مانگ نکالا کرتے تھے، اسی سبب سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہاتھ پھیرا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 501]
وضاحت: ۱؎: فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا مسنون اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے۔ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کی ترجیع والی اذان ہو تو تکبیر دوہری ہو گی جیسے کہ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان ہے۔ اگر اذان بلال رضی اللہ عنہ والی ہو گی یعنی بغیر ترجیع کے اگر ہو گی تو اس کی تکبیر (اقامت) اکہری ہو گی۔ جیسا کہ پہلے گزرا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح دون قوله فكان أبو محذورة لا يجز
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وأخرجه النسائي (634) وسنده حسن
وأخرجه النسائي (634) وسنده حسن
حدیث نمبر: 499
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ:" لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ يُعْمَلُ لِيُضْرَبَ بِهِ لِلنَّاسِ لِجَمْعِ الصَّلَاةِ، طَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ يَحْمِلُ نَاقُوسًا فِي يَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، أَتَبِيعُ النَّاقُوسَ؟ قَالَ: وَمَا تَصْنَعُ بِهِ؟ فَقُلْتُ: نَدْعُو بِهِ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ: تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَأْخَرَ عَنِّي غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ قَالَ: وَتَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الصَّلَاةَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ، أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ: إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلَالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَلْيُؤَذِّنْ بِهِ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ، فَقُمْتُ مَعَ بِلَالٍ فَجَعَلْتُ أُلْقِيهِ عَلَيْهِ وَيُؤَذِّنُ بِهِ، قَالَ: فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ، وَيَقُولُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ مَا رَأَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَكَذَا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وقَالَ فِيهِ ابْنُ إِسْحَاق: عَنْ الزُّهْرِيِّ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، وقَالَ مَعْمَرٌ،وَيُونُسُ: عَنْ الزُّهْرِيِّ فِيهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَمْ يُثَنِّيَا.
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس کی تیاری کا حکم دینے کا ارادہ کیا تاکہ لوگوں کو نماز کی خاطر جمع ہونے کے لیے اسے بجایا جا سکے تو ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک شخص ۱؎ کے ہاتھ میں ناقوس ہے، میں نے اس سے پوچھا: اللہ کے بندے! کیا اسے فروخت کرو گے؟ اس نے کہا: تم اسے کیا کرو گے؟ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے، اس شخص نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتا دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، ضرور بتائیے، تو اس نے کہا: تم اس طرح کہو «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، نماز کے لیے آؤ، نماز کے لیے آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر وہ شخص مجھ سے تھوڑا پیچھے ہٹ گیا، زیادہ دور نہیں گیا پھر اس نے کہا: جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اس طرح کہو: «الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الفلاح قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» “۔ پھر جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ میں نے دیکھا تھا اسے آپ سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان شاءاللہ یہ خواب سچا ہے“، پھر فرمایا: ”تم بلال کے ساتھ اٹھ کر جاؤ اور جو کلمات تم نے خواب میں دیکھے ہیں وہ انہیں بتاتے جاؤ تاکہ اس کے مطابق وہ اذان دیں کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند ہے“ ۲؎۔ چنانچہ میں بلال کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا، میں انہیں اذان کے کلمات بتاتا جاتا تھا اور وہ اسے پکارتے جاتے تھے۔ وہ کہتے ہیں: تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے گھر میں سے سنا تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہہ رہے تھے: اللہ کے رسول! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی اسی طرح دیکھا ہے جس طرح عبداللہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الحمدللہ“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح زہری کی روایت ہے، جسے انہوں نے سعید بن مسیب سے، اور سعید نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، اس میں ابن اسحاق نے زہری سے یوں نقل کیا ہے: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر» (یعنی چار بار) اور معمر اور یونس نے زہری سے صرف «الله أكبر الله أكبر» کی روایت کی ہے، اسے انہوں نے دہرایا نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 499]
جناب محمد بن عبداللہ بن زید بن عبدربہ کہتے ہیں کہ مجھے میرے والد سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناقوس بنانے کا حکم دیا تاکہ اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جائے تو میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے پاس سے ایک آدمی گزر رہا ہے، ہاتھ میں ناقوس لیے ہوئے ہے۔ میں نے اس سے کہا: ”اے اللہ کے بندے! کیا تو ناقوس بیچے گا؟“ اس نے کہا: ”تم اس کا کیا کرو گے؟“ میں نے کہا: ”ہم اس سے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے۔“ وہ کہنے لگا: ”کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں جو اس سے زیادہ بہتر ہے؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ اس نے کہا: ”تم یوں کہا کرو: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ کامیابی کی طرف۔ آؤ کامیابی کی طرف۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔“”پھر وہ مجھ سے کچھ پیچھے ہٹ گیا اور کہا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو یوں کہو: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ آؤ نماز کی طرف۔ آؤ کامیابی کی طرف۔ نماز کھڑی ہو گئی ہے۔ نماز کھڑی ہو گئی ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔“”جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور جو کچھ خواب میں دیکھا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلایا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ان شاء اللہ سچا خواب ہے۔ تم بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اسے وہ کلمات بتاتے جاؤ جو تم نے دیکھے ہیں۔ وہ اذان کہے گا کیونکہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز والا ہے۔“ چنانچہ میں بلال رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور انہیں وہ الفاظ بتاتا گیا اور وہ اذان کہتے گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں تھے، انہوں نے اسے سنا تو (جلدی سے) چادر گھسیٹتے ہوئے آئے، کہنے لگے: ”قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، اے اللہ کے رسول! میں نے بھی یہی خواب دیکھا ہے جیسے کہ اسے دکھایا گیا ہے“، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زہری کی سعید بن مسیب سے اور ان کی عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ایسے ہی ہے۔ اس میں ابن اسحاق نے زہری سے یہی الفاظ نقل کیے ہیں: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» جبکہ معمر اور یونس نے زہری سے (صرف) «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ» روایت کیا ہے، انہوں نے دہرا کر ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 499]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 25 (189)، سنن ابن ماجہ/الأذان 1 (706)، (تحفة الأشراف: 5309)، مسند احمد (4/42)، سنن الدارمی/الصلاة 3 (1224) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ایک فرشتہ تھا جو اللہ کی طرف سے اذان سکھانے کے لئے مامور ہوا تھا۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ مؤذن کا بلند آواز ہونا بہتر ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان میں اذان دہری اور اقامت اکہری ذکر ہوئی ہے۔ فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا مسنون اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے (سنن ابوداود، حدیث نمبر ۵۰۱ دیکھئیے)۔ بلال رضی اللہ اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہا کی اذانوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اذان سے پہلے کوئی کلمات نہیں ہیں۔ حتی کہ «اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم» یا «بسم اللہ الرحمن الرحیم» بھی نہیں، اذان اللہ اکبر سے شروع ہو گی۔ اسی طرح آخر میں «لا الہ الا اللہ» کے بعد «محمد رسول اللہ» بھی نہیں ہے جیسا کہ بعض سادہ لوح موذن کرتے ہیں۔ اس سے ترجیع یعنی شہادتین کو دو دو بار کہنا ثابت ہوا۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ مؤذن کا بلند آواز ہونا بہتر ہے۔ بلال رضی اللہ عنہ کی اذان میں اذان دہری اور اقامت اکہری ذکر ہوئی ہے۔ فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا مسنون اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے (سنن ابوداود، حدیث نمبر ۵۰۱ دیکھئیے)۔ بلال رضی اللہ اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہا کی اذانوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اذان سے پہلے کوئی کلمات نہیں ہیں۔ حتی کہ «اعوذ باللہ من الشیطان الرحیم» یا «بسم اللہ الرحمن الرحیم» بھی نہیں، اذان اللہ اکبر سے شروع ہو گی۔ اسی طرح آخر میں «لا الہ الا اللہ» کے بعد «محمد رسول اللہ» بھی نہیں ہے جیسا کہ بعض سادہ لوح موذن کرتے ہیں۔ اس سے ترجیع یعنی شہادتین کو دو دو بار کہنا ثابت ہوا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (650)
مشكوة المصابيح (650)
حدیث نمبر: 500
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي سُنَّةَ الْأَذَانِ، قَالَ: فَمَسَحَ مُقَدَّمَ رَأْسِي، وَقَالَ:" تَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، تَرْفَعُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، تَخْفِضُ بِهَا صَوْتَكَ، ثُمَّ تَرْفَعُ صَوْتَكَ بِالشَّهَادَةِ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَإِنْ كَانَ صَلَاةُ الصُّبْحِ، قُلْتَ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ".
ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ مجھے اذان کا طریقہ سکھا دیجئیے، تو آپ نے میرے سر کے اگلے حصہ پر (ہاتھ) پھیرا اور فرمایا: ”کہو: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر»، تم انہیں بلند آواز سے کہو، پھر کہو: «أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله» انہیں ہلکی آواز سے کہو، پھر انہیں کلمات شہادت «أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله» کو بلند آواز سے کہو ۱؎، پھر «حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح» کہو، اور اگر صبح کی اذان ہو تو «الصلاة خير من النوم الصلاة خير من النوم» کہو، پھر «الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله» کہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 500]
جناب محمد بن عبدالملک بن ابی محذورہ اپنے والد (عبدالملک) سے وہ ان کے (یعنی محمد کے) دادا (سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ) سے راوی ہیں، (سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اذان کا طریقہ سکھا دیجیے“۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر کے اگلے حصے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: ”یوں کہا کرو: «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ» اس میں تمہاری آواز خوب بلند ہونی چاہیے، پھر کہو: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ» ان کلمات میں تمہاری آواز قدرے پست ہو۔ پھر اونچی آواز سے کلمات شہادت (دوبارہ) کہو: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» اگر فجر کی نماز ہو تو کہو: «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ، الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ”نماز نیند سے بہتر ہے، نماز نیند سے بہتر ہے“۔ «اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» “ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 500]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 3 (379)، سنن الترمذی/الصلاة 26 (191)، سنن النسائی/الأذان 3 (630)، 4 (631)، سنن ابن ماجہ/الأذان 2 (709)، (تحفة الأشراف: 12169)، مسند احمد (3/ 408، 409)، سنن الدارمی/الصلاة 7 (1232) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس اذان میں کلمات شہادت کو دہرا کر کہا جاتا ہے تو اسے ترجیع والی اذان کہتے ہیں۔ یعنی «أشهد أن لا إله إلا الله» کو کل چار مرتبہ کہیں گے اسی طرح «أشهد أن محمدا رسول الله» کو کل چار مرتبہ کہیں گے (جیسا کہ ترتیب حدیث میں ذکر ہے) ترجیع والی اذان مسنون ہے اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہ کو مکہ میں موذن مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے بعد ان کی اولاد بھی اسی منصب پر فائز رہی اور وہ اسی طرح اذان کہتے رہے۔ کچھ لوگوں کا یہ شبہ بے معنی اور بےدلیل ہے کہ ابومحذورہ رضی اللہ عنہ نے نو مسلم ہونے کی بنا پر شہادت کے کلمات پر اپنی آواز پست رکھی تھی، تو آپ نے بلند آواز سے دوبارہ دہرانے کا حکم دیا تھا۔ فجر کی اذان میں «الصلاة خير من النوم» کہنا مسنون اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے (سنن ابوداود، حدیث نمبر 501 دیکھئیے)۔ بلال رضی اللہ اور ابومحذورہ رضی اللہ عنہا کی اذانوں سے ثابت ہوتا ہے کہ اذان سے پہلے کوئی کلمات نہیں ہیں۔ حتی کہ «اعوذ بالله من الشيطان الرحيم» یا «بسم الله الرحمن الرحيم» بھی نہیں، اذان «الله اكبر» سے شروع ہو گی۔ اسی طرح آخر میں «لا اله الا الله» کے بعد «محمد رسول الله» بھی نہیں ہے جیسا کہ بعض سادہ لوح موذن کرتے ہیں۔ اس سے ترجیع یعنی شہادتین کو دو دو بار کہنا ثابت ہوا۔
«اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم» کی تفصیلات صحيح ابن خزيمه حدیث نمبر 385 کے فوائد و مسائل لکھیں
«اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْم» کی تفصیلات صحيح ابن خزيمه حدیث نمبر 385 کے فوائد و مسائل لکھیں
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الحارث بن عبيد الإيادي: ضعيف،وروايته منكرة،وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 4/ 392)
وحديث النسائي (634) وابن خزيمة (385) يغني عنه
وانظر الأصل (501،502،503)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31
إسناده ضعيف
الحارث بن عبيد الإيادي: ضعيف،وروايته منكرة،وقال العراقي: ضعفه الجمھور (تخريج الإحياء 4/ 392)
وحديث النسائي (634) وابن خزيمة (385) يغني عنه
وانظر الأصل (501،502،503)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31
حدیث نمبر: 504
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي مَحْذُورَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي مَحْذُورَةَ، يَذْكُرُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا مَحْذُورَةَ، يَقُولُ:" أَلْقَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَذَانَ حَرْفًا حَرْفًا اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ فِي الْفَجْرِ: الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ".
عبدالملک کا بیان کہ انہوں نے ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان کے کلمات حرفاً حرفاً یوں سکھائے: «الله أكبر الله أكبر الله أكبر الله أكبر أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن لا إله إلا الله أشهد أن محمدا رسول الله أشهد أن محمدا رسول الله حى على الصلاة حى على الصلاة حى على الفلاح حى على الفلاح» ۔ اور فرمایا: فجر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الصلاة خير من النوم» کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 504]
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اذان کا ایک ایک حرف سکھایا: «اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، اللّٰهُ أَكْبَرُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ نماز کی طرف آؤ، نماز کی طرف آؤ۔ کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ۔“ انہوں نے بیان کیا کہ اور وہ فجر کی اذان میں «الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ» ”نماز نیند سے بہتر ہے“ کہا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 504]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حديث رقم: 500، (تحفة الأشراف: 12169) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديثين السابقين
انظر الحديثين السابقين