سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
124. . باب في الحائض كيف تغتسل
باب: حائضہ عورت غسل کیسے کرے؟
حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا وَكَانَتْ حَائِضًا:" انْقُضِي شَعْرَكِ، وَاغْتَسِلِي"، قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ:" انْقُضِي رَأْسَكِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنے بال کھول لو، اور غسل کرو“ ۱؎، علی بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا: ”اپنا سر کھول لو“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 641]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حیض سے فارغ ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بال کھول دو اور غسل کرو۔“ علی بن محمد کی روایت میں ہے: ”اپنا سر کھول دو۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17285، ومصباح الزجاجة: 241)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 16 (316)، 17 (317)، الحج 31 (1556)، المغازي 77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1781)، سنن النسائی/الطہارة 151 (243)، المناسک 58 (2765)، مسند احمد (6/164، 177، 191، 246) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل حیض میں سر کا کھولنا ضروری ہے، اس میں بہ نسبت غسل جنابت کے زیادہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ جنابت کے غسل میں سر کا کھولنا ضروری نہ رکھا، کیونکہ وہ اکثر ہوا کرتا ہے، اور بار بار کھولنے سے عورتوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور حیض کا غسل مہینے میں ایک بار ہوتا ہے، اس میں سر کھولنے سے کسی طرح کا حرج نہیں بلکہ ہر ایک عورت مہینے میں ایک دوبار اپنا سر کھولتی، اور بالوں کو دھوتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2911
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِالشَّجَرَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ، أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ وَتُهِلَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو مقام شجرہ میں نفاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ ”وہ غسل کر کے تلبیہ پکاریں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2911]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: مقامِ شجرہ (ذوالحلیفہ کے مقام) پر حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں ولادت ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”انہیں غسل کرنے اور احرام باندھنے کا حکم دیں۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2911]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 16 (1209)، سنن ابی داود/الحج 10 (1743)، سنن النسائی/الحیض 24 (215)، الحج 57 (2761)، (تحفة الأشراف: 17502)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 41 (127، 128)، سنن الدارمی/المناسک 11 (1845)، 34 (1892) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: شجرہ: ذوالحلیفہ میں ایک درخت تھا جس کی مناسبت سے اس جگہ کا نام شجرہ پڑ گیا۔ اس وقت عوام میں یہ مقام «بئر علی» کے نام سے مشہور ہے۔ صحیح بخاری اورصحیح مسلم میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب انہیں حیض آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ”ہر ایک کام کرو جو حاجی کرتے ہیں، فقط بیت اللہ (خانہ کعبہ) کا طواف نہ کرو جب تک کہ غسل نہ کر لو“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ :" أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ، فَوَلَدَتْ بِالشَّجَرَةِ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْ يَأْمُرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ، ثُمَّ تُهِلَّ بِالْحَجِّ، وَتَصْنَعَ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ، إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفُ بِالْبَيْتِ".
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے، ان کے ساتھ (ان کی بیوی) اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں، ان سے مقام شجرہ (ذوالحلیفہ) میں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ کو اس کی اطلاع دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اسماء سے کہیں کہ ”وہ غسل کریں، پھر تلبیہ پکاریں اور احرام باندھیں، اور وہ تمام کام انجام دیں، جو دوسرے لوگ کریں البتہ وہ بیت اللہ کا طواف نہ کریں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2912]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے ساتھ حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ مقامِ شجرہ (ذوالحلیفہ) پر ان کے ہاں محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”انہیں (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو) حکم دیں کہ غسل کر کے حج کا احرام باندھ لیں، پھر وہ سب کام کریں جو حاجی کرتا ہے مگر بیت اللہ کا طواف نہ کریں۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الحج 26 (2665)، (تحفة الأشراف: 6617) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: طواف ایک ایسی عبادت ہے جس میں طہارت شرط ہے، اسی وجہ سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسماء رضی اللہ عنہا کو طواف سے روک دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2913
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا، أَنْ تَغْتَسِلَ، وَتَسْتَثْفِرَ بِثَوْبٍ وتُهِلَّ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی (ولادت کی) وجہ سے نفاس (کا خون) آیا، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہلا بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غسل کرنے، اور کپڑے کا لنگوٹ کس کر احرام باندھ لینے کا حکم دیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2913]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں حضرت محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انہوں نے (مسئلہ معلوم کرنے کے لیے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا (کہ اب کیا کروں؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”غسل کریں اور ایک کپڑے کو لنگوٹ کی طرح باندھ لیں اور لبیک پکاریں (احرام باندھ لیں۔)““ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2913]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 16 (1210)، سنن ابی داود/الحج 10 (1743)، سنن النسائی/الحیض 24 (215)، الحج 57 (2762، 2763)، (تحفة الأشراف: 2600)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 41 (127، 128)، سنن الدارمی/المناسک 11 (1845) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ أَوْ قَرِيبًا مِنْ سَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ:" مَا لَكِ، أَنَفِسْتِ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا، غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ"، قَالَتْ: وَضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ بِالْبَقَرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج کرنا تھا، جب ہم مقام سرف میں تھے یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میں رو رہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا ہے؟ میں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر لکھ دیا ہے، تم حج کے سارے اعمال ادا کرو، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2963]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے تو ہمارا ارادہ صرف حج کا تھا۔ جب ہم سرف (مقام) پر یا سرف کے قریب پہنچے تو مجھے حیض آگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیا ہوا؟ کیا حیض آ گیا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی بیٹیوں پر لکھی ہے، تو حج کے سارے اعمال ادا کر مگر بیت اللہ کا طواف نہیں کرنا۔““ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیض 1 (294)، الأضاحي 3 (5548)، 10 (5559)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1778)، سنن النسائی/الحج 58 (2764)، (تحفة الأشراف: 17482)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج 74 (223)، مسند احمد (3/394)، سنن الدارمی/المناسک 62 (1945) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 2999
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو إِسْحَاق الشَّافِعِيُّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ شَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ، أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ، فَيُعْمِرَهَا مِنَ التَّنْعِيمِ".
عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سوار کر کے لے جائیں، اور انہیں تنعیم سے عمرہ کرائیں۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2999]
حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کر تنعیم سے عمرہ کرا دیں۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 2999]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 6 (1784)، الجہاد 125 (2985)، صحیح مسلم/الحج 17 (1212)، سنن الترمذی/الحج 91 (934)، (تحفة الأشراف: 9687)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج 81 (1995)، مسند احمد (1/197)، سنن الدارمی/المناسک 41 (1904) (صحیح)»
وضاحت: تنعیم: مسجد الحرام سے تین میل (۵ کلومیٹر) کے فاصلہ پر ایک مقام ہے، جہاں پر اس وقت مسجد عائشہ کے نام سے مسجد تعمیر ہے۔
۲؎: محرم سے مراد شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی چچا ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار، عمرے کا احرام حرم سے نکل کر باندھنا چاہئے، یہ مقام بہ نسبت اور مقاموں کے قریب ہے، اس لئے آپ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔
۲؎: محرم سے مراد شوہر ہے یا وہ شخص جس سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو مثلاً باپ دادا، نانا، بیٹا، بھائی چچا ماموں، بھتیجا، داماد وغیرہ یا رضاعت سے ثابت ہونے والے رشتہ دار، عمرے کا احرام حرم سے نکل کر باندھنا چاہئے، یہ مقام بہ نسبت اور مقاموں کے قریب ہے، اس لئے آپ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو وہیں سے عمرہ کرانے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3000
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ نُوَافِي هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ، لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ"، قَالَتْ: فَكَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ، فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ. (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَتْ: فَخَرَجْنَا حَتَّى قَدِمْنَا مَكَّةَ، فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ، وَأَنَا حَائِضٌ لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِي، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" دَعِي عُمْرَتَكِ، وَانْقُضِي رَأْسَكِ، وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ"، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ، وَقَدْ قَضَى اللَّهُ حَجَّنَا أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْدَفَنِي وَخَرَجَ إِلَى التَّنْعِيمِ، فَأَحْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَقَضَى اللَّهُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا، وَلَمْ يَكُنْ فِي ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَدَقَةٌ وَلَا صَوْمٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) اس حال میں نکلے کہ ہم ذی الحجہ کے چاند کا استقبال کرنے والے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو عمرہ کا تلبیہ پکارنا چاہے، پکارے، اور اگر میں ہدی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا تلبیہ پکارتا“، تو لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور کچھ ایسے جنہوں نے حج کا، اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، ہم نکلے یہاں تک کہ مکہ آئے، اور اتفاق ایسا ہوا کہ عرفہ کا دن آ گیا، اور میں حیض سے تھی، عمرہ سے ابھی حلال نہیں ہوئی تھی، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا عمرہ چھوڑ دو، اور اپنا سر کھول لو، اور بالوں میں کنگھا کر لو، اور نئے سرے سے حج کا تلبیہ پکارو“، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، پھر جب محصب کی رات (بارہویں ذی الحجہ کی رات) ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج پورا کرا دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا، وہ مجھے اپنے پیچھے اونٹ پر بیٹھا کر تنعیم لے گئے، اور وہاں سے میں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا (اور آ کر اس عمرے کے قضاء کی جو حیض کی وجہ سے چھوٹ گیا تھا) اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے حج اور عمرہ دونوں کو پورا کرا دیا، ہم پر نہ «هدي» (قربانی) لازم ہوئی، نہ صدقہ دینا پڑا، اور نہ روزے رکھنے پڑے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 3000]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) روانہ ہوئے اور ذوالحجہ کا چاند چڑھنے ہی والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھنا چاہے باندھ لے۔ اگر میں قربانی نہ لایا ہوتا تو میں بھی «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ عمرے کی نیت سے پکارتا۔“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”تو لوگوں میں سے کسی نے عمرے کا احرام باندھا، اور کسی نے حج کا احرام باندھا۔ میں عمرے کا احرام باندھنے والوں میں شامل تھی۔“ انہوں نے فرمایا: ”ہم لوگ روانہ ہوئے حتیٰ کہ مکہ شریف پہنچ گئے۔ ابھی میں حیض سے تھی کہ عرفہ کا دن آ پہنچا، اور میں نے ابھی عمرے کا احرام نہیں کھولا تھا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صورت حال عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا عمرہ رہنے دو، سر کے بال کھول کر کنگھی کر لو، اور حج کا احرام باندھ لو۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے ایسے ہی کیا۔ جب حصبہ کی رات آئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج مکمل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ وہ مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر تنعیم لے گئے۔ (اور میں نے وہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کیا۔) چنانچہ میں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج اور عمرہ دونوں پورے کر دیے اور اس میں نہ قربانی تھی، نہ صدقہ اور نہ روزے۔““ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 3000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 5 (1783)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف: 17048) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ «هدي» حج تمتع کرنے والے پر واجب ہوتی ہے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا حج حج افراد تھا کیونکہ حیض آ جانے کی وجہ سے انہیں عمرہ چھوڑ دینا پڑا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3072
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" حَاضَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ بَعْدَ مَا أَفَاضَتْ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَحَابِسَتُنَا هِيَ؟، فَقُلْتُ: إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ، ثُمَّ حَاضَتْ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَلْتَنْفِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا طواف افاضہ کے بعد حائضہ ہو گئیں، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں روک لے گی“؟ میں نے کہا: وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں اس کے بعد حائضہ ہوئی ہیں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر چلو روانہ ہو“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 3072]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو طوافِ افاضہ کے بعد حیض شروع ہو گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ ہمیں (روانگی سے) روک دے گی؟“ میں نے کہا: اس نے طوافِ افاضہ کر لیا تھا، اس کے بعد حیض شروع ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ روانہ ہو سکتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 3072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث أبيبکر بن أبيشیبة تفردبہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 16450)، وحدیث أبي سلمة أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 27 (328)، صحیح مسلم/الحج 67 (1211)، (تحفة الأشراف: 17768) وحدیث عروة أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 67 (1211)، (تحفة الأشراف: 16587)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک 85 (2003)، سنن الترمذی/الحیض 99 (391)، سنن النسائی/الحیض 23 (391)، موطا امام مالک/الحج 75 (225)، مسند احمد (6/38، 39، 82، 99، 122، 164، 175، 193، 202، 207، 213، 224)، سنن الدارمی/المناسک 73 (1958) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3073
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ، فَقُلْنَا: قَدْ حَاضَتْ، فَقَالَ:" عَقْرَى حَلْقَى، مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَنَا"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ، قَالَ:" فَلَا إِذًا مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو ہم نے کہا: انہیں حیض آ گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عقرى حلقى» ! میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ سے ہمیں رکنا پڑے گا“، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ دسویں کو طواف افاضہ کر چکی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب تو پھر ہمیں رکنے کی ضرورت نہیں، اس سے کہو کہ وہ روانہ ہو“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 3073]
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا ذکر فرمایا، تو ہم نے عرض کیا: ”وہ ایام سے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عَقْرَىٰ حَلْقَىٰ» ”بانجھ ہو! سر مونڈا جائے!“ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے قربانی کے دن طواف (افاضہ) کر لیا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تب (کوئی رکاوٹ) نہیں، اسے حکم دو کہ کوچ کرے۔“ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 3073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 151 (1771)، صحیح مسلم/17 (1211)، (تحفة الأشراف: 15946)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/224، سنن الدارمی/المناسک 73 (1958) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب حائضہ طواف افاضہ کر چکی ہو تو طواف وداع اس پر لازم نہیں ہے، اور ہم نے عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما، اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کیا ہے کہ انہوں نے طواف وداع کے لیے حائضہ کو ٹھہرنے کا حکم کیا ہے گویا انہوں نے اس کو طواف افاضہ کی طرح واجب سمجھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
حدیث نمبر: 3074
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَيْهِ، سَأَلَ عَنِ الْقَوْمِ حَتَّى انْتَهَى إِلَيَّ، فَقُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، فَأَهْوَى بِيَدِهِ إِلَى رَأْسِي فَحَلَّ زِرِّي الْأَعْلَى، ثُمَّ حَلَّ زِرِّي الْأَسْفَلَ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ ثَدْيَيَّ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ شَابٌّ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ، سَلْ عَمَّا شِئْتَ، فَسَأَلْتُهُ وَهُوَ أَعْمَى، فَجَاءَ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَقَامَ فِي نِسَاجَةٍ مُلْتَحِفًا بِهَا كُلَّمَا وَضَعَهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ رَجَعَ طَرَفَاهَا إِلَيْهِ مِنْ صِغَرِهَا، وَرِدَاؤُهُ إِلَى جَانِبِهِ عَلَى الْمِشْجَبِ، فَصَلَّى بِنَا، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنَا عَنْ حَجَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ بِيَدِهِ فَعَقَدَ تِسْعًا، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ، فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ فِي الْعَاشِرَةِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَعْمَلَ بِمِثْلِ عَمَلِهِ، فَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ، فَأَتَيْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَوَلَدَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ؟، قَالَ:" اغْتَسِلِي وَاسْتَثْفِرِي بِثَوْبٍ، وَأَحْرِمِي"، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ، قَالَ جَابِرٌ: نَظَرْتُ إِلَى مَدِّ بَصَرِي مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ بَيْنَ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَسَارِهِ مِثْلُ ذَلِك وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا وَعَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ، وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ مَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ، فَأَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ، لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ"، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهَذَا الَّذِي يُهِلُّونَ بِهِ، فَلَمْ يَرُدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْهُ، وَلَزِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلْبِيَتَهُ، قَالَ جَابِرٌ: لَسْنَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ، لَسْنَا نَعْرِفُ الْعُمْرَةَ، حَتَّى إِذَا أَتَيْنَا الْبَيْتَ مَعَهُ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا، ثُمَّ قَامَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، فَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، فَكَانَ أَبِي يَقُولُ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ذَكَرَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الْبَيْتِ فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، ثُمَّ خَرَجَ مِنَ الْبَاب: إِلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ الصَّفَا قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ، فَبَدَأَ بِالصَّفَا فَرَقِيَ عَلَيْهِ، حَتَّى رَأَى الْبَيْتَ، فَكَبَّرَ اللَّهَ، وَهَلَّلَهُ، وَحَمِدَهُ، وَقَالَ:" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ"، ثُمَّ دَعَا بَيْنَ ذَلِكَ، وَقَالَ: مِثْلَ هَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ إِلَى الْمَرْوَةِ فَمَشَى حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ رَمَلَ فِي بَطْنِ الْوَادِي، حَتَّى إِذَا صَعِدَتَا يَعْنِي قَدَمَاهُ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ، فَفَعَلَ عَلَى الْمَرْوَةِ كَمَا فَعَلَ عَلَى الصَّفَا، فَلَمَّا كَانَ آخِرُ طَوَافِهِ عَلَى الْمَرْوَةِ، قَالَ:" لَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي، مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ لَيْسَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً"، فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ وَقَصَّرُوا، إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ، فَقَامَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِعَامِنَا هَذَا، أَمْ لِأَبَدِ الْأَبَدِ؟، قَالَ: فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي الْأُخْرَى، وَقَالَ:" دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ هَكَذَا" مَرَّتَيْنِ،" لَا بَلْ لِأَبَدِ الْأَبَدِ"، قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ بِبُدْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ فَاطِمَةَ مِمَّنْ حَلَّ وَلَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ، فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، فَقَالَتْ: أَمَرَنِي أَبِي بِهَذَا، فَكَانَ عَلِيٌّ يَقُولُ بِالْعِرَاقِ: فَذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَرِّشًا عَلَى فَاطِمَةَ فِي الَّذِي صَنَعَتْهُ، مُسْتَفْتِيًا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ عَنْهُ، وَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَ:" صَدَقَتْ صَدَقَتْ، مَاذَا قُلْتُ حِينَ فَرَضْتَ الْحَجَّ؟"، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَإِنَّ مَعِي الْهَدْيَ فَلَا تَحِلَّ"، قَالَ: فَكَانَ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي جَاءَ بِهِ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ، وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ مِائَةً، ثُمَّ حَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ، وَقَصَّرُوا إِلَّا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَتَوَجَّهُوا إِلَى مِنًى أَهَلُّوا بِالْحَجِّ، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِمِنًى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ وَالصُّبْحَ، ثُمَّ مَكَثَ قَلِيلًا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ شَعَرٍ، فَضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ، فَسَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشُكُّ قُرَيْشٌ إِلَّا أَنَّهُ وَاقِفٌ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ أَوْ الْمُزْدَلِفَةِ كَمَا كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصْنَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَجَازَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى عَرَفَةَ، فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَهُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِهَا حَتَّى إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِلَتْ لَهُ، فَرَكِبَ حَتَّى أَتَى بَطْنَ الْوَادِي، فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:" إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ، يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا، أَلَا وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ تَحْتَ قَدَمَيَّ هَاتَيْنِ، وَدِمَاءُ الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعَةٌ، وَأَوَّلُ دَمٍ أَضَعُهُ دَمُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ كَانَ مُسْتَرْضِعًا فِي بَنِي سَعْدٍ فَقَتَلَتْهُ هُذَيْلٌ، وَرِبَا الْجَاهِلِيَّةِ مَوْضُوعٌ، وَأَوَّلُ رِبًا أَضَعُهُ رِبَانَا رِبَا الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُ مَوْضُوعٌ كُلُّهُ، فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللَّهِ، وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللَّهِ، وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ، فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ، وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا لَمْ تَضِلُّوا إِنِ اعْتَصَمْتُمْ بِهِ كِتَابَ اللَّهِ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ عَنِّي، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟"، قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ، فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ إِلَى السَّمَاءِ وَيَنْكُبُهَا إِلَى النَّاسِ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ"، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الْعَصْرَ، وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمَوْقِفَ، فَجَعَلَ بَطْنَ نَاقَتِهِ إِلَى الصَّخَرَاتِ، وَجَعَلَ حَبْلَ الْمُشَاةِ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَذَهَبَتِ الصُّفْرَةُ قَلِيلًا حَتَّى غَابَ الْقُرْصُ، وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ خَلْفَهُ فَدَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ شَنَقَ الْقَصْوَاءَ بِالزِّمَامِ حَتَّى إِنَّ رَأْسَهَا لَيُصِيبُ مَوْرِكَ رَحْلِهِ، وَيَقُولُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى:" أَيُّهَا النَّاسُ السَّكِينَةَ، السَّكِينَةَ"، كُلَّمَا أَتَى حَبْلًا مِنَ الْحِبَالِ، أَرْخَى لَهَا قَلِيلًا حَتَّى تَصْعَدَ، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى بِهَا الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِأَذَانٍ وَاحِدٍ وَإِقَامَتَيْنِ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، ثُمَّ اضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَصَلَّى الْفَجْرَ حِينَ تَبَيَّنَ لَهُ الصُّبْحُ بِأَذَانٍ وَإِقَامَةٍ، ثُمَّ رَكِبَ الْقَصْوَاءَ حَتَّى أَتَى الْمَشْعَرَ الْحَرَامَ فَرَقِيَ عَلَيْهِ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَكَبَّرَهُ وَهَلَّلَهُ، فَلَمْ يَزَلْ وَاقِفًا حَتَّى أَسْفَرَ جِدًّا، ثُمَّ دَفَعَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَأَرْدَفَ الْفَضْلَ بْنَ الْعَبَّاسِ وَكَانَ رَجُلًا حَسَنَ الشَّعَرِ، أَبْيَضَ وَسِيمًا، فَلَمَّا دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ الظُّعُنُ يَجْرِينَ فَطَفِقَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِنَّ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَصَرَفَ الْفَضْلُ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ يَنْظُرُ حَتَّى أَتَى مُحَسِّرًا، حَرَّكَ قَلِيلًا ثُمَّ سَلَكَ الطَّرِيقَ الْوُسْطَى الَّتِي تُخْرِجُكَ إِلَى الْجَمْرَةِ الْكُبْرَى، حَتَّى أَتَى الْجَمْرَةَ الَّتِي عِنْدَ الشَّجَرَةِ، فَرَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ مِنْهَا مِثْلِ: حَصَى الْخَذْفِ، وَرَمَى مِنْ بَطْنِ الْوَادِي، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمَنْحَرِ فَنَحَرَ ثَلَاثًا وَسِتِّينَ بَدَنَةً بِيَدِهِ، وَأَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ، ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ، فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَطُبِخَتْ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا، ثُمَّ أَفَاضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَيْتِ فَصَلَّى بِمَكَّةَ الظُّهْرَ، فَأَتَى بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُمْ يَسْقُونَ عَلَى زَمْزَمَ، فَقَالَ:" انْزَعُوا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَوْلَا أَنْ يَغْلِبَكُمُ النَّاسُ عَلَى سِقَايَتِكُمْ، لَنَزَعْتُ مَعَكُمْ". فَنَاوَلُوهُ دَلْوًا فَشَرِبَ مِنْهُ.
جعفر الصادق اپنے والد محمد الباقر سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، جب ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے آنے والوں کے بارے میں پوچھا کہ کون لوگ ہیں، یہاں تک کہ آخر میں مجھ سے پوچھا، میں نے کہا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں، تو انہوں نے اپنا ہاتھ میرے سر کی طرف بڑھایا، اور میرے کرتے کے اوپر کی گھنڈی کھولی پھر نیچے کی کھولی پھر اپنی ہتھیلی میری دونوں چھاتیوں کے درمیان رکھی، میں ان دنوں نوجوان لڑکا تھا، اور کہا: تمہیں خوش آمدید، تم جو چاہو پوچھو، میں نے ان سے (کچھ باتیں) پوچھیں، وہ نابینا تھے ۱؎ اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا، وہ ایک بنی ہوئی چادر جسے جسم پر لپیٹے ہوئے تھے اوڑھ کر کھڑے ہوئے، جب اس کے دونوں کنارے اپنے کندھوں پر ڈالتے تو اس کے دونوں کنارے ان کی جانب واپس آ جاتے (کیونکہ چادر چھوٹی تھی) اور ان کی بڑی چادر ان کے پاس ہی میز پر رکھی ہوئی تھی، انہوں نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال بتائیے، تو آپ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو (۹) کی گرہ بنائی (یعنی خنصر، بنصر اور وسطی کا سرا ہتھیلی سے لگا لیا) اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو سال تک (مدینہ میں) ٹھہرے رہے، آپ نے حج نہیں کیا، پھر (ہجرت) کے دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا کہ اس سال آپ حج کو جائیں گے، تو مدینہ میں (اطراف سے) بہت سے لوگ (آپ کے ساتھ حج میں شریک ہونے کے لیے) آ گئے، سب کی یہ خواہش تھی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں، اور جو کام آپ کریں وہی وہ بھی کریں، خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے، ہم ذو الحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے یہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھوایا کہ میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غسل کر لو اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لو، اور احرام کی نیت کر لو“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ذوالحلیفہ) مسجد میں نماز ادا کی، پھر قصواء نامی اونٹنی پر سوار ہو گئے، یہاں تک کہ جب وہ آپ کو لے کر مقام بیداء میں سیدھی کھڑی ہوئی تو جہاں تک میری نگاہ گئی میں نے آپ کے سامنے سوار اور پاپیادہ لوگوں کو ہی دیکھا، اور دائیں بائیں اور پیچھے بھی ایسے ہی لوگ نظر آ رہے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان تھے ۲؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن اترتا تھا، آپ اس کے معانی کو سمجھتے تھے، آپ جو کام کرتے تھے ہم بھی وہی کرتے تھے، آپ نے توحید پر مشتمل تلبیہ پکارا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں اے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، حمد و ثناء، نعمتیں اور فرماں روائی تیری ہی ہے، تیرا ان میں کوئی شریک نہیں“ تو لوگوں نے بھی انہیں الفاظ میں تلبیہ پکارا جن میں آپ پکار رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کسی الفاظ کی تبدیلی نہیں فرمائی ۳؎، آپ یہی تلبیہ پکارتے رہے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، ہم عمرہ جانتے بھی نہ تھے ۴؎ (یعنی اس کا سرے سے کوئی خیال ہی نہیں تھا) یہاں تک کہ جب ہم خانہ کعبہ کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا استلام کیا، اور طواف میں تین پھیروں میں رمل کیا، اور چار پھیروں میں عام چال چلے، پھر مقام ابراہیم کے پاس جا کر کھڑے ہوئے، اور آیت کریمہ: «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» ”تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کر لو“ پڑھی ۵؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کیا۔ جعفر کہتے ہیں کہ میرے والد کہتے تھے اور میں یہی سمجھتا ہوں کہ وہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے: آپ (طواف کی) دونوں رکعتوں میں: «قل يا أيها الكافرون»، «قل هو الله أحد» پڑھ رہے تھے ۶؎۔ پھر آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) لوٹ کر خانہ کعبہ کے پاس آئے، اور حجر اسود کا استلام کیا، پھر باب صفا سے صفا پہاڑی کی طرف نکلے یہاں تک کہ جب صفا کے قریب ہوئے تو: «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں“ پڑھی اور فرمایا: ہم بھی وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (سعی) صفا سے شروع کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبل صفا چڑھے یہاں تک کہ خانہ کعبہ نظر آنے لگا تو «الله أكبر لا إله إلا الله اور الحمد لله» پڑھا، اور فرمایا: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده لا شريك له أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی ساجھی نہیں، ساری بادشاہت اسی کے لیے ہے، اور تمام قسم کی تعریفیں اسی کے لیے سزاوار ہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور وہی ہر چیز پر قادر ہے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اور اپنے بندے کی مدد کی، اور تنہا بہت سی جماعتوں کو شکست دی“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے درمیان دعا فرمائی اور یہ کلمات تین بار دہرائے، پھر آپ (صفا سے) اتر کر مروہ کی طرف چلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں وادی کے نشیب میں اترنے لگے تو آپ نے رمل کیا (یعنی مونڈھے ہلاتے ہوئے دوڑ کر چلے)، پھر جب چڑھائی پر پہنچے تو عام چال چل کر مروہ تک آئے، اور مروہ پر بھی آپ نے ویسے ہی کیا جیسے صفا پر کیا تھا، پھر جب آپ کا آخری پھیرا مروہ پر ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے وہ بات پہلے معلوم ہو گئی ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں ہدی اپنے ساتھ نہ لاتا، اور حج کو عمرہ میں بدل دیتا، لہٰذا تم میں سے جس آدمی کے ساتھ ہدی (کے جانور) نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اس کو عمرہ میں تبدیل کر لے“، یہ سن کر لوگوں نے احرام کھول دیا، اور بال کتروا لیے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔ پھر سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ حکم ہمارے لیے صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیش کے لیے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیں اور دو بار فرمایا: ”عمرہ حج میں اسی طرح داخل ہو گیا ہے“، اور فرمایا: ”صرف اس سال کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے“۔ علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ (یمن) سے لے کر آئے تو انہوں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ان لوگوں میں سے پایا جنہوں نے احرام کھول ڈالا تھا، وہ رنگین کپڑا پہنے ہوئے تھیں، اور سرمہ لگا رکھا تھا، تو اس پر انہوں نے ناگواری کا اظہار کیا، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا بولیں: میرے والد نے مجھے اس کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ (اپنے ایام خلافت میں) عراق میں فرما رہے تھے کہ میں ان کاموں سے جن کو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کر رکھا تھا، غصہ میں بھرا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس چیز کے متعلق پوچھنے کے لیے آیا جو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کے متعلق بتائی تھی، اور جس پر میں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، وہ سچ کہتی ہے، ہاں، وہ سچ کہتی ہے“، اور ”جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو تم نے کیا کہا تھا“؟ انہوں نے عرض کیا: میں نے یوں کہا تھا: اے اللہ! میں وہی تلبیہ پکارتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ تو ہدی ہے تو اب تم حلال نہ ہو“۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو قربانی کے وہ اونٹ جو علی رضی اللہ عنہ یمن سے لے کر آئے تھے، اور وہ اونٹ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر آئے تھے کل سو تھے، پھر سارے لوگ حلال ہو گئے، اور انہوں نے بال کتروا لیے سوائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ ہدی کے جانور تھے۔ پھر جب یوم الترویہ (ذی الحجہ کا آٹھواں دن) آیا تو حج کا تلبیہ پکار کر لوگ منیٰ کی طرف چلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے، اور منیٰ پہنچ کر وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کیں، (نوویں ذی الحجہ کو فجر کے بعد) تھوڑی دیر رکے رہے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، اور بال کے خیمے کے متعلق حکم دیا کہ اسے نمرہ میں لگایا جائے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور قریش کو اس میں شک نہیں تھا کہ آپ مشعر حرام ۷؎ یا مزدلفہ کے پاس ٹھہریں گے، جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۸؎، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پار کر کے عرفات میں جا پہنچے، دیکھا تو خیمہ نمرہ میں لگا ہوا ہے، آپ وہیں اتر پڑے، جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے قصواء (اونٹنی) پر کجاوہ کسے جانے کا حکم دیا، آپ اس پر سوار ہو کر وادی کے نشیب میں آئے، اور خطبہ دیا، اس میں فرمایا: ”تمہارے خون، تمہارے مال تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسے تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے اور تمہارے اس شہر میں، سن لو! جاہلیت کی ہر چیز میرے ان دونوں پاؤں کے تلے رکھ کر روند دی گئی، اور جاہلیت کے سارے خون معاف کر دئیے گئے، اور سب سے پہلا خون جس کو میں معاف کرتا ہوں ربیعہ بن حارث کا خون ہے، وہ بنی سعد میں دودھ پی رہے تھے کہ شیر خوارگی ہی کی حالت میں ہذیل نے انہیں قتل کر دیا تھا، اور جاہلیت کے سارے سود بھی معاف کر دئیے گئے اور اپنے سودوں میں سے پہلا سود جس کو میں معاف کرتا ہوں وہ عباس بن عبدالمطلب کا سود ہے، وہ سب معاف ہے۔ اور عورتوں کے سلسلہ میں تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو، تم نے انہیں اللہ تعالیٰ کے امان اور عہد سے اپنے عقد میں لیا ہے، اور تم نے ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلام سے حلال کیا ہے، لہٰذا تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر اس شخص کو روندنے نہ دیں جن کو تم برا جانتے ہو ۹؎، اگر وہ ایسا کریں تو انہیں مارو لیکن ایسی سخت مار نہیں کہ جس سے ہڈی پسلی ٹوٹ جائے، ان کا حق تمہارے اوپر یہ ہے کہ تم ان کو دستور و عرف کے مطابق روٹی اور کپڑا دو، میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کو اگر تم مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو گمراہ نہ ہو گے، اور وہ اللہ کی کتاب (قرآن) ہے، اور تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو بتاؤ، تم کیا کہو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے اللہ کا حکم پہنچا دیا اور ذمہ داری ادا کر دی! اور آپ نے ہماری خیر خواہی کی، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت والی انگلی سے آسمان کی جانب اشارہ کیا پھر آپ اسے لوگوں کی طرف جھکا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے: ”اے اللہ! گواہ رہ، اے اللہ! گواہ رہ“، تین بار آپ نے یہ کلمات دہرائے۔ اس کے بعد بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، پھر تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھائی، پھر تکبیر کہی تو عصر پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان آپ نے کوئی اور نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور اس مقام پر آئے جہاں عرفات میں وقوف کرتے ہیں، اور اپنی اونٹنی کا پیٹ جبل رحمت کی طرف کیا اور جبل المشاۃ کو اپنے سامنے کیا، اور قبلہ رخ کھڑے ہوئے، اور سورج ڈوبنے تک مسلسل کھڑے رہے یہاں تک کہ تھوڑی زردی بھی جاتی رہی، جب سورج ڈوب گیا تو اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا، پھر آپ عرفات سے چلے، اور قصواء کی نکیل کو کھینچے رکھا یہاں تک کہ اس کا سر کجاوے کی پچھلی لکڑی سے لگ جایا کرتا تھا، اور اپنے داہنے ہاتھ کے اشارے سے فرما رہے تھے: ”لوگو! اطمینان اور آہستگی سے چلو“، جب آپ کسی ریت کے ٹیلے پر آتے تو قصواء کی نکیل تھوڑی ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ وہ چڑھ جاتی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے، اور وہاں ایک اذان اور دو اقامت سے مغرب اور عشاء پڑھی اور ان کے درمیان کوئی اور نماز نہیں پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی، تو آپ نے فجر پڑھی جس وقت صبح پوری طرح واضح ہو گئی، پھر آپ قصواء پر سوار ہو ے، اور مشعر حرام (مزدلفہ میں ایک پہاڑ ہے) کے پاس آئے، اور اس پر چڑھے اور اللہ کی تحمید، تکبیر اور تہلیل کرتے رہے، اور وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر وہاں سے سورج نکلنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے، اور سواری پر فضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھا لیا، وہ بہت بہترین بال والے گورے اور خوبصورت شخص تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے اور اونٹوں پر سوار عورتیں گزرنے لگیں، تو فضل انہیں دیکھنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری طرف سے اپنے ہاتھ کا آڑ کر لیا تو فضل اپنا چہرہ پھیر کر دوسری طرف سے انہیں دیکھنے لگے، یہاں تک کہ آپ وادی محسر میں آئے، وہاں آپ نے سواری کو ذرا تیز کیا، پھر آپ اس کے درمیان والے راستہ پر سے چلے جو تمہیں جمرہ عقبہ کی جانب نکالتا ہے، یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے، (یعنی جمرہ عقبہ پر) اور سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری پر آپ تکبیر کہتے تھے، اور کنکریاں ایسی تھی جو دونوں انگلیوں کے سروں کے درمیان آ سکیں، وادی کے نشیب سے آپ نے کنکریاں ماریں، پھر آپ نحر کے مقام پر آئے، اور ۶۳ اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر (ذبح) کیے، اور پھر علی رضی اللہ عنہ کو دیا، اور باقی اونٹوں کا نحر انہوں نے کیا، انہیں بھی آپ نے اپنی ہدی میں شریک کر لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے اونٹوں سے گوشت کا ایک ایک ٹکڑا لانے کے لیے کہا، چنانچہ لا کر اسے ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا، پھر دونوں نے وہ گوشت کھایا اور اس کا شوربہ پیا، پھر وہاں سے لوٹ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے پاس آئے، اور مکہ میں نماز پڑھی ۱۰؎، پھر خاندان بنی عبدالمطلب میں آئے، دیکھا تو یہ لوگ حاجیوں کو زمزم کا پانی پلا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالمطلب کے بیٹو! نکالو اور پلاؤ ۱۱؎، اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تمہارے اس پلانے کے کام میں لوگ تم پر غالب آ جائیں گے تو تمہارے ساتھ میں بھی نکالتا“ پھر لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ایک ڈول دیا آپ نے بھی اس میں سے پیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 3074]
حضرت جعفر (صادق) رحمہ اللہ اپنے والد محمد (باقر) رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو آپ رضی اللہ عنہ نے تمام افراد کے بارے میں پوچھا (کہ آپ لوگ کون کون ہیں؟) حتی کہ میری باری آگئی۔ میں نے کہا: میں محمد بن علی بن حسین ہوں۔ انہوں نے میرے سر کی طرف ہاتھ بڑھا کر میرا اوپر والا بٹن کھولا، پھر (اس سے) نیچے والا بٹن کھولا، پھر اپنا ہاتھ میرے سینے پر رکھ دیا۔ اس وقت میں ایک نوجوان لڑکا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں خوش آمدید! جو چاہو پوچھو“ چنانچہ میں نے آپ سے سوالات کیے (انہوں نے جواب دیے۔) آپ اس وقت نابینا ہو چکے تھے۔ (اتنے میں) نماز کا وقت ہو گیا۔ آپ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے تھے جو اتنا چھوٹا تھا کہ جب اسے کندھوں پر ڈالتے تو اس کے دونوں کنارے آگے آ جاتے (بکل مارنا مشکل تھا۔) اور ان کی بڑی چادر ان کے قریب تپائی پر پڑی ہوئی تھی۔ آپ نے ہمیں نماز پڑھائی۔ (نماز کے بعد) میں نے کہا: ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیے۔ آپ نے ہاتھ سے نو کا اشارہ کر کے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ہجرت کے بعد مدینے میں) نو سال اقامت پذیر رہے اور حج نہیں کیا۔ دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کروا دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کرنے والے ہیں“ چنانچہ مدینہ میں بہت سے لوگ (اطراف و اکناف سے) آگئے۔ ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا (میں حج) کرے اور وہی کام کرے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کے ہاں محمد بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کی ولادت ہوگئی۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آدمی بھیج کر دریافت کیا: میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”غسل کر کے ایک کپڑا لنگوٹ کی طرح باندھ لے اور احرام باندھ لے۔“ (ذوالحلیفہ کی) مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، پھر قصواء (اونٹنی) پر سوار ہوئے۔ جب اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیداء (میدان) میں پہنچی تو حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے جہاں تک میری نظر کام کرتی تھی سوار اور پیدل افراد نظر آئے، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف (بے شمار لوگ تھے) اور اسی طرح بائیں طرف، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (حدِ نظر تک لوگ تھے۔) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے، آپ پر قرآن نازل ہوتا تھا اور آپ اس کا مطلب جانتے تھے۔ جو کام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے، ہم بھی کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی آواز بلند کی: «لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ، لَا شَرِيكَ لَكَ» ”حاضر ہوں اے اللہ! حاضر ہوں۔ حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ حاضر ہوں، تعریفیں اور نعمتیں تیری ہیں اور بادشاہی بھی، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ لوگوں نے بھی ان الفاظ میں لبیک پکارا جن الفاظ میں (آج کل) پکارتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کسی لفظ سے منع نہیں کیا، البتہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا (مذکورہ بالا) تلبیہ ہی پکارتے رہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہماری نیت صرف حج کی تھی، ہمیں عمرے کا علم ہی نہ تھا (حج کے ساتھ ہی عمرہ بھی کیا جا سکتا ہے) حتی کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کعبہ کے پاس پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجرِ اسود کا استلام کیا۔ (طواف کے) تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں (عام رفتار سے) چلے، پھر مقامِ ابراہیم پر تشریف لے گئے اور فرمایا: ﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾ [سورة البقرة: 125] ”مقامِ ابراہیم کو نماز کی جگہ بناؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقامِ ابراہیم کو اپنے اور کعبہ کے درمیان کیا (اور دو رکعتیں پڑھیں۔ امام جعفر فرماتے ہیں:) میرے والد (محمد بن علی) کا بیان ہے اور یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے انہوں نے بیان کیا ہوگا کہ آپ نے دو رکعتوں میں ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ [سورة الكافرون: 1] اور ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾ [سورة الإخلاص: 1] پڑھیں۔ پھر دوبارہ بیت اللہ کی طرف تشریف لے گئے اور حجرِ اسود کا استلام کیا، پھر دروازے سے نکل کر صفا کی طرف چلے۔ جب صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی ﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ﴾ [سورة البقرة: 158] ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ (اور فرمایا:) ”ہم اسی سے شروع کرتے ہیں جس کا نام اللہ نے پہلے لیا ہے۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا سے ابتدا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس (صفا) پر چڑھے حتی کہ بیت اللہ پر نظر پڑی۔ اللہ کی تکبیر و تہلیل اور حمد فرمائی ( «اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ») پھر فرمایا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ”اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کی بادشاہی ہے اور اسی کی تعریفیں ہیں، وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ اکیلے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور اسی ایک (معبودِ حقیقی) نے (دشمنوں کی سب) جماعتوں کو شکست دی۔“ پھر ان (الفاظ کو پہلی بار اور دوسری بار پڑھنے) کے درمیان دعا مانگی۔ تین بار ایسے ہی کیا۔ پھر اتر کر مروہ کی طرف چلے حتی کہ جب آپ کے قدم نشیب میں پہنچے تو وادی کے نشیبی حصے میں دوڑے، پھر جب (آپ کے قدم) بلند جگہ پہنچے تو آپ (عام رفتار سے) چل کر مروہ پر پہنچے۔ مروہ پر بھی اسی طرح کیا (تکبیر و تحمید اور تہلیل کے بعد «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ...» پڑھا) جس طرح صفا پر کیا تھا۔ (اسی طرح سعی پوری کی۔) جب مروہ پر آپ کے چکر پورے ہوئے تو فرمایا: ”اگر مجھے اپنے معاملے کے بارے میں پہلے وہ بات معلوم ہوتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کے جانور ساتھ نہ لاتا اور اس (طواف و سعی) کو عمرہ بنا دیتا، لہٰذا تم میں سے جس کے ساتھ ہدی (قربانی کا جانور) نہیں اسے چاہیے کہ احرام کھول دے اور اسے عمرہ بنا لے۔“ چنانچہ سب لوگوں نے احرام کھول دیے اور بال کٹوا لیے سوائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان لوگوں کے جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے۔ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا یہ حکم اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور دو بار فرمایا: ”عمرہ حج میں اس طرح داخل ہوگیا ہے۔ (صرف اسی سال کے لیے) نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ (یمن سے) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹ (قربانی کے لیے) لے کر حاضر ہوئے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہوں نے احرام کھول دیا ہے اور انہوں نے رنگ دار کپڑے پہن رکھے ہیں اور سرمہ لگایا ہوا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے اس کام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو انہوں نے فرمایا: ”مجھے ابا جان نے یہ حکم دیا ہے۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ عراق میں (یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے) فرمایا کرتے تھے: میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل کی شکایت کرنے اور انہوں نے جو بات بتائی تھی اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان کے اس کام پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سچ کہتی ہے، وہ سچ کہتی ہے۔ تم نے جب حج کا احرام باندھا تو کیا کہا تھا؟“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کہا تھا: اے اللہ! میں اسی چیز کا احرام باندھتا ہوں جس کا احرام تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ تو قربانی ہے لہٰذا تم بھی احرام نہ کھولو۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: قربانی کے وہ جانور جو حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے لائے تھے اور وہ جانور جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لائے تھے ان کی مجموعی تعداد سو تھی۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے ان کے سوا سب لوگوں نے احرام کھول دیا اور بال کٹوا لیے. پھر جب ترویہ کا دن (8 ذوالحجہ) آیا اور لوگ منیٰ کی طرف چلے تب انہوں نے حج کا احرام باندھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی سوار ہوئے (اور منیٰ جا پہنچے) اور آپ نے منیٰ میں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں پڑھیں، پھر (فجر کی نماز کے بعد) کچھ دیر ٹھہرے رہے حتی کہ سورج نکل آیا۔ اور آپ کے حکم سے نمرہ مقام میں آپ کے لیے بالوں کا (بکریوں کے بالوں سے بنا ہوا) ایک خیمہ لگا دیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (منیٰ سے) روانہ ہوئے تو قریش کو یقین تھا کہ آپ مشعرِ حرام یا مزدلفہ میں رک جائیں گے جیسے زمانہ جاہلیت میں قریش کیا کرتے تھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے حتی کہ عرفات میں پہنچ گئے۔ آپ کو نمرہ میں خیمہ لگا ہوا ملا۔ آپ وہاں تشریف فرما ہوئے۔ جب سورج ڈھل گیا تو آپ کے حکم سے (آپ کی اونٹنی) قصواء پر کجاوہ کسا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہو کر وادی کے نشیب میں تشریف لے آئے۔ (وہاں) لوگوں سے خطاب فرمایا۔ (اس میں) فرمایا: ”تمہارے خون اور تمہارے مال ایک دوسرے کے لیے اس طرح قابل احترام ہیں جس طرح تمہارے اس شہر (مکہ) میں، اس مہینے (ذوالحجہ) کا یہ (حج کا) دن۔ سنو! جاہلی رواج کی ہر چیز میرے ان قدموں تلے روندی گئی۔ دورِ جاہلیت میں ہو جانے والے قتل سب معاف ہیں۔ (ان کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔) اور سب سے پہلے میں ربیعہ بن حارث کا خون معاف کرتا ہوں۔ یہ (دودھ پیتا بچہ) قبیلہ بنی سعد میں پرورش پا رہا تھا اور قبیلہ بن ہذیل نے اسے قتل کر دیا تھا۔ زمانہ جاہلیت کے سب سود معاف ہیں۔ اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان کا یعنی عباس بن عبدالمطلب کا سود معاف کرتا ہوں۔ وہ سب کا سب معاف ہے۔ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے انہیں اللہ کی ذمہ داری پر حاصل کیا ہے اور اللہ کے نام پر ان کی عصمت کو اپنے لیے حلال کیا ہے۔ ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ تمہارے بستر پر کسی ایسے شخص کو نہ بیٹھنے دیں جو تمہیں ناپسند ہے۔ اگر وہ یہ حرکت کریں تو انہیں مارو لیکن سخت مار نہ ہو۔ اور تم پر ان کا یہ حق ہے کہ مناسب انداز سے انہیں خوراک اور لباس مہیا کرو۔ اور میں نے تمہارے اندر وہ چیز چھوڑی ہے کہ اگر اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔ وہ اللہ کی کتاب ہے۔ اور تم سے (قیامت کے دن) میرے بارے میں پوچھا جائے گا تو تم کیا کہو گے؟“ حاضرین نے عرض کیا: ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے (پورا دین) پہنچا دیا، (اپنا فرض پوری طرح) ادا کر دیا اور (امت کی) خیر خواہی کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انگشتِ شہادت آسمان کی طرف بلند کی اور لوگوں کی طرف جھکائی اور تین بار فرمایا: ”اے اللہ! گواہ رہ! اے اللہ گواہ رہ!“ اس کے بعد حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی پھر اقامت کہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر (بلال رضی اللہ عنہ نے) اقامت کہی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی۔ دونوں نمازوں کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی (سنت یا نفل) نماز ادا نہیں فرمائی۔ اس کے بعد اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر (عرفات میں) وقوف کے مقام پر تشریف لے گئے۔ آپ نے چٹانوں کی طرف اپنی اونٹنی کا پیٹ (اور پہلو) کیا اور حبلِ مشاۃ (ٹیلے) کو اپنے سامنے کیا اور قبلے کی طرف منہ کیا۔ (اور ذکر و دعا میں مشغول ہو گئے۔) آپ برابر وہاں ٹھہرے رہے حتی کہ سورج غروب ہو گیا اور تھوڑی سی سرخی بھی کم ہو گئی۔ جب سورج کی ٹکیا نظروں سے بالکل اوجھل ہو گئی تو آپ نے سواری پر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عرفات سے) روانہ ہوئے تو آپ نے قصواء کی مہار بہت زیادہ کھینچ رکھی تھی حتی کہ اس کا سر آپ کے کجاوے کی اگلی لکڑی سے جا لگا. آپ دائیں ہاتھ سے اشارہ کر کے فرما رہے تھے: ”اے لوگو! آرام سے چلو۔ آرام سے چلو۔“ جب راستے میں کوئی ٹیلا آتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کی مہار ڈھیلی چھوڑ دیتے تاکہ وہ (ٹیلے پر آسانی سے) چڑھ جائے۔ پھر آپ مزدلفہ تشریف لائے۔ وہاں ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کیں۔ اور ان کے درمیان کوئی (سنت یا نفل) نماز نہیں پڑھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے حتی کہ صبح صادق ہو گئی۔ جب واضح طور پر صبح طلوع ہو گئی تو آپ نے اذان اور اقامت کہلوا کر فجر کی نماز ادا کی، پھر (نماز کے بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قصواء پر سوار ہو کر مشعرِ حرام تشریف لے گئے۔ آپ اس کے اوپر تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد اور تکبیر و تہلیل میں مشغول ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ٹھہرے رہے حتی کہ خوب روشنی ہو گئی، پھر سورج طلوع ہونے سے پہلے یہاں سے روانہ ہو گئے۔ آپ نے اپنے پیچھے (اونٹنی پر) حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو سوار کیا۔ وہ خوبصورت بالوں والے، گورے چٹے اور خوش شکل آدمی تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے تو کچھ عورتیں (اونٹوں پر سوار) تیزی کے ساتھ پاس سے گزریں، حضرت فضل رضی اللہ عنہ انہیں دیکھنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے (ان کا چہرہ) دوسری طرف کر دیا تو فضل رضی اللہ عنہ نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر کر عورتوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادیِ محسر میں پہنچے تو سواری کو قدرے تیز کیا، پھر اس درمیانی راستے پر چل پڑے جو بڑے جمرے پر پہنچاتا ہے حتی کہ آپ اس جمرے پر جا پہنچے جو درخت کے قریب ہے۔ آپ نے اسے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے۔ وہ کنکریاں اتنی چھوٹی تھیں کہ انگوٹھے اور انگلی سے پکڑ کر پھینکی جا سکیں۔ آپ نے وادی کے نشیب میں کھڑے ہو کر کنکریاں ماریں۔ پھر آپ قربان گاہ تشریف لے گئے اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ (63) اونٹوں کو نحر فرمایا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو (نیزہ) دیا تو باقی اونٹ انہوں نے نحر کیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے قربانی کے جانوروں میں شریک کر لیا تھا۔ پھر آپ کے حکم سے ہر اونٹ کی ایک بوٹی لے کر ہنڈیا میں ڈالی گئی اور پکائی گئی۔ دونوں نے یہ گوشت کھایا اور اس کا شوربا پیا. پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طوافِ افاضہ کے لیے کعبہ کی طرف تشریف لے گئے۔ آپ نے ظہر کی نماز مکہ مکرمہ میں ادا کی۔ عبدالمطلب کی اولاد کے افراد زمزم پر پانی پلا رہے تھے چنانچہ آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”عبدالمطلب کے بیٹو! (کنوئیں سے) پانی نکالو، اگر یہ خوف نہ ہوتا کہ لوگ پانی پلانے کے معاملے میں تم پر غالب آجائیں گے تو میں بھی تمہارے ساتھ پانی نکالتا۔“ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ڈول دیا۔ آپ نے اس سے پانی پیا۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 3074]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 19 (1218) بلفظ: ''ابدا'' وھوالصواب، سنن ابی داود/الحج 57 (1905، 1909)، (تحفة الأشراف: 2593)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الحج 46 (2713)، 51 (2741)، 52 (2744)، 73 (2800)، مسند احمد (3/320، 331، 333، 340، 373، 388، 394، 397)، سنن الدارمی/المناسک 11 (1846) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بڑھاپے کی وجہ سے آنکھ کی روشنی ختم ہو چکی تھی۔
۲؎: بعض لوگوں نے یہ تعداد ۹۰ ہزار لکھی ہے اور بعض نے ایک لاکھ تیس ہزار کہا ہے۔
۳؎: زمانہ جاہلیت میں تلبیہ «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك» کے بعد «إلا شريكاً لك تملكه» بڑھا کر کہا جانا تھا۔
۴؎: یعنی عمرہ کا ارادہ بالکل نہیں تھا یا عمرہ کو حج کے مہینوں میں جائز ہی نہیں سمجھتے تھے۔
۵؎: اور مقام ابراہیم کو مصلی بنا لو (سورۃ البقرہ: ۱۲۵)
۶؎: پہلی رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» پڑھی اور دوسری رکعت میں «قل هو الله أحد» ۔
۷؎: ”مشعر حرام“ مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے اسے «قزح» بھی کہتے ہیں۔
۸؎: زمانہ جاہلیت میں قریش مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے، عرفات نہیں جاتے تھے، اور باقی لوگ عرفات جاتے تھے، ان کا خیال تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کی اتباع کریں گے لیکن آپ وہاں نہیں ٹھہرے اور عرفات چل دیئے۔
۹؎: یعنی بغیر تمہاری اجازت کے کسی کو اپنے گھر میں آنے نہ دیں اور اس سے میل جول نہ رکھیں۔
۱۰؎: یہی راجح قول ہے اس کے برخلاف ایک روایت آتی ہے جس میں ظہر منیٰ میں پڑھنے کا ذکر ہے، علماء نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال سے پہلے طواف افاضہ کیا پھر مکہ میں اول وقت میں نماز پڑھی پھر منیٰ واپس آئے تو وہاں صحابہ کرام کے ساتھ ظہر پڑھی اور بعد والی نماز آپ کی نفل ہو گئی۔
۱۱؎: کیونکہ میں بھی عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں، آپ کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں بھی پانی نکالنے میں لگ جاؤں تو لوگ اس کو بھی حج کا ایک رکن سمجھ لیں گے، اور اس کے لیے بھیڑ لگا دیں گے، اور ہر شخص پانی نکالنا چاہے گا، اور بھیڑ بھاڑکے ڈر سے تم اس خدمت سے علاحدہ ہو جاؤ گے، کیونکہ تم لوگوں سے لڑ نہیں سکو گے، اور وہ تم پر غالب آ جائیں گے۔
۲؎: بعض لوگوں نے یہ تعداد ۹۰ ہزار لکھی ہے اور بعض نے ایک لاکھ تیس ہزار کہا ہے۔
۳؎: زمانہ جاہلیت میں تلبیہ «لبيك اللهم لبيك لا شريك لك» کے بعد «إلا شريكاً لك تملكه» بڑھا کر کہا جانا تھا۔
۴؎: یعنی عمرہ کا ارادہ بالکل نہیں تھا یا عمرہ کو حج کے مہینوں میں جائز ہی نہیں سمجھتے تھے۔
۵؎: اور مقام ابراہیم کو مصلی بنا لو (سورۃ البقرہ: ۱۲۵)
۶؎: پہلی رکعت میں «قل يا أيها الكافرون» پڑھی اور دوسری رکعت میں «قل هو الله أحد» ۔
۷؎: ”مشعر حرام“ مزدلفہ میں ایک مشہور پہاڑی کا نام ہے اسے «قزح» بھی کہتے ہیں۔
۸؎: زمانہ جاہلیت میں قریش مزدلفہ میں ٹھہر جاتے تھے، عرفات نہیں جاتے تھے، اور باقی لوگ عرفات جاتے تھے، ان کا خیال تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریش کی اتباع کریں گے لیکن آپ وہاں نہیں ٹھہرے اور عرفات چل دیئے۔
۹؎: یعنی بغیر تمہاری اجازت کے کسی کو اپنے گھر میں آنے نہ دیں اور اس سے میل جول نہ رکھیں۔
۱۰؎: یہی راجح قول ہے اس کے برخلاف ایک روایت آتی ہے جس میں ظہر منیٰ میں پڑھنے کا ذکر ہے، علماء نے دونوں میں تطبیق اس طرح دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زوال سے پہلے طواف افاضہ کیا پھر مکہ میں اول وقت میں نماز پڑھی پھر منیٰ واپس آئے تو وہاں صحابہ کرام کے ساتھ ظہر پڑھی اور بعد والی نماز آپ کی نفل ہو گئی۔
۱۱؎: کیونکہ میں بھی عبدالمطلب کی اولاد میں سے ہوں، آپ کا مطلب یہ تھا کہ اگر میں بھی پانی نکالنے میں لگ جاؤں تو لوگ اس کو بھی حج کا ایک رکن سمجھ لیں گے، اور اس کے لیے بھیڑ لگا دیں گے، اور ہر شخص پانی نکالنا چاہے گا، اور بھیڑ بھاڑکے ڈر سے تم اس خدمت سے علاحدہ ہو جاؤ گے، کیونکہ تم لوگوں سے لڑ نہیں سکو گے، اور وہ تم پر غالب آ جائیں گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، م بلفظ «أبدأ» ، وهو الصواب
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم