سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
128. باب : الغسل من مواراة المشرك
باب: مشرک کو دفنانے کے بعد غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 190
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ مُحَمَّدٍ، قال: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ نَاجِيَةَ بْنَ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا طَالِبٍ مَاتَ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِهِ"، قَالَ: إِنَّهُ مَاتَ مُشْرِكًا، قَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِهِ، فَلَمَّا وَارَيْتُهُ رَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي: اغْتَسِلْ".
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ابوطالب مر گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ انہیں گاڑ دو“ تو انہوں نے کہا: وہ شرک کی حالت میں مرے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ انہیں گاڑ دو“، چنانچہ جب میں انہیں گاڑ کر آپ کے پاس واپس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”غسل کر لو“۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز70 (3214)، (تحفة الأشراف: 10287)، مسند احمد 1/97، 131، ویأتي عند المؤلف برقم: 2008 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2008
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ نَاجِيَةَ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قال: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عَمَّكَ الشَّيْخَ الضَّالَّ مَاتَ، فَمَنْ يُوَارِيهِ؟ قَالَ:" اذْهَبْ فَوَارِ أَبَاكَ وَلَا تُحْدِثَنَّ حَدَثًا حَتَّى تَأْتِيَنِي"، فَوَارَيْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ فَأَمَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ وَدَعَا لِي وَذَكَرَ دُعَاءً لَمْ أَحْفَظْهُ.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ کے بوڑھے گم کردہ راہ چچا (ابوطالب) مر گئے ہیں، انہیں کون دفن کرے؟ آپ نے فرمایا: ”تم جاؤ اور اپنے باپ کو دفن کر دو اور کوئی نئی چیز نہ کرنا جب تک میرے پاس لوٹ نہ آنا“، چنانچہ میں انہیں دفن کر آیا، تو آپ نے میرے لیے (نہانے کا) حکم دیا، میں نے غسل کیا، اور آپ نے مجھے دعا دی۔ راوی ناجیہ بن کعب کہتے ہیں: اور علی رضی اللہ عنہ نے ایک ایسی دعا کا ذکر کیا جسے میں یاد نہیں رکھ سکا۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 2008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 190 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن