🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. باب : الاختلاف على إسماعيل بن أبي خالد
باب: اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1815
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَاصِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّارِ".
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1815]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات اور ظہر کے بعد چار رکعات (پابندی سے) پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام کر دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 296 (1269)، (تحفة الأشراف: 15863)، مسند احمد 6/326 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1813
أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الْعَطَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَمَاعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، قَالَ: لَمَّا نُزِلَ بِعَنْبَسَةَ جَعَلَ يَتَضَوَّرُ، فَقِيلَ لَهُ: فَقَالَ: أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَحْمَهُ عَلَى النَّارِ" , فَمَا تَرَكْتُهُنَّ مُنْذُ سَمِعْتُهُنَّ.
حسان بن عطیہ کہتے ہیں کہ جب عنبسہ کی موت کا وقت آیا تو وہ تکلیف سے پیچ و تاب کھانے لگے تو ان سے کچھ پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: سنو! میں نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو سنا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے بیان کر رہی تھیں کہ آپ نے فرمایا ہے: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں، تو اللہ تعالیٰ اس کا گوشت جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا، تو جب سے میں نے انہیں سنا ہے میں نے انہیں چھوڑا نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1813]
حسان بن عطیہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جب عنبسہ بن ابوسفیان رحمہ اللہ کی وفات قریب ہوئی تو وہ تڑپنے لگے۔ ان سے کہا گیا (یعنی ان کو تسکین دی گئی) تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیان فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے ظہر سے پہلے چار رکعات اور ظہر کے بعد چار رکعات پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کا گوشت آگ پر حرام کر دے گا۔ جب سے میں نے یہ روایت سنی ہے، میں نے یہ رکعات نہیں چھوڑیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1813]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15856)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 296 (1269)، سنن الترمذی/الصلاة 201 (427)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 108 (1160)، مسند احمد 6/325، 426 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1816
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَال مَرْوَانُ: وَكَانَ سَعِيدٌ إِذَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَرَّ بِذَلِكَ وَلَمْ يُنْكِرْهُ، وَإِذَا حَدَّثَنَا بِهِ هُوَ لَمْ يَرْفَعْهُ , قَالَتْ:" مَنْ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَكْحُولٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَنْبَسَةَ شَيْئًا.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، مروان بن محمد کہتے ہیں: اور سعید بن عبدالعزیز پر جب پڑھا گیا کہ ام حبیبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں تو انہوں نے اس کا اقرار کیا، اور انکار نہیں کیا حالانکہ جب انہوں نے اسے ہم سے بیان کیا تو انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا، وہ کہتی ہیں: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں، اور اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: مکحول نے عنبسہ سے کچھ نہیں سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1816]
حضرت مروان رحمہ اللہ نے کہا کہ جب یہ روایت [عنبسہ عن ام حبیبہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم ] ہمارے استاد سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ پر پڑھی جاتی تھی تو وہ اس کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ اسے برقرار رکھتے تھے، لیکن جب وہ خود یہ روایت بیان فرماتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں فرماتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات اور ظہر کے بعد چار رکعات پڑھے، اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام فرما دے گا۔ امام ابو عبدالرحمٰن نسائی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مکحول رحمہ اللہ نے حضرت عنبسہ رحمہ اللہ سے کچھ نہیں سنا۔ (یعنی یہ روایت منقطع ہے۔) [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1817
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ أَخَذَهُ أَمْرٌ شَدِيدٌ , فَقَالَ: حَدَّثَتْنِي أُخْتِي أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعٍ بَعْدَهَا حَرَّمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى النَّارِ".
محمد بن ابی سفیان کہتے ہیں کہ جب ان کی موت کا وقت قریب ہوا تو ان کی حالت شدید ہو گئی تو انہوں نے کہا: مجھ سے میری بہن ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہم نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں، اور اس کے بعد کی چار رکعتوں کی محافظت کی، تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم پر حرام کر دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1817]
حضرت سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت محمد بن ابوسفیان کو موت آنے لگی تو انہیں بڑی گھبراہٹ اور بے قراری لاحق ہو گئی۔ انہوں نے فرمایا: مجھے میری ہمشیرہ محترمہ سیدتنا ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات اور ظہر کے بعد چار رکعات پر پابندی کرے، اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام فرما دیتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15866) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1818
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَأَرْبَعًا بَعْدَهَا لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ وَالصَّوَابُ حَدِيثُ مَرْوَانَ مِنْ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد چار پڑھیں، اسے آگ نہیں چھوئے گی۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ غلط ہے ۱؎، صحیح مروان کی حدیث ہے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1818]
حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد چار رکعات (پابندی سے) پڑھے گا، اسے آگ نہ چھوئے گی۔ امام ابو عبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ حدیث غلط ہے۔ صحیح حدیث مروان کی ہے جو وہ سعید بن عبدالعزیز سے بیان کرتے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1818]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 201 (427)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 108 (1160)، (تحفة الأشراف: 15858)، مسند احمد 6/426 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اشارہ اس سے پہلے والی حدیث کی طرف ہے اس لیے بہتر یہ تھا کہ امام نسائی کا یہ قول حدیث رقم: ۱۸۱۷ کے بعد ذکر کیا جاتا، نیز یہ بھی احتمال ہے کہ مراد عبداللہ شعیشی کے طریق سے وارد حدیث ہو ایسی صورت میں یہ کلام اپنے محل ہی میں ہو گا۔ ۲؎: یعنی حدیث رقم: ۱۸۱۶، جسے وہ سعید بن عبدالعزیز سے روایت کر رہے ہیں، اس میں عنبسہ بن ابی سفیان ہیں جب کہ اس میں محمد بن ابی سفیان ہیں جو غلط ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں