سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. باب : الشهيد
باب: شہید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2056
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ:" الطَّاعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِيقُ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ" , قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا، وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، اور زچگی کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔ وہ (تیمی) کہتے ہیں: ہم سے ابوعثمان نے بارہا بیان کیا، ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مرفوع بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2056]
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”طاعون، پیٹ کی تکلیف، غرق اور دروزہ سے آنے والی موت شہادت ہے۔“ (راویٔ حدیث سلیمان تیمی نے) کہا: ہم سے یہ حدیث ابوعثمان نے کئی بار بیان کی اور ایک بار اس کو (مرفوع) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4948)، مسند احمد 3/400، 401 و 6/465، 466، سنن الدارمی/الجھاد 22 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1847
أَخْبَرَنَا عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ، أَنَّ عَتِيكَ بْنَ الْحَارِثِ وَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ يَعُودُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ فَوَجَدَهُ قَدْ غُلِبَ عَلَيْهِ فَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُجِبْهُ , فَاسْتَرْجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" قَدْ غُلِبْنَا عَلَيْكَ أَبَا الرَّبِيعِ"، فَصِحْنَ النِّسَاءُ وَبَكَيْنَ فَجَعَلَ ابْنُ عَتِيكٍ يُسَكِّتُهُنَّ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ بَاكِيَةٌ" , قَالُوا: وَمَا الْوُجُوبُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْمَوْتُ" , قَالَتِ ابْنَتُهُ: إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا قَدْ كُنْتَ قَضَيْتَ جِهَازَكَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَيْهِ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟" , قَالُوا: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ , وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ , وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ , وَصَاحِبُ الْهَدَمِ شَهِيدٌ , وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ , وَصَاحِبُ الْحَرَقِ شَهِيدٌ , وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ".
جابر بن عتیک انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی عیادت (بیمار پرسی) کرنے آئے تو دیکھا کہ بیماری ان پر غالب آ گئی ہے، تو آپ نے انہیں زور سے پکارا (لیکن) انہوں نے (کوئی) جواب نہیں دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اناللہ وانا اليہ راجعون» پڑھا، اور فرمایا: ”اے ابو ربیع! ہم تم پر مغلوب ہو گئے“ (یہ سن کر) عورتیں چیخ پڑیں، اور رونے لگیں، ابن عتیک انہیں چپ کرانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں چھوڑ دو لیکن جب واجب ہو جائے تو ہرگز کوئی رونے والی نہ روئے“۔ لوگوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! (یہ) واجب ہونا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”مر جانا“، ان کی بیٹی نے اپنے باپ کو مخاطب کر کے کہا: مجھے امید تھی کہ آپ شہید ہوں گے (کیونکہ) آپ نے اپنا سامان جہاد تیار کر لیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی نیت کے حساب سے انہیں اجر و ثواب دے گا، تم لوگ شہادت سے کیا سمجھتے ہو؟“ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارے جانے کے علاوہ شہادت (کی) سات (قسمیں) ہیں، طاعون سے مرنے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے، ڈوب کر مرنے والا شہید ہے، عمارت سے دب کر مرنے والا شہید ہے، نمونیہ میں مرنے والا شہید ہے، جل کر مرنے والا شہید ہے، اور جو عورت جننے کے وقت یا جننے کے بعد مر جائے وہ شہید ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1847]
حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے تو انہیں موت کی بے ہوشی میں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکارا مگر وہ جواب نہ دے سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”یقیناً ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے“ پڑھا اور فرمایا: ”اے ابو الربیع! ہم تمہارے معاملے میں بے بس ہیں (ورنہ ہم تو تمہاری زندگی کے خواہش مند ہیں)۔“ یہ سن کر عورتیں چیخ پکار کرنے لگیں۔ جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ انہیں چپ کرانے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہنے دو لیکن جب واجب ہو جائے تو پھر کوئی عورت (آواز سے) نہ روئے۔“ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! واجب ہونا کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت۔“ ان کی بیٹی کہنے لگی: ابا جان! مجھے تو امید تھی کہ آپ شہید ہوں گے کیونکہ آپ نے اپنا سامانِ جہاد تیار کر رکھا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے مطابق ان کا ثواب لکھ دیا ہے۔ (پھر حاضرین سے پوچھا:) تم شہادت کسے سمجھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کے راستے میں مارے جانے کے علاوہ بھی شہادت کی سات صورتیں ہیں: طاعون سے مر جانے والا شہید ہے، پیٹ کی تکلیف سے مر جانے والا بھی شہید ہے، غرق ہو کر مرنے والا بھی شہید ہے، دب کر مر جانے والا بھی شہید ہے، اندرونی پھوڑے (کینسر و سرطان وغیرہ) سے مر جانے والا بھی شہید ہے، آگ میں جل کر مر جانے والا بھی شہید ہے اور زچگی کے دوران میں مر جانے والی عورت بھی شہید ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 1847]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 15 (3111)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 17 (2803)، (تحفة الأشراف: 3173)، موطا امام مالک/الجنائز 12 (36)، مسند احمد 5/446، ویأتی عند المؤلف فی الجھاد 48 (بأرقام: 3196، 3197) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عبداللہ بن ثابت کی کنیت ہے مطلب یہ ہے کہ تقدیر ہمارے ارادے پر غالب آ گئی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3165
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْحَضْرَمِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" خَمْسٌ مَنْ قُبِضَ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ فَهُوَ شَهِيدٌ: الْمَقْتُولُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالْمَطْعُونُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ، وَالنُّفَسَاءُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حالتیں ہیں ان میں سے کسی بھی ایک حالت پر مرنے والا شہید ہو گا، اللہ کے راستے (جہاد) میں نکلا اور قتل ہو گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور ڈوب کر مر گیا تو وہ شہید ہے، جہاد میں نکلا اور دست میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا تو وہ بھی شہید ہے، جہاد میں نکلا اور طاعون میں مبتلا ہو کر مر گیا وہ بھی شہید ہے، عورت (شوہر کے ساتھ جہاد میں نکلی ہے) حالت نفاس میں مر گئی تو وہ بھی شہید ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 3165]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ حالتیں ایسی ہیں کہ جو شخص بھی ان میں فوت ہو وہ شہید ہو گا: جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جائے وہ شہید ہے، جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں غرق ہو وہ شہید ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ کے راستے میں پیٹ کی تکلیف سے مر جائے وہ شہید ہے، اور جو عورت اللہ تعالیٰ کے راستے میں زچگی سے مر جائے وہ بھی شہید ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 3165]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 9931) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3196
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ جَبْرًا، فَلَمَّا دَخَلَ سَمِعَ النِّسَاءَ يَبْكِينَ، وَيَقُلْنَ كُنَّا نَحْسَبُ وَفَاتَكَ قَتْلًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ:" وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ إِلَّا مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، إِنَّ شُهَدَاءَكُمْ إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ، وَالْحَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالْمَغْمُومُ يَعْنِي الْهَدِمَ شَهَادَةٌ، وَالْمَجْنُوب شَهَادَةٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ، قَالَ رَجُلٌ: أَتَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ؟ قَالَ:" دَعْهُنَّ فَإِذَا وَجَبَ فَلَا تَبْكِيَنَّ عَلَيْهِ بَاكِيَةٌ".
عبداللہ بن جبر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبر رضی اللہ عنہ کی عیادت (بیمار پرسی) کے لیے تشریف لائے، جب گھر میں (اندر) پہنچے تو آپ نے عورتوں کے رونے کی آواز سنی۔ وہ کہہ رہی تھیں: ہم جہاد میں آپ کی شہادت کی تمنا کر رہے تھے (لیکن وہ آپ کو نصیب نہ ہوئی)۔ (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم شہید صرف اسی کو سمجھتے ہو جو جہاد میں قتل کر دیا جائے؟ اگر ایسی بات ہو تو پھر تو تمہارے شہداء کی تعداد بہت تھوڑی ہو گی۔ (سنو) اللہ کے راستے میں مارا جانا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری میں مرنا شہادت ہے، جل کر مرنا شہادت ہے، ڈوب کر مرنا شہادت ہے، (دیوار وغیرہ کے نیچے) دب کر مرنا شہادت ہے، ذات الجنب یعنی نمونیہ میں مبتلا ہو کر مرنا شہادت ہے، حالت حمل میں مر جانے والی عورت شہید ہے“، ایک شخص نے کہا: تم سب رو رہی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑ دو انہیں کچھ نہ کہو۔ (انہیں رونے دو کیونکہ مرنے سے پہلے رونا منع نہیں ہے) البتہ جب انتقال ہو جائے تو کوئی رونے والی اس پر (زور زور سے) نہ روئے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 3196]
حضرت عبداللہ بن جبر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (میرے والد محترم) حضرت جبر رضی اللہ عنہ کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے۔ جب آپ (گھر میں) داخل ہوئے تو آپ نے سنا کہ عورتیں رو رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ ہم تو سمجھتی تھیں کہ تم اللہ کے راستے میں شہید ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم مقتول فی سبیل اللہ کے علاوہ کسی کو شہید نہیں سمجھتے؟ پھر تو تمہارے شہداء بہت کم ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جانا شہادت ہے، پیٹ کی تکلیف سے فوت ہونا بھی شہادت ہے، آگ میں جل کر مر جانا بھی شہادت ہے، ڈوب کر مر جانا بھی شہادت ہے، کسی چیز کے ذریعے دب کر مر جانا بھی شہادت ہے، نمونیا کے ذریعے سے مر جانے والا بھی شہید ہے اور جو عورت زچگی کے دوران میں فوت ہو جائے، وہ بھی شہید ہے۔“ ایک آدمی نے ان عورتوں سے کہا: تم روتی ہو جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رونے دے، البتہ جب یہ فوت ہو جائے تو پھر کوئی نہ روئے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 3196]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1847 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کوئی نوحہ کرنے والی اس پر نوحہ نہ کرے، رہ گیا دھیرے دھیرے رونا اور آنسو بہانا تو یہ ایک فطری عمل ہے اسلام اس سے نہیں روکتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن