سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. باب ما جاء في الدعاء عند الأذان
باب: اذان کے بعد کی دعا کا بیان۔
حدیث نمبر: 529
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّه، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ، إِلَّا حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا پڑھی: «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته» ”اے اللہ! اس کامل دعا اور ہمیشہ قائم رہنے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ ۱؎ اور فضیلہ ۲؎ عطا فرما اور آپ کو مقام محمود ۳؎ پر فائز فرما جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے“ تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو جائے گی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 529]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 8 (614)، تفسیر الإسراء 11 (4719)، سنن الترمذی/الصلاة 43 (211)، سنن النسائی/الأذان 38 (681)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (722)، (تحفة الأشراف: 3046)، مسند احمد (3/354) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک اعلیٰ درجہ کا نام ہے۔
۲؎: فضیلہ وہ اعلیٰ مرتبہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوقات پر حاصل ہو گا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔
۳؎: یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گا اور اسی جگہ آپ وہ شفاعت عظمیٰ فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہو گا۔
۲؎: فضیلہ وہ اعلیٰ مرتبہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصیت کے ساتھ تمام مخلوقات پر حاصل ہو گا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ وسیلہ ہی کی تفسیر ہو۔
۳؎: یہ وہ مقام ہے جو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمائے گا اور اسی جگہ آپ وہ شفاعت عظمیٰ فرمائیں گے جس کے بعد لوگوں کا حساب و کتاب ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (614)
حدیث نمبر: 525
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ الْحُكَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ الْمُؤَذِّنَ: وَأَنَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، غُفِرَ لَهُ".
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کلمات کہے: «وأنا أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا» ”اور میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں اللہ کے رب ہونے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے، اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوں“ تو اسے بخش دیا جائے گا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 525]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 7 (386)، سنن الترمذی/الصلاة 42 (210)، سنن النسائی/الأذان 38 (680)، سنن ابن ماجہ/الأذان 4 (721)، (تحفة الأشراف: 3877)، مسند احمد (1/181) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (386)