🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب في الصلاة تقام ولم يأت الإمام ينتظرونه قعودا :
باب: اقامت کے بعد امام مسجد نہ پہنچے تو لوگ بیٹھ کر امام کا انتظار کریں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 542
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ حُمَيْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يَتَكَلَّمُ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلَاةُ، فَحَدَّثَنِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَعَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ".
حمید کہتے ہیں میں نے ثابت بنانی سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو نماز کی تکبیر ہو جانے کے بعد بات کرتا ہو، تو انہوں نے مجھ سے انس رضی اللہ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نماز کی تکبیر کہہ دی گئی تھی کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آیا اور اس نے آپ کو تکبیر ہو جانے کے بعد (باتوں کے ذریعے) روکے رکھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 542]
جناب حمید کہتے ہیں کہ میں نے ثابت بنانی سے پوچھا کہ کوئی آدمی اقامت ہو جانے کے بعد کسی سے کوئی بات کرے (تو کیسا ہے؟) تو انہوں نے مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنائی کہ (ایک بار) نماز کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک آدمی آ گیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (کچھ دیر کے لیے) روکے رکھا، جبکہ اقامت کہی جا چکی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 542]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 27 (642)، 28 (643)، والاستئذان 48 (6292)، (تحفة الأشراف: 395)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 33 (376)، سنن النسائی/الإمامة 13 (792)، مسند احمد (3/101، 114، 182) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: اقامت اور تکبیر تحریمہ میں فاصلہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں اور مناسب بات کر لینا بھی جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (643)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 201
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَدَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ:" أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي حَاجَةً، فَقَامَ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ بَعْضُ الْقَوْمِ، ثُمَّ صَلَّى بِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں عشاء کی نماز کی اقامت کہی گئی، اتنے میں ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے آپ سے ایک ضرورت ہے، اور کھڑے ہو کر آپ سے سرگوشی کرنے لگا یہاں تک کہ لوگوں کو یا بعض لوگوں کو نیند آ گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ ثابت بنانی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 201]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نماز عشاء کی اقامت کہی جا چکی تھی کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے آپ سے کام ہے۔ چنانچہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشیاں کرنے لگا، حتیٰ کہ قوم کو یا ان میں سے کچھ کو اونگھ آنے لگی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور (سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے) وضو کرنے کا ذکر نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 201]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «أخرجه: صحيح مسلم/الحيض/ 33. باب الدليل على أن نوم الجالس لا ينقض الوضوء: فواد 376: دارالسلام 836، من حديث حماد بن سلمة به، تحفة الأشراف: 321، وقد أخرجه: مسند احمد 3/160، 268 (صحيح)»
وضاحت: اقامت اور تکبیر تحریمہ میں کچھ فاصلہ ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے، دوبارہ اقامت کہنے کی ضرورت ہے نہ امام پر یہ واجب ہے کہ تکبیر کے فورا بعد اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کر دے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ سونا بیٹھے بیٹھے تھا نہ کہ لیٹ کر۔ جیسے کہ دیگر احادیث سے ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (376)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَجِيٌّ فِي جَانِبِ الْمَسْجِدِ، فَمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى نَامَ الْقَوْمُ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نماز (عشاء) کی تکبیر کہی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے ایک کونے میں ایک شخص سے باتیں کر رہے تھے، تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ سونے لگے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 544]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی ایک جانب میں (کسی کے ساتھ) سرگوشی میں مشغول رہے اور نماز کے لیے آئے تو لوگوں کو نیند آ رہی تھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 544]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 27 (642)، صحیح مسلم/الحیض 33(376)، (تحفة الأشراف: 1035) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (642) صحيح مسلم (376)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں