🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
34. باب : النهى عن لبس البرانس في الإحرام
باب: احرام میں ٹوپی پہننے کی ممانعت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2676
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ , وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ قَالَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا مِنَ الثِّيَابِ شَيْئًا مَسَّهُ وَرْسٌ، وَلَا زَعْفَرَانٌ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے، نہ ٹوپیاں، نہ موزے، البتہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہو، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں ورس زعفران لگے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2676]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیص، شلوار، پگڑی، برانڈی (ٹوپی دار کرتا) اور موزے نہ پہنو مگر یہ کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو ٹخنوں سے نیچے موزے پہن لے (یعنی اوپر سے کاٹ دے) اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جسے ورس یا زعفران لگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2676]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8245)، مسند احمد (2/77)، سنن الدارمی/المناسک 9 (1839) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2668
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ قَالَ:" لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا الْبُرْنُسَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ، وَلَا زَعْفَرَانٌ، وَلَا خُفَّيْنِ، إِلَّا لِمَنْ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَقْطَعْهُمَا، حَتَّى يَكُونَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ محرم کون سے کپڑے پہنے؟ آپ نے فرمایا: محرم قمیص (کرتا) ٹوپی، پائجامہ، عمامہ (پگڑی) اور ورس اور زعفران لگا کپڑا نہ پہنے ۱؎، اور موزے نہ پہنے اور اگر جوتے میسر نہ ہوں تو چاہیئے کہ دونوں موزوں کو کاٹ ڈالے یہاں تک کہ انہیں ٹخنوں سے نیچے کر لے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2668]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قمیص، برنس (ٹوپی دار کرتا)، شلوار، پگڑی، ایسا کپڑا جسے ورس یا زعفران لگا ہو اور موزے نہیں پہن سکتا مگر یہ کہ اس کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے مگر انھیں ٹخنوں سے نیچے کاٹ (کر جوتوں کی طرح بنا) لے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2668]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 15 (5806)، صحیح مسلم/الحج 1 (1177)، سنن ابی داود/المناسک 32 (1823)، (تحفة الأشراف: 6817) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس بات پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں عورت کے لیے وہ تمام کپڑے پہننے جائز ہیں جن کا اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے صرف ورس اور زعفران لگے ہوئے کپڑے نہ پہنے، نیز اس بات پر بھی اجماع ہے کہ حالت احرام میں مرد کے لیے حدیث میں مذکور یہ کپڑے پہننے جائز نہیں ہیں قمیص اور سراویل میں تمام سلے ہوئے کپڑے داخل ہیں اسی طرح عمامہ اور خفین سے ہر وہ چیز مراد ہے جو سر اور قدم کو ڈھانپ لے، البتہ پانی میں سر کو ڈبونے یا ہاتھ یا چھتری سے سر کو چھپانے میں کوئی حرج نہیں۔ ۲؎: جمہور نے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے موزوں کے کاٹنے کی شرط لگائی ہے لیکن امام احمد نے بغیر کاٹے موزہ پہننے کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ ابن عباس کی روایت «من لم یجدنعلین فلیلبس خفین» جو بخاری میں آئی ہے مطلق ہے لیکن اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہاں مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا، حنابلہ نے اس روایت کے کئی جواب دیئے ہیں جن میں ایک یہ ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ روایت منسوخ ہے کیونکہ یہ احرام سے قبل مدینہ کا واقعہ ہے اور ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت عرفات کی ہے اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ابن عمر رضی الله عنہما کی روایت حجت کے اعتبار سے ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے بڑھی ہوئی ہے، کیونکہ وہ ایسی سند سے مروی ہے جو اصح الاسانید ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2670
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ، وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہ قمیص پہنو نہ عمامے نہ پائجامے، نہ ٹوپیاں اور نہ موزے البتہ اگر کسی کو جوتے نہ مل پائیں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے سے کر لے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2670]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیص، پگڑی، پاجامہ (شلوار)، ٹوپی دار کرتا (برانڈی) اور موزے نہ پہنے، ہاں اگر اس کے پاس جوتے نہ ہوں تو چمڑے کے موزے پہن سکتا ہے مگر انھیں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ لے۔ اور ایسے کپڑے نہ پہنو جنھیں زعفران یا ورس لگی ہوئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2670]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 21 (1542)، اللباس 13 (5803)، صحیح مسلم/الحج 1 (1177)، سنن ابی داود/المناسک 32 (1824)، سنن ابن ماجہ/الحج 20 (2932)، (تحفة الأشراف: 8325)، موطا امام مالک/الحج 3 (8)، 4 (9)، مسند احمد (2/63، سنن الدارمی/المناسک 9 (1841)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2675) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2671
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَلْبَسُ مِنَ الثِّيَابِ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ قَالَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ , وَقَالَ عَمْرٌو مَرَّةً أُخْرَى: الْقُمُصَ وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخُفَّيْنِ، إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ لِأَحَدِكُمْ نَعْلَانِ فَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا ثَوْبًا مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب ہم احرام باندھ لیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، (عمرو بن علی نے دوسری بار قمیص کے بجائے جمع کے صیغے کے ساتھ قمص کہا) نہ عمامے، نہ پائجامے اور نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو موزوں کو کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور نہ ایسا کپڑا جس میں ورس اور زعفران لگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2671]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب ہم احرام باندھیں تو ہم کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیص، پگڑی، شلوار اور موزے نہ پہنو مگر یہ کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ لے۔ اور ایسے کپڑے نہ پہنو جن کو ورس یا زعفران لگی ہوئی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2671]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8215)، مسند احمد (2/54) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2674
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ أَحَدٌ لَيْسَتْ لَهُ نَعْلَانِ فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام میں کس طرح کے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامہ، نہ ٹوپیاں سوائے اس کے کہ کسی کے پاس جوتے موجود نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہنے جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس میں زعفران یا ورس لگے ہوں اور محرم عورت نہ نقاب پہنے اور نہ ہی دستانے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2674]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! احرام کی حالت میں آپ ہمیں کن کپڑوں کے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیص، شلوار، پگڑی، برانڈی (اوور کوٹ اور ٹوپی دار کرتا) اور موزے نہ پہنو مگر یہ کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ کر پہن سکتا ہے۔ اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس کو زعفران یا ورس لگی ہو، نیز محرم عورت نہ نقاب باندھے اور نہ دستانے پہنے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 13 (1838)، سنن ابی داود/المناسک 32 (1825)، سنن الترمذی/الحج 18 (833)، (تحفة الأشراف: 8275)، مسند احمد (2/119) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2675
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقَمِيصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَحَدٌ لَا يَجِدُ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْ خُفَّيْنِ وَلْيَقْطَعْهُمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا تَلْبَسُوا شَيْئًا مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ وَلَا الْوَرْسُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہنے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ، نہ پائجامے پہنو، نہ ٹوپیاں، اور نہ موزے پہنو، البتہ اگر کسی کو جوتے میسر نہ ہوں تو موزے پہن لے، اور انہیں کاٹ کر ٹخنوں سے نیچے کر لے، اور نہ کوئی ایسا کپڑا پہنو جس میں زعفران یا ورس لگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2675]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: محرم کون سے کپڑے پہن سکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیص، پگڑی، شلوار (پاجامہ وغیرہ)، ٹوپی دار کرتا اور موزے نہ پہنو، ہاں اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزوں کو ٹخنوں سے نیچے کاٹ کر پہن لے۔ اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جسے زعفران یا ورس لگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2675]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2667 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2677
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: مَا نَلْبَسُ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ قَالَ:" لَا تَلْبَسْ الْقَمِيصَ، وَلَا الْعِمَامَةَ، وَلَا السَّرَاوِيلَ، وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا تَجِدَ نَعْلَيْنِ فَإِنْ لَمْ تَجِدِ النَّعْلَيْنِ، فَمَا دُونَ الْكَعْبَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور پوچھا: ہم جب محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ آپ نے فرمایا نہ قمیص پہنو، نہ عمامہ (پگڑی)، نہ پائجامہ، نہ ٹوپی اور نہ موزے البتہ جس کو جوتے میسر نہ ہو تو وہ موزے ٹخنوں سے نیچے پہنے اور اسے نیچے کر لے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2677]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بلند آواز سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارا اور کہا: جب ہم احرام باندھیں تو کون سے کپڑے پہنیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیص، پگڑی، شلوار، برنس اور موزے نہ پہنو، ہاں اگر تمہیں جوتے نہ ملیں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے نیچے پہن لو (یعنی اوپر سے کاٹ دو)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2677]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 8 (5794)، (تحفة الأشراف: 7535)، مسند احمد (2/4، 65) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2678
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَادَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَا نَلْبَسُ إِذَا أَحْرَمْنَا؟ قَالَ:" لَا تَلْبَسْ الْقَمِيصَ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخِفَافَ إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ نِعَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ نِعَالٌ، فَخُفَّيْنِ دُونَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا ثَوْبًا مَصْبُوغًا بِوَرْسٍ، أَوْ زَعْفَرَانٍ، أَوْ مَسَّهُ وَرْسٌ، أَوْ زَعْفَرَانٌ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور اس نے پوچھا: جب ہم محرم ہوں تو کیا پہنیں؟ تو آپ نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ عمامے (پگڑیاں)، نہ ٹوپیاں، نہ پائجامے، نہ موزے البتہ اگر جوتے نہ ہوں تو ایسے موزے پہنو جو ٹخنوں سے نیچے ہوں، اور نہ ورس اور زعفران لگے ہوئے کپڑے پہنو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2678]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بلند آواز سے پکارا اور کہا: جب ہم احرام باندھیں تو کیا پہنیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قمیص، پگڑی، برنس (ٹوپی دار کرتا)، شلوار (پاجامہ وغیرہ) اور موزے نہ پہنو الا یہ کہ جوتے نہ ہوں۔ ایسی صورت میں ٹخنوں سے نیچے موزے پہنے جا سکتے ہیں۔ اور کوئی ایسا کپڑا بھی نہ پہنو جو ورس یا زعفران سے رنگا ہوا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2678]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7749)، مسند احمد (2/3، 29)، ویأتي برقم: 2681 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2679
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَلْبَسُوا فِي الْإِحْرَامِ الْقَمِيصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْعَمَائِمَ، وَلَا الْبَرَانِسَ، وَلَا الْخِفَافَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: احرام میں نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ عمامے (پگڑیاں) نہ ٹوپیاں، نہ موزے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2679]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: تم احرام کی حالت میں قمیص، شلوار، پگڑی، برنس اور موزے نہ پہنو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2679]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8136) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2682
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلًا قَامَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاذَا تَأْمُرُنَا أَنْ نَلْبَسَ مِنَ الثِّيَابِ فِي الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَلْبَسُوا الْقُمُصَ، وَلَا السَّرَاوِيلَاتِ، وَلَا الْخِفَافَ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ لَهُ نَعْلَانِ، فَلْيَلْبَسْ الْخُفَّيْنِ أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا يَلْبَسْ شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ الزَّعْفَرَانُ، وَلَا الْوَرْسُ، وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! احرام میں آپ ہمیں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ قمیص پہنو، نہ پائجامے، نہ موزے، البتہ اگر کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ایسے موزے پہن لے جو ٹخنوں سے نیچے سے ہوں اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جس میں زعفران یا ورس لگا ہو، اور محرمہ عورت نہ نقاب پہنے، اور نہ دستانے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2682]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں احرام کی حالت میں کس قسم کے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قمیص، شلوار اور موزے نہ پہنو مگر کسی آدمی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ ٹخنوں سے نیچے موزے پہن لے۔ (اور ٹخنوں سے اوپر والا حصہ کاٹ دے)۔ اور کوئی ایسا کپڑا نہ پہنے جسے زعفران یا ورس لگی ہو۔ محرم عورت نقاب نہ باندھے اور دستانے بھی نہ پہنے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2682]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصید 13 (1838م)، تعلیقًا، (تحفة الأشراف: 7470) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں