سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
129. باب في تخفيف الصلاة
باب: نماز ہلکی پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 792
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: أَتَشَهَّدُ، وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ".
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: ”تم نماز میں کون سی دعا پڑھتے ہو؟“، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں اور کہتا ہوں: «اللهم إني أسألك الجنة وأعوذ بك من النار» ”اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں“، البتہ آپ اور معاذ کیا گنگناتے ۱؎ ہیں اس کا مجھے صحیح ادراک نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بھی اسی ۲؎ (جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ) کے اردگرد پھرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 792]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: ”تم نماز میں کیا کہتے ہو؟“ اس نے کہا: ”میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر یوں کہتا ہوں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں“، اور میں آپ کی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی گنگناہٹ کو اچھی طرح نہیں سمجھتا (یعنی آپ اور معاذ کیا دعا مانگتے ہیں؟ آواز تو سنتا ہوں، لیکن واضح الفاظ سمجھ میں نہیں آتے)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم بھی ان (جنت اور دوزخ) کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔“ (یعنی جنت کا سوال اور دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، مسند احمد 3/474، (تحفة الأشراف: 15565)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 26 (910) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «دندنہ» کا لفظ آیا ہے، یعنی انسان کی آواز کی گنگناہٹ سنائی دے لیکن اس کے معنی و مطلب سمجھ میں نہ آئیں۔ وضاحت: «حولها» میں «ها» کی ضمیر اس آدمی کے قول کی طرف لوٹتی ہے، یعنی ہمارا اور معاذ کا کلام بھی تمہارے ہی کلام جیسا ہے، ان کا ماحصل بھی جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (910)
الأعمش مدلس وعنعن
وللحديث شاھد ضعيف عند ابن خزيمة (725) والحديث الآتي (الأصل: 793) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
إسناده ضعيف
ابن ماجه (910)
الأعمش مدلس وعنعن
وللحديث شاھد ضعيف عند ابن خزيمة (725) والحديث الآتي (الأصل: 793) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41
حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ جَابِرٍ، ذَكَرَ قِصَّةَ مُعَاذٍ، قَالَ: وَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْفَتَى:" كَيْفَ تَصْنَعُ يَا ابْنَ أَخِي إِذَا صَلَّيْتَ؟ قَالَ: أَقْرَأُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَأَسْأَلُ اللَّهَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ، وَإِنِّي لَا أَدْرِي مَا دَنْدَنَتُكَ وَلَا دَنْدَنَةُ مُعَاذٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي وَمُعَاذٌ حَوْلَ هَاتَيْنِ، أَوْ نَحْوَ هَذَا".
جابر رضی اللہ عنہ معاذ رضی اللہ عنہ کا واقعہ ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا: ”میرے بھتیجے! جب تم نماز پڑھتے ہو تو اس میں کیا پڑھتے ہو؟“، اس نے کہا: میں (نماز میں) سورۃ فاتحہ پڑھتا ہوں، اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہوں، اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، لیکن مجھے آپ کی اور معاذ کی گنگناہٹ سمجھ میں نہیں آتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور معاذ بھی انہی دونوں کے اردگرد ہوتے ہیں“، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 793]
عبید اللہ بن مقسم، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا قصہ ذکر کیا، اور بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جوان سے فرمایا: ”بھتیجے! جب نماز پڑھتے ہو تو کیسے کرتے ہو؟ (یعنی کیا پڑھتے ہو؟)“ اس نے کہا: ”فاتحہ پڑھتا ہوں اور اللہ سے «أَسْأَلُ اللهَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِهِ مِنَ النَّارِ» ”جنت مانگتا ہوں اور آگ سے پناہ چاہتا ہوں“، اور مجھے نہیں معلوم کہ آپ کی گنگناہٹ کیا ہے اور نہ معاذ رضی اللہ عنہ کے متعلق معلوم ہے کہ ان کی گنگناہٹ کیا ہے“، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اور معاذ ان ہی کے گرد گنگناتے ہیں۔“ یا اس کی مانند کچھ فرمایا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 793]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 2391)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/302) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (3/302) وانظر الحديث السابق (599)
محمد بن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (3/302) وانظر الحديث السابق (599)