سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
160. . باب : ما جاء في الصلاة قبل صلاة العيد وبعدها
باب: عید سے پہلے اور اس کے بعد نماز پڑھنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 1291
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمُ الْعِيدَ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف گئے تو آپ نے لوگوں کو عید کی نماز پڑھائی، اور اس سے پہلے یا بعد کوئی اور نماز نہ پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1291]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر (میدان میں) تشریف لے گئے اور لوگوں کو نماز عید پڑھائی، اس سے پہلے یا بعد میں کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1291]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 8 (964)، 26 (989)، الزکاة 21 (1431)، اللباس 57 (5881)، 59 (5883)، صحیح مسلم/العیدین 2 (884)، سنن ابی داود/الصلاة 256 (1159)، سنن الترمذی/الصلاة 270 (الجمعة 35) (537)، سنن النسائی/العیدین 28 (1588)، (تحفة الأشراف: 5558)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/ 280، 340، 355)، سنن الدارمی/الصلاة 219 (1646) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1273
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ صَلَّى قَبْلَ الْخُطْبَةِ، ثُمَّ خَطَبَ، فَرَأَى أَنَّهُ لَمْ يُسْمِعِ النِّسَاءَ، فَأَتَاهُنَّ فَذَكَّرَهُنَّ، وَوَعَظَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، وَبِلَالٌ قَائِلٌ بِيَدَيْهِ هَكَذَا، فَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ تُلْقِي الْخُرْصَ وَالْخَاتَمَ وَالشَّيْءَ".
عطاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ عورتوں تک آواز نہیں پہنچ سکی ہے لہٰذا آپ ان کے پاس آئے، ان کو (بھی) وعظ و نصیحت کی، اور انہیں صدقہ و خیرات کا حکم دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا دامن پھیلائے ہوئے تھے جس میں عورتیں اپنی بالیاں، انگوٹھیاں اور دیگر سامان ڈالنے لگیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1273]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے (عید کی) نماز پڑھی، پھر خطبہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے محسوس کیا کہ میں عورتوں کو (اپنی بات) نہیں سنا سکا (کیوں کہ وہ دور تھیں) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ اس طرح کیے ہوئے تھے، چنانچہ (ہر) عورت نے بالی، انگوٹھی اور (ایسی ہی) چیز (جو کسی کے پاس تھی کپڑے میں) ڈالنا شروع کر دی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1273]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 16 (975)، 18 (977)، الزکاة 33 (1449)، النکاح 125 (5249)، اللباس 56 (5880)، الاعتصام 16 (7325)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1142)، سنن النسائی/العیدین 13 (1570)، (تحفة الأشراف: 5883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/220، 226، 242، 345، 346، 357، 368)، سنن الدارمی/الصلاة 218 (1644) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورتوں کو نماز عید کے لئے عید گاہ جانا صحیح ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے باپردہ اور کنواری عورتوں کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیا یہاں تک کہ حائضہ عورتوں کو بھی، اور فرمایا: وہ مسجد کے باہر رہ کر دعا میں شریک رہیں، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے عیدگاہ میں نماز عید پڑھے اس کے بعد خطبہ دے، اور نماز عیدین کے بارے میں اختلاف ہے کہ واجب ہے یا سنت، اور حق یہ ہے کہ واجب ہے اور بعضوں نے کہا آیت: «فصل لربك و انحر» سے عید کی نماز مراد ہے اور جب عید کے دن جمعہ آ جائے تو عید کی نماز پڑھنے سے جمعہ واجب نہیں رہتا یعنی جمعہ کا وجوب ساقط ہو جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم
حدیث نمبر: 1274
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى يَوْمَ الْعِيدِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1274]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”عید کے دن بغیر اذان اور بغیر اقامت کے (عید کی) نماز ادا فرمائی۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1274]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العیدین 8 (962)، صحیح مسلم/العیدین (884)، سنن ابی داود/الصلاة 250 (1147)، (تحفة الأشراف: 5698)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/227، 242، 285، 331، 345، 346) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس پر سب کا اتفاق ہے اور صحیح میں جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی روایت ہے، اس لئے نماز عید میں اذان یا اقامت کہنا بدعت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم