🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب : تفسير المسكين
باب: مسکین کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2575
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي، فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا، فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ".
ام بجید رضی الله عنہا (جو ان عورتوں میں سے ہیں جن ہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: (کبھی ایسا ہوتا ہے) کہ مسکین میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے، اور میں اسے دینے کے لیے کوئی چیز موجود نہیں پاتی؟ آپ نے فرمایا: اگر تم اسے دینے کے لیے صرف جلی ہوئی کھر ہی پاؤ تو اسے وہی دے دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2575]
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کا شرف حاصل ہے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کبھی کوئی مسکین سائل میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے مگر میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اسے دینے کے لیے تیرے پاس کچھ بھی نہ ہو سوائے جلے ہوئے کھر کے، تو وہی اسے دے دے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2566 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2566
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ. ح وَأَنْبَأَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ بُجَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ جَدِّتِهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" رُدُّوا السَّائِلَ وَلَوْ بِظِلْفٍ" , فِي حَدِيثِ هَارُونَ مُحْرَقٍ.
ابن بجید انصاری اپنی دادی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مانگنے والے کو کچھ دے کر لوٹایا کرو اگرچہ کھر ہی سہی۔ ہارون کی روایت میں «محرق» (جلی ہوئی) کا اضافہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2566]
حضرت ابن بجید انصاری کی دادی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سوالی کو کچھ نہ کچھ دے کر واپس کرو، خواہ جلا ہوا کھر ہی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2566]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة33 (1667)، سنن الترمذی/الزکاة29 (1665)، (تحفة الأشراف: 18305)، موطا امام مالک/صفة النبی5 (8)، مسند احمد 4/70، 5/381، 6/382، 383، 435) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں