🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
154. باب في الدعاء في الركوع والسجود
باب: رکوع اور سجدے میں دعا کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 879
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَسْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ" سَاجِدٌ وَقَدَمَاهُ مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک رات (اپنے پاس بستر پر) نہیں پایا تو میں نے آپ کو نماز پڑھنے کی جگہ میں ٹٹولا تو کیا دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں ہیں اور آپ کے دونوں پاؤں کھڑے ہیں اور آپ یہ دعا کر رہے ہیں: «أعوذ برضاك من سخطك وأعوذ بمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» یعنی اے اللہ! میں تیرے غصے سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیرے عذاب سے تیری بخشش کی پناہ مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 879]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (ان کے بستر سے) گم پایا تو میں نے انہیں ان کے مصلے پر ٹٹولا تو پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کلمات پڑھ رہے تھے: «أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوذُ بِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» (اے اللہ!) میں تیری ناراضی سے تیری رضا مندی کی اور تیری پکڑ سے تیری معافی کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں تجھ سے (ڈر کر) تیری ہی پناہ میں آتا ہوں۔ میں تیری تعریفات شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے جیسے کہ تو نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصلاة 42 (486)، سنن النسائی/الطھارة 119، باب 120(169)، والتطبیق 47 (1101)، 71 (1131)، والاستعاذة 62 (5536)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 3 (3841)، (تحفة الأشراف: 17807)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ القرآن 8 (31)، مسند احمد (6/58، 201) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (486)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1427
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمْرٍو الْفَزَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي آخِرِ وِتْرِهِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ". قَالَ أَبُو دَاوُد: هِشَامٌ أَقْدَمُ شَيْخٍ لِحَمَّادٍ، وَبَلَغَنِي عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِينٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ، يَعْنِي فِي الْوِتْرِ، قَبْلَ الرُّكُوعِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ هَذَا الْحَدِيثَ أَيْضًا، عَنْ فِطْرِ بْنِ خَلِيفَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ، وَرُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ فِي الْوِتْرِ قَبْلَ الرُّكُوعِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ. رَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَذْكُرِ الْقُنُوتَ، وَلَا ذَكَرَ أُبَيًّا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْأَعْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، وَسَمَاعُهُ بِالْكُوفَةِ مَعَ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا الْقُنُوتَ، وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، وَشُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، وَلَمْ يَذْكُرَا الْقُنُوتَ، وَحَدِيثُ زُبَيْدٍ. رَوَاهُ وَشُعْبَةُ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ كُلُّهُمْ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ زُبَيْدٍ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ الْقُنُوتَ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، فَإِنَّهُ قَالَ فِي حَدِيثِهِ" إِنَّهُ قَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَلَيْسَ هُوَ بِالْمَشْهُورِ مِنْ حَدِيثِ حَفْصٍ نَخَافُ أَنْ يَكُونَ عَنْ حَفْصٍ، عَنْ غَيْرِ مِسْعَرٍ. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَيُرْوَى أَنَّ أُبَيًّا كَانَ يَقْنُتُ فِي النِّصْفِ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ.
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کے آخر میں یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك، وبمعافاتك من عقوبتك، وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی، تیری سزا سے تیری معافی کی اور تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں، میں تیری تعریف شمار نہیں کر سکتا، تو اسی طرح ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ہشام حماد کے سب سے پہلے استاذ ہیں اور مجھے یحییٰ بن معین کے واسطہ سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں کہا ہے کہ ہشام سے سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے روایت نہیں کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں قنوت رکوع سے پہلے پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن یونس نے اس حدیث کو فطر بن خلیفہ سے بھی روایت کیا ہے اور فطر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے، ابن ابزی نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اور ابی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز حفص بن غیاث سے مروی ہے، انہوں نے مسعر سے، مسعر نے زبید سے، زبید نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن سے اور عبدالرحمٰن نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں رکوع سے قبل قنوت پڑھی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: سعید کی حدیث قتادہ سے مروی ہے، اسے یزید بن زریع نے سعید سے، سعید نے قتادہ سے، قتادہ نے عزرہ سے، عزرہ نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، سعید نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور ابن ابزی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، اس میں قنوت کا ذکر نہیں ہے اور نہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا۔ اور اسی طرح اسے عبدالاعلی اور محمد بن بشر العبدی نے روایت کیا ہے، اور ان کا سماع کوفہ میں عیسیٰ بن یونس کے ساتھ ہے، انہوں نے بھی قنوت کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ نیز اسے ہشام دستوائی اور شعبہ نے قتادہ سے روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ زبید کی روایت کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے روایت کیا ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے، سوائے حفص بن غیاث کی روایت کے جسے انہوں نے مسعر کے واسطے سے زبید سے نقل کیا ہے، اس میں رکوع سے پہلے قنوت کا ذکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، ہم کو اندیشہ ہے کہ حفص نے مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت کی ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ بھی مروی ہے کہ ابی بن کعب قنوت رمضان کے نصف میں پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1427]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے وتر کے آخر میں یہ کہا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سُخْطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ، أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ» اے اللہ! میں تیری ناراضی سے بچتے ہوئے تیری رضا کی پناہ میں آتا ہوں۔ تیرے مواخذے سے بچتے ہوئے تیرے عفو و کرم کی پناہ لیتا ہوں۔ میں تجھ سے (یعنی تیرے غیظ و غضب سے) تیری (رحمت کی) امان چاہتا ہوں۔ میں تیری تعریفیں شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے جیسے کہ تو نے خود اپنی صفات بیان فرمائی ہیں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہشام، حماد کے قدیم ترین استاذ ہیں۔ اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ان (ہشام) سے سوائے حماد بن سلمہ کے اور کسی نے روایت نہیں کی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔ یعنی وتر میں۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: عیسیٰ بن یونس نے یہ حدیث بھی فطر بن خلیفہ سے، انہوں نے زبید سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزی سے، وہ اپنے والد سے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا حدیث کے مثل روایت کی ہے۔ اور حفص بن غیاث سے مروی ہے، وہ مسعر سے، وہ زبید سے، وہ سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، وہ اپنے والد سے، وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر میں رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سعید بن ابی عروبہ کی (مذکورہ بالا) روایت جو انہوں نے قتادہ سے روایت کی ہے اس کو یزید بن زریع نے سعید سے، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے عزرہ سے، انہوں نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، مگر اس میں قنوت کا ذکر کیا نہ ابی بن کعب کا (یعنی مرسل ہے)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کو عبدالاعلیٰ اور محمد بن بشر عبدی نے بھی ایسے ہی روایت کیا ہے۔ اور ان (محمد بن بشر) کا سماع عیسیٰ بن یونس کے ساتھ کوفہ میں ثابت ہے۔ انہوں نے قنوت کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور اس کو ہشام دستوائی اور شعبہ نے بھی قتادہ سے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے قنوت کا ذکر نہیں کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اور حدیث زبید کو سلیمان اعمش، شعبہ، عبدالملک بن ابی سلیمان اور جریر بن حازم سبھی نے زبید سے روایت کیا ہے، مگر ان میں سے کسی نے بھی قنوت کا ذکر نہیں کیا سوائے حفص بن غیاث کے جسے انہوں نے بواسطہ مسعر، زبید سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حفص کی یہ حدیث مشہور نہیں ہے، اندیشہ ہے کہ مسعر کے علاوہ کسی اور سے روایت ہو گی۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں، روایت ہے کہ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نصف رمضان میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 1427]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تخريج: سنن الترمذی/الدعوات 113 (3566)، سنن النسائی/قیام اللیل 42 (1748)، سنن النسائی/قیام اللیل 41 (1739) سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 117 (1179)، (تحفة الأشراف:10207)، وقد أخرجہ: حم (1/96، 118، 150) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1276)
أخرجه الترمذي (3566 وسنده صحيح) ورواه النسائي (1448 وسنده صحيح) وابن ماجه (1179)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں