🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
173. باب تشميت العاطس في الصلاة
باب: نماز میں چھینک کے جواب میں «یرحمک اللہ» کہنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 931
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ النَّسَائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمْتُ أُمُورًا مِنْ أُمُورِ الْإِسْلَامِ، فَكَانَ فِيمَا عَلِمْتُ أَنْ قَالَ لِي:" إِذَا عَطَسْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ، وَإِذَا عَطَسَ الْعَاطِسُ فَحَمِدَ اللَّهَ فَقُلْ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ"، قَالَ: فَبَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ فَحَمِدَ اللَّهَ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ رَافِعًا بِهَا صَوْتِي، فَرَمَانِي النَّاسُ بِأَبْصَارِهِمْ حَتَّى احْتَمَلَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ بِأَعْيُنٍ شُزْرٍ؟ قَالَ: فَسَبَّحُوا، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ الْمُتَكَلِّمُ؟،" قِيلَ: هَذَا الْأَعْرَابِيُّ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" إِنَّمَا الصَّلَاةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَذِكْرِ اللَّهِ جَلَّ وَعَزَّ، فَإِذَا كُنْتَ فِيهَا فَلْيَكُنْ ذَلِكَ شَأْنُكَ". فَمَا رَأَيْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو مجھے اسلام کی کچھ باتیں معلوم ہوئیں چنانچہ جو باتیں مجھے معلوم ہوئیں ان میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جب تمہیں چھینک آئے تو «الحمد الله» کہو اور کوئی دوسرا چھینکے اور «الحمد الله» کہے تو تم «يرحمك الله» کہو۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک نماز میں کھڑا تھا کہ اسی دوران ایک شخص کو چھینک آئی اس نے «الحمد الله» کہا تو میں نے «يرحمك الله» بلند آواز سے کہا تو لوگوں نے مجھے ترچھی نظروں سے دیکھنا شروع کیا تو میں اس پر غصہ میں آ گیا، میں نے کہا: تم لوگ میری طرف کنکھیوں سے کیوں دیکھتے ہو؟ تو ان لوگوں نے «سبحان الله» کہا، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: (دوران نماز) کس نے بات کی تھی؟، لوگوں نے کہا: اس اعرابی نے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو بلایا اور مجھ سے فرمایا: نماز تو بس قرآن پڑھنے اور اللہ کا ذکر کرنے کے لیے ہے، تو جب تم نماز میں رہو تو تمہارا یہی کام ہونا چاہیئے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر شفیق اور مہربان کبھی کسی معلم کو نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 931]
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اسلام کے کچھ احکام جان لیے۔ ان میں سے ایک یہ بھی جانا کہ مجھے کہا گیا: جب تمہیں چھینک آئے تو «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہو اور جب کوئی دوسرا چھینک مارے اور «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہے، تو تم اسے «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» اللہ تم پر رحم فرمائے سے جواب دو۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز میں کھڑا تھا کہ ایک شخص نے چھینک ماری اور اس نے «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں کہا، میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللّٰهُ» اللہ تم پر رحم فرمائے اور اونچی آواز سے کہا، تو لوگوں نے مجھے تیز نظروں سے دیکھا۔ اس سے مجھے غصہ آیا اور میں نے کہا: تمہیں کیا ہوا ہے کہ مجھے گھور گھور کے دیکھ رہے ہو؟ اس پر انہوں نے «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے کہا۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: باتیں کون کر رہا تھا؟ کہا گیا کہ یہ بدوی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا: نماز میں قرآن مجید کی تلاوت ہوتی ہے اور اللہ کا ذکر، تو جب تم نماز میں ہوا کرو تو تمہارا یہی کام ہونا چاہیے۔ الغرض میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی شفیق معلم نہیں دیکھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 931]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11379) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (فلیح بن سلیمان میں سوء حفظ ہے، انہوں نے اس حدیث میں آدمی کے چھینکنے کے بعد الحمد للہ کہنے کا تذکرہ کیا ہے، معاویہ سلمی کا قول: «فكان فيما علمت ... فقل: يرحمك الله» نیز یحییٰ بن ابی کثیر کی سابقہ حدیث یہ دونوں باتیں مذکور نہیں ہیں، اور اس کا سیاق فلیح کے سیاق سے زیادہ کامل ہے، فی الجملہ فلیح کی روایت اوپر کی روایت کے ہم معنی ہے، لیکن زائد اقوال میں فلیح قابل استناد نہیں ہیں، خود ابوداود نے ان کے بارے میں کہا ہے: «صدوق لا يحتج به» واضح رہے کہ فلیح بخاری و مسلم کے روای ہیں (ھدی الساری: 435) ابن معین، ابو حاتم اور نسائی نے ان کی تضعیف کی ہے، اور ابن حجر نے «صدوق كثير الخطا» کہا ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود: 9؍ 353- 354)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (990)
أخرجه البخاري في جزء القراء ة (68 وسنده حسن) فليح بن سليمان وثقه الجمھور

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 924
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ، وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ قَدْ أَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ". فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (پہلے) ہم نماز میں سلام کیا کرتے تھے اور کام کاج کی باتیں کر لیتے تھے، تو (ایک بار) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب نہیں دیا تو مجھے پرانی اور نئی باتوں کی فکر دامن گیر ہو گئی ۱؎، جب آپ نماز پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے، نیا حکم نازل کرتا ہے، اب اس نے نیا حکم یہ دیا ہے کہ نماز میں باتیں نہ کرو، پھر آپ نے میرے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 924]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نماز میں سلام کہا کرتے تھے اور اپنی ضرورت کی بات بھی لوگوں سے کر لیتے تھے، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ اس سے مجھے بہت غم لاحق ہوا اور اگلے پچھلے اندیشوں نے آ لیا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: اللہ عزوجل اپنے احکام میں جو چاہتا ہے تبدیلی کرتا ہے۔ اس نے اب یہ حکم دیا ہے کہ نماز کے دوران میں بات چیت نہ کیا کرو۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 924]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏ن / الکبری/ السہو 113 (559)، (تحفة الأشراف: 9272)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/377)، 435، 463) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی میں سوچنے لگا کہ مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد تو نہیں ہوئی ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (989)
أخرجه النسائي (1222 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 930
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَعْنَى، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَاثُكْلَ أُمِّيَاهُ، مَا شَأْنُكُمْ تَنْظُرُونَ إِلَيَّ؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصَمِّتُونِي، فَقَالَ عُثْمَانُ: فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ يُسَكِّتُونِي لَكِنِّي سَكَتُّ، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي وَأُمِّي مَا ضَرَبَنِي وَلَا كَهَرَنِي وَلَا سَبَّنِي، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَحِلُّ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ هَذَا إِنَّمَا هُوَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ"، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَوْمٌ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَقَدْ جَاءَنَا اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ، وَمِنَّا رِجَالٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ، قَالَ:" فَلَا تَأْتِهِمْ"، قَالَ: قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَتَطَيَّرُونَ، قَالَ:" ذَاكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ فَلَا يَصُدُّهُمْ"، قُلْتُ: وَمِنَّا رِجَالٌ يَخُطُّونَ، قَالَ:" كَانَ نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ يَخُطُّ، فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ"، قَالَ: قُلْتُ جَارِيَةٌ لِي كَانَتْ تَرْعَى غُنَيْمَاتٍ قِبَلَ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ: إِذْ اطَّلَعْتُ عَلَيْهَا اطِّلَاعَةً فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْهَا، وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظُمَ ذَاكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلَا أُعْتِقُهَا؟ قَالَ:" ائْتِنِي بِهَا"، قَالَ: فَجِئْتُهُ بِهَا، فَقَالَ:" أَيْنَ اللَّهُ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" مَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ:" أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ".
معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، قوم میں سے ایک شخص کو چھینک آئی تو میں نے (حالت نماز میں) «يرحمك الله» کہا، اس پر لوگ مجھے گھورنے لگے، میں نے (اپنے دل میں) کہا: تمہاری مائیں تمہیں گم پائیں، تم لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے رانوں کو تھپتھپانا شروع کر دیا تو میں سمجھ گیا کہ یہ لوگ مجھے خاموش رہنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ جب میں نے انہیں دیکھا کہ وہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں تو میں خاموش ہو گیا، میرے ماں باپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو نہ تو آپ نے مجھے مارا، نہ ڈانٹا، نہ برا بھلا کہا، صرف اتنا فرمایا: نماز میں اس طرح بات چیت درست نہیں، یہ تو بس تسبیح، تکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے، یا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں (ابھی) نیا نیا مسلمان ہوا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ہم کو (جاہلیت اور کفر سے نجات دے کر) دین اسلام سے مشرف فرمایا ہے، ہم میں سے بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس مت جاؤ۔ میں نے کہا: ہم میں سے بعض لوگ بد شگونی لیتے ہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے دلوں کا وہم ہے، یہ انہیں ان کے کاموں سے نہ روکے۔ پھر میں نے کہا: ہم میں سے کچھ لوگ لکیر (خط) کھینچتے ہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبیوں میں سے ایک نبی خط (لکیریں) کھینچا کرتے تھے، اب جس کسی کا خط ان کے خط کے موافق ہوا، وہ صحیح ہے۔ میں نے کہا: میرے پاس ایک لونڈی ہے، جو احد اور جوانیہ کے پاس بکریاں چراتی تھی، ایک بار میں (اچانک) پہنچا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری کو لے کر چلا گیا ہے، میں بھی انسان ہوں، مجھے افسوس ہوا جیسے اور لوگوں کو افسوس ہوتا ہے تو میں نے اسے ایک زور کا طمانچہ رسید کر دیا تو یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزری، میں نے عرض کیا: کیا میں اس لونڈی کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ، میں اسے لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس لونڈی سے) پوچھا: اللہ کہاں ہے؟، اس نے کہا: آسمان کے اوپر ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے آزاد کر دو یہ مؤمنہ ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 930]
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور قوم میں سے ایک آدمی نے چھینک ماری تو میں نے کہا: «يَرْحَمُكَ اللَّهُ» اللہ تم پر رحم فرمائے۔ اس پر لوگوں نے مجھے تیز نظروں سے دیکھا تو میں نے کہا: افسوس! میری ماں کا مجھے گم کرنا! تمہیں کیا ہوا ہے کہ مجھے اس طرح دیکھ رہے ہو؟ (اس پر) ان لوگوں نے اپنے ہاتھ اپنی رانوں پر مارنے شروع کر دیے، تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ مجھے خاموش کرا رہے ہیں۔ (استاد) عثمان نے بیان کیا کہ جب میں نے انہیں دیکھا کہ یہ لوگ مجھے خاموش کرا رہے ہیں (تو مجھے غصہ تو آیا) مگر میں خاموش رہا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی، میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مارا نہ ڈانٹا، نہ سخت سست کہا، بلکہ فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں لوگوں کی سی عام بات چیت جائز نہیں ہے، اس میں تسبیح ہوتی ہے، تکبیر ہوتی ہے اور قرآن مجید پڑھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی قسم کی بات فرمائی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ نئے نئے جاہلیت سے باہر آئے ہیں اور اللہ نے ہمیں اسلام (کی نعمت) سے نوازا ہے، تو ہم میں کچھ لوگ ہیں جو کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان کے پاس نہ جایا کرو۔ میں نے عرض کیا: ہم میں کچھ لوگ (پرندوں وغیرہ سے) بدفالی لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے دلوں کے اوہام ہیں، یہ چیزیں ان کے لیے رکاوٹ نہیں بننی چاہییں۔ میں نے عرض کیا: ہم میں کچھ لوگ ہیں جو لکیریں کھینچتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سابقہ انبیاء میں سے ایک نبی تھے جو لکیریں کھینچا کرتے تھے، تو جس کی لکیریں ان کے موافق ہوں وہ تو صحیح ہو سکتی ہیں۔ (لیکن اب یہ جاننا مشکل ہے۔) میں نے کہا: میری ایک لونڈی ہے جو احد اور جوانیہ کی اطراف میں میری کچھ بکریاں چرایا کرتی تھی، میں نے ایک بار اس پر چھاپہ مارا تو دیکھا کہ بھیڑیا ان میں سے ایک بکری لے گیا ہے اور میں بھی آدم کی اولاد میں سے ہوں، جس طرح انہیں افسوس ہوتا ہے مجھے بھی ہوا تو میں نے اسے تھپڑ دے مارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو میرے لیے بڑا بھاری اور برا عمل جانا۔ میں نے کہا: کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ چنانچہ میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمان میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو، بلاشبہ یہ مومنہ ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 930]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 7 (537)، والسلام 35 (537)، سنن النسائی/السھو 20 (1219)، (تحفة الأشراف: 11378)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العتق 6 (8) مسند احمد (5/447، 448، 449)، سنن الدارمی/الصلاة 177 (1543) ویأتی ہذا الحدیث فی الأیمان (3282)، وفی الطب (3909) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (537)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 949
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا يُكَلِّمُ الرَّجُلَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ: وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238" فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جو چاہتا نماز میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «وقوموا لله قانتين» اللہ کے لیے چپ چاپ کھڑے رہو (سورۃ البقرہ: ۲۳۸) تو ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 949]
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ابتدائے اسلام میں) ہمارا ایک ساتھی نماز کے دوران میں اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا۔ حتیٰ کہ آیت کریمہ ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] نازل ہوئی۔ یعنی اللہ کے حضور خاموش باادب ہو کے کھڑے ہوا کرو۔ چنانچہ ہمیں خاموشی کا حکم دیا گیا اور بات چیت سے روک دیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العمل في الصلاة 2 (1200)، وتفسیر البقرة 42 (4534)، صحیح مسلم/المساجد 7 (539)، سنن الترمذی/الصلاة 185 (405)، وتفسیر البقرة (2986)، سنن النسائی/السھو 20 (1220)، (تحفة الأشراف: 3661)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/368) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1200) صحيح مسلم (539)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں