سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. باب : دفن الجماعة في القبر الواحد
باب: کئی لوگوں کو ایک قبر میں دفنانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2017
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَ النَّاسَ جَهْدٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَمَنْ نُقَدِّمُ؟ قَالَ:" قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب (غزوہ) احد کا دن آیا، تو لوگوں کو سخت پریشانی ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو اور اسے چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین دفنا دو“، تو لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے اسے رکھو جسے قرآن زیادہ یاد ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2017]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ احد کے دن لوگوں کو سخت تکلیف پہنچی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، کشادہ کھودو اور دو دو، تین تین شہداء کو ایک ایک قبر میں دفن کرو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کس کو آگے (قبلے کی طرف) رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان میں سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2017]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2012
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: شَكَوْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْحَفْرُ عَلَيْنَا لِكُلِّ إِنْسَانٍ شَدِيدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ" , قَالُوا: فَمَنْ نُقَدِّمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" قَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , قَالَ: فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے (غزوہ) احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی، ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہر ایک آدمی کے لیے (الگ الگ) قبر کھودنا ہمارے لیے دشوار ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھودو اور گہرا کھودو اچھی طرح کھودو، اور دو دو تین تین (افراد) کو ایک ہی قبر میں دفن کر دو“، تو لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! پہلے ہم کسے رکھیں؟ آپ نے فرمایا: ”پہلے انہیں رکھو جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو“۔ ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک ہی قبر میں رکھے جانے والے تین افراد میں سے میرے والد تیسرے فرد تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2012]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے جنگِ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور عرض کیا کہ ہر میت کے لیے الگ الگ قبر کھودنا ہمارے لیے بہت مشکل ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، گہری کھودو اور اچھی طرح کھودو، اور دو دو، تین تین آدمیوں کو ایک قبر میں دفن کر دو۔“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم آگے کس میت کو رکھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو۔“ راویِ حدیث حضرت ہشام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے والد سمیت تین آدمی ایک قبر میں دفن کیے گئے۔ (رضی اللہ عنہ) [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2012]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 71 (3215، 3216، 3217)، سنن الترمذی/الجھاد 33 (1713)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 41 (1560) مختصراً، (تحفة الأشراف: 11731)، مسند احمد 4/19، 20، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2013، 2017-2020 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2013
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قال: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، قال: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أُصِيبَ مَنْ أُصِيبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَصَابَ النَّاسَ جِرَاحَاتٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جس دن احد کی لڑائی ہوئی تو جن مسلمانوں کو مارا جانا تھا مارے گئے، اور جسے زخمی ہونا تھا زخمی ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو اور چوڑی کھودو، اور ایک ہی قبر میں دو دو تین تین لوگوں کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں (قبر میں) پہلے رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2013]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ احد کے دن بہت زیادہ مسلمان شہید ہو گئے اور (باقی ماندہ) لوگوں کو بہت زخم لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (از راہِ شفقت) فرمایا: ”تم (قبریں) کھودو اور انہیں کشادہ کھودو اور دو دو، تین تین شہداء کو ایک ایک قبر میں دفن کر دو اور جس نے قرآن مجید زیادہ پڑھا ہو، اسے آگے رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ماقبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2018
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قال: اشْتَدَّ الْجِرَاحُ يَوْمَ أُحُدٍ، فَشُكِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن (لوگ) شدید زخمی ہوئے (اور جاں بحق ہو گئے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی شکایت کی گئی ۱؎، آپ نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو، انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور ایک (ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہوا سے آگے رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2018]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد میں لوگوں کو زخموں کی سخت تکلیف تھی، اس بات کی شکایت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، کشادہ کھودو اور اچھی طرح کھودو اور دو دو، تین تین کو ایک ایک قبر میں دفن کرو، اور جو شخص زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہو، اسے آگے رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2018]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی آپ سے اس پریشانی کا ذکر کیا گیا کہ اتنے لوگوں کے لیے قبریں کھودنا بہت مشکل امر ہے، انہیں کیسے دفنایا جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2019
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي الدَّهْمَاءِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" احْفِرُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا".
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو، اور انہیں خوبصورت بناؤ، اور دو دو تین تین کو دفن کرو، اور جسے قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2019]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو اور اچھی طرح کھودو اور دو دو، تین تین کو (اکٹھا) دفن کرو، اور جو شخص قرآن مجید زیادہ پڑھا ہوا ہو، اسے آگے رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2019]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2020
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قال: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا" , فَكَانَ أَبِي ثَالِثَ ثَلَاثَةٍ، وَكَانَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ.
ہشام بن عامر انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ (غزوہ) احد کے دن میرے والد قتل کئے گئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(قبریں) کھودو اور انہیں کشادہ اور اچھی بناؤ، اور (ایک ہی) قبر میں دو دو تین تین کو دفنا دو، اور جنہیں قرآن زیادہ یاد ہو انہیں پہلے رکھو“، چنانچہ میرے والد تین میں کے تیسرے تھے، اور انہیں قرآن زیادہ یاد تھا تو وہ پہلے رکھے گئے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2020]
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگِ احد کے دن میرے والد شہید ہو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبریں کھودو، کشادہ کھودو اور اچھی طرح کھودو، اور دو دو، تین تین کو ایک ایک قبر میں دفن کرو اور جس نے قرآن مجید زیادہ پڑھا ہو، اسے آگے رکھو۔“ میرے والد تین میں سے ایک تھے (جو ایک ہی قبر میں دفن کیے گئے، یعنی ان کے ساتھ دو اور آدمی دفن کیے گئے۔) چونکہ وہ (میرے والد) قرآن مجید زیادہ پڑھے ہوئے تھے، لہٰذا انہیں (قبلے کی طرف) آگے رکھا گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2020]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2012 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 3149
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُكْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ، إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا، اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ، وَالرِّيحُ رِيحُ الْمِسْكِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کوئی اللہ کے راستے میں گھائل ہو گا، اور اللہ کو خوب معلوم ہے کہ اس کے راستے میں کون زخمی ہوا ۱؎ تو قیامت کے دن (اس طرح) آئے گا کہ اس کے زخم سے خون ٹپک رہا ہو گا۔ رنگ خون کا ہو گا اور خوشبو مشک کی ہو گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 3149]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں زخمی ہوتا ہے... اور اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اللہ تعالیٰ کی راہ میں زخمی ہوتا ہے... تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون تیزی سے بہہ رہا ہوگا۔ رنگ تو خون کا ہوگا مگر خوشبو کستوری کی ہوگی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 3149]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجہاد 10 (2803)، صحیح مسلم/الإمارة 28 (1876)، (تحفة الأشراف: 13690)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الجہاد 15 (2795)، موطا امام مالک/الجہاد 14 (29)، مسند احمد (3/2 24، 31، 398، 400، 512، 531، 537)، سنن الدارمی/الجہاد 15 (2450) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس جملہ معترضہ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں زخمی ہونے والے شخص کے عمل کا دارومدار اس کے اخلاص پر ہے جس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه