سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
92. باب : نوع آخر من عدد التسبيح
باب: تسبیح کی ایک اور قسم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1350
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَسْبَاطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُعَقِّبَاتٌ لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ , يُسَبِّحُ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَيَحْمَدُهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَيُكَبِّرُهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کچھ ایسے الفاظ ہیں جنہیں ہر نماز کے بعد کہا جاتا ہے ان کا کہنے والا ناکام و نامراد نہیں ہو سکتا، یعنی جو ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1350]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض نمازوں کے بعد پڑھے جانے والے کچھ ایسے کلمات ہیں جنھیں پڑھنے والا کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰہِ»، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰہِ» اور چونتیس دفعہ «اللّٰہُ اَکْبَرُ» پڑھے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1350]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 26 (596)، سنن الترمذی/الدعوات 25 (3412)، (تحفة الأشراف: 11115)، والمؤلف فی عمل الیوم واللیلة 59 (155) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1351
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ حِزَامٍ التِّرْمِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنِ ابْنِ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ كَثِيرِ ابْنِ أَفْلَحَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: أُمِرُوا أَنْ يُسَبِّحُوا دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَيَحْمَدُوا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَيُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ , فَأُتِيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي مَنَامِهِ , فَقِيلَ لَهُ: أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسَبِّحُوا دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَتَحْمَدُوا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَتُكَبِّرُوا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: فَاجْعَلُوهَا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَاجْعَلُوا فِيهَا التَّهْلِيلَ فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ:" اجْعَلُوهَا كَذَلِكَ".
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا گیا کہ وہ ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہیں، پھر ایک انصاری شخص سے اس کے خواب میں پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ہر نماز کے بعد تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أکبر» کہنے کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، تو پوچھنے والے نے کہا: تم انہیں پچیس، پچیس بار کر لو، اور باقی پچیس کی جگہ «لا الٰہ إلا اللہ» کہا کرو، تو جب صبح ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے سارا واقعہ بیان کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے اسی طرح کر لو“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1351]
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو حکم دیا گیا (استحاباً) کہ ہر فرض نماز کے بعد تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور چونتیس دفعہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہیں۔ ایک انصاری صحابی کو خواب آیا، اسے کہا گیا: کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تم ہر نماز کے بعد تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور چونتیس دفعہ «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ خواب میں نظر آنے والے شخص نے کہا: تم انہیں پچیس دفعہ کرلو اور ان میں «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“ کا اضافہ کرلو۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری صحابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور پورا خواب بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے کرلو۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1351]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 3736)، مسند احمد 5/184، 190، سنن الدارمی/الصلاة 90 (1394) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1352
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا رَأَى فِيمَا يَرَى النَّائِمُ , قِيلَ لَهُ: بِأَيِّ شَيْءٍ أَمَرَكُمْ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: أَمَرَنَا أَنْ نُسَبِّحَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَنَحْمَدَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَنُكَبِّرَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ , قَالَ: سَبِّحُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَاحْمَدُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَكَبِّرُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَهَلِّلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَاحْمَدُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ , وَكَبِّرُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ وَهَلِّلُوا خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَتِلْكَ مِائَةٌ فَلَمَّا أَصْبَحَ ذَكَرَ ذَلِك للنَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" افْعَلُوا كَمَا قَالَ الْأَنْصَارِيُّ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دیکھا جیسے سونے والا خواب دیکھتا ہے، اس سے خواب میں پوچھا گیا: تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے؟ اس نے کہا: آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور چونتیس بار «اللہ أكبر» کہیں، تو یہ کل سو ہیں، تو اس نے کہا: تم پچیس بار «سبحان اللہ» پچیس بار «الحمد لله» پچیس بار «اللہ أكبر» اور پچیس بار «لا إله إلا اللہ» کہو، یہ بھی سو ہیں، چنانچہ جب صبح ہوئی تو اس آدمی نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ ایسے ہی کر لو جیسے انصاری نے کہا“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1352]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی نے خواب میں دیکھا، ان سے پوچھا گیا: تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کس چیز کا حکم دیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم (فرض نماز کے بعد) تینتیس دفعہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”الحمد للہ“ اور چونتیس دفعہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہیں۔ یہ ایک سو ہو جائیں گے۔ اس نے کہا: تم پچیس دفعہ «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ“، پچیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلَّهِ» ”الحمد للہ“، پچیس دفعہ «اللَّهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ اور پچیس دفعہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ» ”لا الہ الا اللہ“ پڑھ لیا کرو۔ یہ بھی ایک سو ہو جائیں گے۔ جب صبح ہوئی تو اس صحابی نے یہ خواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جیسے یہ انصاری کہتا ہے، اسی طرح کرلو۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1352]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف، (تحفة الأشراف: 7768) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 1354
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَتَّابٌ هُوَ ابْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ , وَمُجَاهِدٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ الْفُقَرَاءُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي , وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ , وَلَهُمْ أَمْوَالٌ يَتَصَدَّقُونَ وَيُنْفِقُونَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّيْتُمْ , فَقُولُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَشْرًا , فَإِنَّكُمْ تُدْرِكُونَ بِذَلِكَ مَنْ سَبَقَكُمْ وَتَسْبِقُونَ مَنْ بَعْدَكُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ فقراء نے آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! مالدار لوگ (بھی) نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، وہ بھی روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، ان کے پاس مال ہے وہ صدقہ و خیرات کرتے ہیں، اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں، (اور ہم نہیں کر پاتے ہیں تو ہم ان کے برابر کیسے ہو سکتے ہیں) یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم لوگ نماز پڑھ چکو تو تینتیس بار «سبحان اللہ» تینتیس بار «الحمد لله» اور تینتیس بار «اللہ أكبر» اور دس بار «لا إله إلا اللہ» کہو، تو تم اس کے ذریعہ سے ان لوگوں کو پا لو گے جو تم سے سبقت کر گئے ہیں، اور اپنے بعد والوں سے سبقت کر جاؤ گے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1354]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ فقیر صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مالدار لوگ ہماری طرح نمازیں پڑھتے ہیں اور ہماری طرح روزے رکھتے ہیں، لیکن ان کے پاس مال ہے جس سے وہ صدقہ کرتے ہیں اور غلام آزاد کرتے ہیں۔ (ہم ان کے درجے کو کیسے پہنچ سکتے ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم نماز پڑھ چکو تو تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، تینتیس مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے“، تینتیس مرتبہ «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ اور دس دفعہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیا کرو۔ تم اس عمل کی بدولت اپنے سے آگے بڑھ جانے والے لوگوں کو جا ملو گے اور ان لوگوں سے بہت آگے بڑھ جاؤ گے جو تم سے پیچھے ہیں۔“ (یا جو یہ عمل نہیں کرتے۔) [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 186 (410)، (تحفة الأشراف: 6068، 6393) (منکر) (دس بار ’’لا إلٰہ إلا اللہ‘‘ کا ذکر منکر ہے، منکر ہونے کا سبب خُصیف ہیں جو حافظے کے کمزور اور مختلط راوی ہیں، نیز آخر میں ایک بار ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری میں مروی ہے)»
قال الشيخ الألباني: منكر بتعشير التهليل
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ترمذي (410) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 331