🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. باب : تزيين القرآن بالصوت
باب: خوش الحانی سے قرآن پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1023
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ عَنْ قِرَاءَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَاتِهِ، قَالَتْ:" مَا لَكُمْ وَصَلَاتَهُ، ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا".
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت اور نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تم کہاں اور آپ کی نماز کہاں! پھر انہوں نے آپ کی قرأت بیان کی جس کا ایک ایک حرف بالکل واضح تھا۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1023]
حضرت یعلی بن مملک رحمہ اللہ نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت اور نماز کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تمہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے کیا سروکار؟ (اس پر عمل کرنا بہت مشکل ہے)۔ پھر انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کی نقل فرمائی (اسے بیان کیا) تو وہ ایسی قراءت تھی جس کا ایک ایک حرف الگ الگ تھا (ہر آیت اور جملے پر وقف ہوتا تھا)۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 355 (1466) مطولاً، سنن الترمذی/فضائل القرآن 23 (2923) مطولاً، (تحفة الأشراف: 18226)، مسند احمد 6/294، 297، 300، 308، وأعادہ المؤلف برقم: 1630 (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ اس کے راوی ’’یعلی‘‘ لین الحدیث ہیں، دیکھئے إرواء رقم: 343)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1015
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قال: سَأَلْتُ أَنَسًا كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ:" كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا".
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے کہا: آپ اپنی آواز خوب کھینچتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1015]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کیسے ہوتی تھی؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آواز کو کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/باب سجود القرآن/حدیث: 1015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 29 (5045)، سنن ابی داود/الصلاة 355 (1465)، سنن الترمذی/الشمائل 43 (298)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 179 (1353)، (تحفة الأشراف: 1145)، مسند احمد 3/119، 127، 131، 192، 198، 289 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں