سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
144. باب كيف السلام
باب: سلام کس طرح کیا جائے؟
حدیث نمبر: 5196
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُوَيْدٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ , قَالَ: أَظُنُّ أَنِّي سَمِعْتُ نَافِعَ بْنَ يَزِيدَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو مَرْحُومٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ , زَادَ ثُمَّ أَتَى آخَرُ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ , فَقَالَ: أَرْبَعُونَ , قَالَ: هَكَذَا تَكُونُ الْفَضَائِلُ.
معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا مزید ہے کہ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ومغفرتہ“ تو آپ نے فرمایا: اسے چالیس نیکیاں ملیں گی، اور اسی طرح (اور کلمات کے اضافے پر) نیکیاں بڑھتی جائیں گی۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5196]
جناب سہل اپنے والد (معاذ بن انس رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا، اس میں اضافہ ہے کہ پھر ایک (چوتھا آدمی) آیا تو اس نے کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ» ”السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس (چالیس نیکیاں ملیں) اور نیکیاں ایسے ہی بڑھتی ہیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11300) (ضعیف الإسناد)» (راوی ابن ابی مریم نے نافع سے سماع میں شک کا اظہار کیا)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الراوي شك في اتصاله
وللحديث شاھد ضعيف عند البخاري في التاريخ الكبير (1/ 330)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
إسناده ضعيف
الراوي شك في اتصاله
وللحديث شاھد ضعيف عند البخاري في التاريخ الكبير (1/ 330)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 180
حدیث نمبر: 5195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ , ثُمَّ جَلَسَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ: عِشْرُونَ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ: ثَلَاثُونَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ”السلام علیکم“ کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ“ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اس کو بیس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ“ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے تیس نیکیاں ملیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5195]
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”السلام علیکم“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس۔“ پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیس۔“ پھر ایک اور آیا تو اس نے کہا: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب عنایت فرمایا اور وہ بیٹھ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیس۔“ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الاستئذان 3 (2689)، (تحفة الأشراف: 10874)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/439، 440)، سنن الدارمی/الاستئذان 12 (2682) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4644)
أخرجه الترمذي (2689 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4644)
أخرجه الترمذي (2689 وسنده حسن)