سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. باب وضع اليمنى على اليسرى في الصلاة
باب: نماز میں داہنے ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 758
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْكُوفِيِّ، عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:" أَخْذُ الْأَكُفِّ عَلَى الْأَكُفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يُضَعِّفُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ إِسْحَاقَ الْكُوفِيَّ.
ابووائل کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی سے پکڑ کر ناف کے نیچے رکھنا (سنت ہے)۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو سنا، وہ عبدالرحمٰن بن اسحاق کوفی کو ضعیف قرار دے رہے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 758]
جناب ابووائل نے کہا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”نماز میں ہتھیلیوں سے ناف کے نیچے سے پکڑنا ہے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا، وہ (مذکورہ اثر کے ایک راوی) عبدالرحمٰن کوفی کو ضعیف کہتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13494) (ضعیف)» (اس سند میں بھی عبدالرحمن بن اسحاق ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن إسحاق الواسطي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن إسحاق الواسطي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
حدیث نمبر: 756
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْكَفِّ عَلَى الْكَفِّ فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ".
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر رکھ کر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 756]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نماز میں ہتھیلی کو ہتھیلی پر ناف کے نیچے رکھنا سنت ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 756]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10314)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/110) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمن بن اسحاق واسطی متروک ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن إسحاق الكوفي الواسطي ضعيف (تق : 3799) ضعفه الجمهور
وزياد : مجهول (تقريب التهذيب: 2078)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
إسناده ضعيف
عبد الرحمٰن بن إسحاق الكوفي الواسطي ضعيف (تق : 3799) ضعفه الجمهور
وزياد : مجهول (تقريب التهذيب: 2078)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 40
حدیث نمبر: 757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ يَعْنِي ابْنَ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي بَدْرٍ، عَنْ أَبِي طَالُوتَ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ ابْنِ جَرِيرٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُمْسِكُ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ عَلَى الرُّسْغِ فَوْقَ السُّرَّةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ فَوْقَ السُّرَّةِ، قَالَ أَبُو مِجْلَزٍ: تَحْتَ السُّرَّةِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
جریر ضبیی کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ کا پہنچا (گٹا) پکڑے ہوئے ناف کے اوپر رکھے ہوئے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید بن جبیر سے «فوق السرة» (ناف کے اوپر) مروی ہے اور ابومجلز نے «تحت السرة» (ناف کے نیچے) کہا ہے اور یہ بات ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کی گئی ہے لیکن یہ قوی نہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 757]
جناب ابن جریر ضبی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ سے پہنچے (کلائی) کے پاس سے (یعنی جوڑ کے پاس) سے پکڑ رکھا تھا اور وہ ناف سے اوپر تھے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”جناب سعید بن جبیر سے ”ناف سے اوپر“ مروی ہے اور ابومجلز نے ”ناف سے نیچے“ کہا ہے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ”ناف سے نیچے“ ہی روایت کی گئی ہے، مگر قوی نہیں ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 10030) (ضعیف)» (اس کے راوی جریر ضبّی لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه البيھقي (2/29،30) عزوان بن جرير وأبوه صدوقان وثقھما ابن حبان والبيھقي
أخرجه البيھقي (2/29،30) عزوان بن جرير وأبوه صدوقان وثقھما ابن حبان والبيھقي