سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب : التغليظ في قتل مسلم ظلما
باب: مسلمان کو ناحق قتل کرنے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے خون کا فیصلہ کیا جائے گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2615]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے خون کے مقدمات کے فیصلے ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 48 (6533)، الدیات 1 (6864)، صحیح مسلم/القسامة 8 (1678)، سنن الترمذی/الدیات 8 (1396، 1397)، سنن النسائی/تحریم الدم 2 (3997)، (تحفة الأشراف: 9246)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/388، 441، 442) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور جس نے کسی کو ظلم سے قتل کیا ہو گا، اس کو سزا دی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2617
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْأَزْهَرِ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَّلُ مَا يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاءِ".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے لوگوں کے درمیان خون کا فیصلہ کیا جائے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2617]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں میں سب سے پہلے خون کے مقدمات کے فیصلے ہوں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/تحریم الدم 2 (3996)، (تحفة الأشراف: 9275)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 48 (6533)، الدیات ا (6864)، صحیح مسلم/القسامة 8 (1678)، سنن الترمذی/الدیات 8 (1396، 1397)، مسند احمد (2/873) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح