سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
118. باب : البعث
باب: موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2085
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّبَيْدِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا"، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَكَيْفَ بِالْعَوْرَاتِ؟ قَالَ:" لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون اٹھائے جائیں گے“، تو اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: لوگوں کی شرمگاہوں کا کیا حال ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن ہر ایک کی ایسی حالت ہو گی جو اسے (ان چیزوں سے) بے نیاز کر دے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2085]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنوں کے (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: شرم گاہوں کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ﴾ [سورة عبس: 37] ”ہر شخص کی اس دن ایسی حالت ہوگی جو اسے (ہر چیز سے) بے نیاز کر دے گی۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16628)، مسند احمد 6/90 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2083
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ:" إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبہ دیتے سنا آپ فرما رہے تھے: ”تم اللہ تعالیٰ سے ننگے پاؤں، ننگے بدن (اور) غیر مختون ملو گے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2083]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر خطبے کی حالت میں یہ فرماتے ہوئے سنا: ”تم ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنوں کے اللہ تعالیٰ سے ملو گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الرقاق 45 (6524، 6525)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2860)، (تحفة الأشراف: 5583)، وقد أخرجہ: حم1/220 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه -
حدیث نمبر: 2084
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عُرَاةً غُرْلًا، وَأَوَّلُ الْخَلَائِقِ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ قیامت کے دن ننگ دھڑنگ، غیر مختون اکٹھا کیے جائیں گے، اور مخلوقات میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا، پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی: «كما بدأنا أول خلق نعيده» ”جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے“ (الانبیاء: ۱۰۴)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2084]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگ ننگے جسم اور بغیر ختنوں کے اکٹھے کیے جائیں گے۔ اور انسانوں میں سے سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ [سورة الأنبياء: 104] ”جیسے ہم نے اسے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا، ویسے ہی پھر اسے پلٹائیں گے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 8 (3349)، 49 (3447)، تفسیر المائدة 13 (4626)، تفسیر الأنبیاء 2 (4740)، الرقاق 45 (6526)، صحیح مسلم/الجنة 14 (2860)، سنن الترمذی/صفة القیامة 3 (2423)، تفسیر الأنبیاء (3167)، (تحفة الأشراف: 5622)، مسند احمد 1/223، 229، 235، 253، سنن الدارمی/الرقاق 82 (2844)، ویأتي برقم: 2089 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2089
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , وَأَبُو دَاوُدَ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَوْعِظَةِ , فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عُرَاةً قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حُفَاةً غُرْلًا، وَقَالَ وَكِيعٌ، وَوَهْبٌ: عُرَاةً غُرْلًا كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ سورة الأنبياء آية 104 , قَالَ: أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَإِنَّهُ سَيُؤْتَى قَالَ: أَبُو دَاوُدَ: يُجَاءُ، وَقَالَ وَهْبٌ، وَوَكِيعٌ سَيُؤْتَى بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِي فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ , فَأَقُولُ: رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ , فَأَقُولُ: كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَى قَوْلِهِ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ سورة المائدة آية 117 - 118 الْآيَةَ , فَيُقَالُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوا مُدْبِرِينَ , قَالَ أَبُو دَاوُدَ: مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت کرنے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”لوگو! تم اللہ تعالیٰ کے پاس ننگے جسم جمع کئے جاؤ گے، (ابوداؤد کی روایت میں ہے ننگے پاؤں اور غیر مختون جمع کئے جاؤ گے، اور وکیع اور وہب کی روایت میں ہے: ننگے جسم اور بلا ختنہ) جیسے ہم نے پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ویسے ہی دوبارہ پیدا کریں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے پہلے جسے قیامت کے دن کپڑا پہنایا جائے گا ابراہیم علیہ السلام ہوں گے، اور عنقریب میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے (ابوداؤد کی روایت میں «یجائ» ہے اور وہب اور وکیع کی روایت میں «سیؤتی» ہے) اور وہ پکڑ کر بائیں جانب لے جائے جائیں گے، میں عرض کروں گا: اے میرے رب! یہ میرے اصحاب (امتی) ہیں، کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے جو آپ کے بعد انہوں نے شریعت میں نئی چیزیں ایجاد کر ڈالی ہیں، تو میں وہی کہوں گا جو نیکوکار بندے (عیسیٰ علیہ السلام) نے کہا تھا کہ جب تک میں ان کے درمیان موجود تھا ان پر گواہ تھا جب تو نے مجھے وفات دے دی (تو تو ہی ان کا نگہبان تھا) اب اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر انہیں بخش دے تو تو زبردست حکمت والا ہے، تو کہا جائے گا: یہ لوگ برابر پیٹھ پھیرنے والے رہے، (اور ابوداؤد کی روایت میں ہے: جب سے تم ان سے جدا ہوئے یہ اپنے ایڑیوں کے بل پلٹنے والے رہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2089]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ و نصیحت کے لیے کھڑے ہوئے تو فرمایا: ”اے لوگو! یقیناً تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے ننگے جسم، ننگے پاؤں اور بغیر ختنہ کے جمع کیا جائے گا۔“ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ﴾ [سورة الأنبياء: 104] ”جس طرح ہم نے پہلے پیدا کیا تھا، اسی طرح ہم پلٹائیں گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے، پھر انہیں بائیں طرف نکال لیا جائے گا۔ میں کہوں گا: اے میرے رب! یہ تو میری امت سے ہیں (یا میرے ساتھی ہیں؟) تو کہا جائے گا: آپ نہیں جانتے، انہوں نے آپ کی عدم موجودگی میں کیا کچھ کیا۔ تو میں (اسی طرح) کہوں گا: جس طرح اللہ کے نیک بندے (حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام) کا قول ہے: ﴿وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنْتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ٭ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ ۖ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ﴾ [سورة المائدة: 117-118] ”(اے اللہ!) میں تو ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا، جب تو نے مجھے اپنے قبضے میں لے لیا، پھر تو تو ہی ان پر نگران تھا (لہٰذا تجھے ہی ان کے کاموں کا علم ہے) اور تو ہر چیز پر خوب گواہ ہے، اگر تو عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر بخش دے تو بے شک تو غالب ہے خوب حکمت والا ہے۔“ پھر کہا جائے گا: جب سے آپ ان کو چھوڑ کر (ہمارے پاس) آگئے یہ اسی وقت سے مرتد ہو گئے تھے اور مرتد ہی رہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2089]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2084 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن