🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
45. باب : الانتفاع بالعلم والعمل به
باب: علم سے نفع اٹھانے اور اس پر عمل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 257
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ ، عَنْ نَهْشَلٍ ، عَنْ الضَّحَّاكِ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: لَوْ أَنَّ أَهْلَ الْعِلْمِ صَانُوا الْعِلْمَ وَوَضَعُوهُ عِنْدَ أَهْلِهِ لَسَادُوا بِهِ أَهْلَ زَمَانِهِمْ، وَلَكِنَّهُمْ بَذَلُوهُ لِأَهْلِ الدُّنْيَا لِيَنَالُوا بِهِ مِنْ دُنْيَاهُمْ فَهَانُوا عَلَيْهِمْ، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ آخِرَتِهِ كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ، وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا، لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهَا هَلَكَ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اگر اہل علم علم کی حفاظت کرتے، اور اس کو اس کے اہل ہی کے پاس رکھتے تو وہ اپنے زمانہ والوں کے سردار ہوتے، لیکن ان لوگوں نے دنیا طلبی کے لیے اہل دنیا پر علم کو نچھاور کیا، تو ان کی نگاہوں میں ذلیل ہو گئے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنی تمام تر سوچوں کو ایک سوچ یعنی آخرت کی سوچ بنا لیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے دنیاوی غموں کے لیے کافی ہو گا، اور جس کی تمام تر سوچیں دنیاوی احوال میں پریشان رہیں، تو اللہ تعالیٰ کو کچھ پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہو جائے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 257]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر علماء علم کی حفاظت کرتے اور اسے اہل لوگوں کے سامنے پیش کرتے تو (اس کی برکت سے) اپنے زمانے والوں کے سردار بن جاتے، لیکن انہوں نے علم دنیا داروں کی خدمت میں پیش کر دیا تاکہ اس کے ذریعے سے ان کی دنیا میں سے کچھ حاصل کر لیں، چنانچہ وہ ان (کی نگاہوں) میں بے قدر ہو گئے۔ میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد مبارک سنا ہے: جس شخص نے اپنے تمام تفکرات کو ایک ہی فکر یعنی فکرِ آخرت میں ڈھال لیا، اللہ اسے دنیا کے تفکرات سے بچا لیتا ہے، اور جسے مختلف معاملاتِ دنیاوی کی فکر رہتی ہے (اور وہ ان میں مشغول ہو کر آخرت کو فراموش کر دیتا ہے) اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی کہ وہ کس وادی میں جا کر تباہ ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9169، ومصباح الزجاجة: 105) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس سند میں نہشل متروک ہے راوی، مناکیر روایت کرتا ہے، اس لئے حدیث کا پہلا ٹکڑا ضعیف ہے، لیکن حدیث کا دوسرا ٹکڑا: «من جعل الهموم» شواہد کی وجہ سے حسن ہے، جو اسی سند سے مؤلف کے یہاں کتاب الزہد (4106) میں آ رہا ہے، نیز ملاحظہ ہو: كتاب الزهد لوكيع بن الجراح، تحقیق دکتور عبد الرحمن الفریوائی)
وضاحت: ۱؎: یعنی اس حالت میں اللہ تعالیٰ اس سے اپنی مدد اٹھا لے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف جدًا
وانظر الحديث الآتي (4106)
نهشل بن سعيد: متروك،كذبه إسحاق بن راهويه (تقريب: 7198)
وروي ابن أبي عاصم في الزھد (166) بسند صحيح عن ابن عمر قال قال رسول اللّٰه ﷺ: ((من جعل الھموم ھمًا واحدًا كفاه اللّٰه ھمه من أمر دنياه وآخرته وجعل غناه في قلبه ومن تشعبت به الھموم فلا يبالي اللّٰه في أي أودية الدنيا ھلك)) و ھذا يغني عنه۔
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 385

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4106
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , وَالْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ النَّصْرِيِّ , عَنْ نَهْشَلٍ , عَنْ الضَّحَّاكِ , عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ , قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ جَعَلَ الْهُمُومَ هَمًّا وَاحِدًا هَمَّ الْمَعَادِ , كَفَاهُ اللَّهُ هَمَّ دُنْيَاهُ , وَمَنْ تَشَعَّبَتْ بِهِ الْهُمُومُ فِي أَحْوَالِ الدُّنْيَا , لَمْ يُبَالِ اللَّهُ فِي أَيِّ أَوْدِيَتِهِ هَلَكَ".
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے تمہارے محترم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اپنے سارے غموں کو آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کے غم کے لیے کافی ہے، اور جو دنیاوی معاملات کے غموں اور پریشانیوں میں الجھا رہا، تو اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پروا نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوا۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 4106]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جو شخص سارے تفکرات کو جمع کر کے ایک ہی فکر، یعنی آخرت کی فکر میں ڈھال لے، اللہ اس کو دنیاوی تفکرات سے بے نیاز کر دیتا ہے اور جسے دنیا کے معاملات کے تفکرات مختلف گھاٹیوں میں لیے پھریں، اللہ کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ (ان تفکرات کی) کون سی وادی میں ہلاک ہوتا ہے۔ [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 4106]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 9169، ومصباح الزجاجة: 1455) (حسن)» ‏‏‏‏ (سند میں نہشل متروک راوی ہیں، لیکن دوسرے طریق سے یہ حسن ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف جدًا
انظر الحديث السابق (257)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 524

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں