سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
150. باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع والسجود
باب: رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھنے والے کی نماز کا حکم۔
حدیث نمبر: 859
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ:" إِذَا قُمْتَ فَتَوَجَّهْتَ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ، ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَبِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَقْرَأَ، وَإِذَا رَكَعْتَ فَضَعْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ، وَقَالَ: إِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنْ لِسُجُودِكَ، فَإِذَا رَفَعْتَ فَاقْعُدْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى".
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے یہی قصہ مروی ہے اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو اور اپنا رخ (چہرہ) قبلہ کی طرف کر لو تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہو، پھر سورۃ فاتحہ پڑھو اور قرآن مجید میں سے جس کی اللہ توفیق دے پڑھو، پھر جب رکوع میں جاؤ تو اپنی دونوں ہتھیلیاں اپنے گھٹنوں پر رکھو اور اپنی پیٹھ برابر رکھو“، اور فرمایا: ”جب تم سجدہ میں جاؤ تو اپنے سجدوں میں (پیشانی کو) ٹکائے رکھو اور جب سجدے سے سر اٹھاؤ تو اپنی بائیں ران پر بیٹھو“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 859]
جناب علی بن یحییٰ بن خلاد نے سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے یہ قصہ بیان کیا، انہوں نے کہا: ”جب تم (نماز کے لیے) کھڑے ہو کر قبلہ کی طرف رخ کرو تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہو، پھر ام القرآن (سورۃ فاتحہ) اور قرآن سے کچھ پڑھو جو اللہ توفیق دے۔ جب رکوع کرو تو اپنی ہتھیلیوں کو اپنے گھٹنوں پر رکھو اور کمر کو لمبا رکھو۔“ اور فرمایا: ”جب سجدہ کرو تو اطمینان سے ٹک کر سجدہ کرو اور جب سجدے سے اٹھو تو اپنی بائیں ران پر بیٹھ جاؤ۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 859]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 857، (تحفة الأشراف: 3604) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (804)
صححه ابن خزيمة (638 وسنده حسن) محمد بن عمرو بن علقمة الليثي وثقه الجمھور
مشكوة المصابيح (804)
صححه ابن خزيمة (638 وسنده حسن) محمد بن عمرو بن علقمة الليثي وثقه الجمھور
حدیث نمبر: 860
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَلَّادِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ:" إِذَا أَنْتَ قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَكَبِّرِ اللَّهَ تَعَالَى ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ عَلَيْكَ مِنَ الْقُرْآنِ، وَقَالَ فِيهِ: فَإِذَا جَلَسْتَ فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ فَاطْمَئِنَّ وَافْتَرِشْ فَخِذَكَ الْيُسْرَى ثُمَّ تَشَهَّدْ، ثُمَّ إِذَا قُمْتَ فَمِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى تَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِكَ".
اس سند سے بھی رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی قصہ روایت کرتے ہیں، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو (پہلے) «الله اكبر» کہو، پھر قرآن مجید میں سے جو تمہارے لیے آسان ہو پڑھو“، اور اس میں ہے: ”جب تم نماز کے بیچ میں بیٹھو تو اطمینان و سکون سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران کو بچھا لو، پھر تشہد پڑھو، پھر جب کھڑے ہو تو ایسا ہی کرو یہاں تک کہ تم اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 860]
جناب علی بن یحییٰ بن خلاد بن رافع اپنے والد سے، وہ اپنے چچا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم اپنی نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ عزوجل کی تکبیر کہو، پھر جو تمہیں قرآن سے آسان لگے وہ پڑھو۔“ اس روایت میں مزید فرمایا: ”جب تم نماز کے دوران میں بیٹھو تو اطمینان سے بیٹھو اور اپنی بائیں ران بچھا لو، پھر تشہد پڑھو، پھر جب کھڑے ہو تو پہلے کی طرح کرو، حتیٰ کہ اپنی نماز سے فارغ ہو جاؤ۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 857، (تحفة الأشراف: 3604) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (597، 638 وسندھما حسن)
صححه ابن خزيمة (597، 638 وسندھما حسن)