🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب : اللعن في القنوت
باب: دعائے قنوت میں لعنت بھیجنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1078
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ. ح وَهِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا" قَالَ شُعْبَةُ: لَعَنَ رِجَالًا وَقَالَ هِشَامٌ: يَدْعُو عَلَى أَحْيَاءٍ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ، ثُمَّ تَرَكَهُ بَعْدَ الرُّكُوعِ هَذَا قَوْلُ هِشَامٍ، وَقَالَ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَنَتَ شَهْرًا يَلْعَنُ رِعْلًا، وَذَكْوَانَ، وَلِحْيَانَ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی۔ شعبہ کی روایت میں ہے آپ نے چند لوگوں پر لعنت بھیجی، اور ہشام کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرب کے کچھ قبیلوں پر رکوع کے بعد بد دعا فرماتے تھے، پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا، یہ قول ہشام کا ہے، اور شعبہ قتادہ سے اور قتادہ انس رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک قنوت پڑھی، آپ رعل، ذکوان اور لحیان قبائل پر لعنت بھیج رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1078]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ رکوع کے بعد قنوت فرمائی۔ آپ چند لوگوں کے نام لے کر ان پر لعنت کرتے تھے اور عرب کے کچھ قبائل کا نام لے کر بددعا کرتے تھے۔ پھر آپ نے قنوت کرنا ترک کر دی۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک قنوت فرمائی۔ آپ رعل، ذکوان اور لحیان (نامی قبائل) پر لعنت کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1078]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «حدیث شعبة عن قتادة عن أنس أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، مسند احمد 3/216، 259، 278، (تحفة الأشراف: 1273)، وحدیث ہشام عن قتادة عن أنس أخرجہ: صحیح البخاری/المغازي 28 (4089)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 145 (1243)، مسند احمد 3/115، 180، 217، 249، 261، (تحفة الأشراف: 1354) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1071
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قال:" قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ، وَذَكْوَانَ، وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک رکوع کے بعد دعائے قنوت پڑھی، آپ اس میں رعل، ذکوان اور عصیہ نامی قبائل ۱؎ پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی، بد دعا کرتے رہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1071]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ رکوع کے بعد قنوت فرمائی۔ آپ رعل، ذکوان اور عصیہ قبائل پر بددعا کرتے تھے۔ (کیونکہ) انہوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی معصیت (نافرمانی) کی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 7 (1003)، المغازي 28 (4094)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677)، تحفة الأشراف: 1650)، مسند احمد 3/116، 204، والحدیث أخرجہ: صحیح البخاری/الوتر 7 (1001)، الجنائز 40 (1300)، الجھاد 9 (2801)، 19 (2814)، 184 (3064)، الجزیة 8 (3170)، المغازي 28 (4088، 4092)، (4094، 4096)، الدعوات 58 (6394)، الاعتصام 16 (7341)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1443)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 120 (1184)، مسند احمد 3/113، 115، 166، 167، 180، 184، 191، 204، 217، 232، 249، 261، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1637) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: رعل، ذکوان اور عصیّہ تینوں قبائل کے نام ہیں، جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قراء کو دھوکہ سے قتل کر دیا تھا، آپ نے ان پر ایک ماہ تک قنوت نازلہ پڑھی تھی، جو رکوع کے بعد پڑھی جاتی ہے، یہ وتر والی قنوت نہیں تھی، وتر والی قنوت میں تو افضل یہ ہے کہ رکوع سے پہلے پڑھی جائے، جائز رکوع کے بعد بھی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1072
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ سُئِلَ" هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ: نَعَمْ فَقِيلَ لَهُ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ: بَعْدَ الرُّكُوعِ".
ابن سیرین سے روایت ہے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر میں قنوت پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! (پڑھی ہے) پھر ان سے پوچھا گیا، رکوع سے پہلے یا رکوع کے بعد؟ رکوع کے بعد ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1072]
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز میں قنوت پڑھی ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ پوچھا گیا: رکوع سے پہلے یا بعد؟ آپ نے فرمایا: رکوع کے بعد۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوتر 7 (1001)، صحیح مسلم/المساجد 54 (677) مختصراً، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1444)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 120 (1184)، مسند احمد 3/113، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1640)، (تحفة الأشراف: 1453) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اور رکوع سے پہلے کی بھی روایت موجود ہے جیسا کہ ابن ماجہ (حدیث رقم: ۱۱۸۳) میں «نقنت قبل الرکوع وبعدہ» کے الفاظ آئے ہیں اور اس کی سند قوی ہے۔ گویا دونوں طرح جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1077
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ. ح، وأَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، وَسُفْيَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقْنُتُ فِي الصُّبْحِ وَالْمَغْرِبِ" وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں اور مغرب میں دعائے قنوت پڑھتے تھے۔ عبیداللہ بن سعید کی روایت میں «أن النبي صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» ہے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1077]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صبح اور مغرب کی نماز میں قنوت پڑھا کرتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 54 (678)، سنن ابی داود/الصلاة 345 (1441)، سنن الترمذی/الصلاة 178 (401)، (تحفة الأشراف: 1782)، مسند احمد 4/280، 285، 299، 300، سنن الدارمی/الصلاة 216 (1638، 1639) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1079
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنَ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ قَالَ:" اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا يَدْعُو عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ نے فجر کی نماز میں آخری رکعت سے اپنا سر اٹھایا کچھ منافقوں پر لعنت بھیجتے ہوئے سنا، آپ کہہ رہے تھے: «اللہم العن فلانا وفلانا» اے اللہ! تو فلاں فلاں کو رسوا کر، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏ليس لك من الأمر شىء أو يتوب عليهم أو يعذبهم فإنهم ظالمون‏» اے محمد! آپ کے اختیار میں کچھ نہیں، اللہ چاہے تو ان کی توبہ قبول کرے یا عذاب دے، کیونکہ وہ ظالم ہیں (آل عمران: ۱۲۸)۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1079]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صبح کی نماز میں آخری رکعت کے رکوع سے سر اٹھایا تو فرمایا: «اَللّٰهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا وَفُلَانًا» اے اللہ! فلاں اور فلاں پر لعنت فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منافقین میں سے کچھ لوگوں کا نام لے لے کر بددعا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ﴾ [سورة آل عمران: 128] آپ کے لیے اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ (یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے کہ) وہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے۔ بلاشبہ وہ ظالم ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1079]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 21 (4069)، تفسیر آل عمران 9 (4559)، الاعتصام 17 (7346)، (تحفة الأشراف: 6940)، مسند احمد 2/93، 147 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1080
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَنَتَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی، آپ عرب کے ایک قبیلے پر بد دعا کر رہے تھے، پھر آپ نے اسے ترک کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1080]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ قنوت فرمائی، آپ عرب کے قبائل میں سے ایک قبیلے کے خلاف بددعا کرتے تھے، پھر آپ نے قنوت چھوڑ دی۔ [سنن نسائي/كتاب التطبيق/حدیث: 1080]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1078 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں