سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. باب : موضع الطيب
باب: خوشبو لگانے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2704
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں تین دن بعد (بھی) خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2704]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں (احرام باندھنے سے) تین دن بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحج 18 (2928)، (تحفة الأشراف: 16026) (صحیح بما قبلہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2928) شريك و أبو إسحاق مدلسان وعنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 371
حدیث نمبر: 417
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنَضَخُ طِيبًا، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ، فَقَالَتْ" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ عَلَى نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں (اپنے جسم پر) تارکول مل لوں یہ میرے لیے زیادہ پسندیدہ ہے اس بات سے کہ میں اس حال میں احرام باندھوں کہ میرے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہو، تو (محمد بن منتشر کہتے ہیں) میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، اور میں نے انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی یہ بات بتائی تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی تھی، اور آپ نے اپنی بیویوں کا چکر لگایا ۱؎ آپ نے محرم ہو کر صبح کی (اس وقت آپ کے جسم پر خوشبو کا اثر باقی تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 417]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”میں اپنے جسم پر تارکول ملوں یہ مجھے اس بات سے اچھا لگتا ہے کہ میں احرام باندھوں اور مجھ سے خوشبو کی مہک آ رہی ہو۔“ (ان کے شاگرد محمد بن منتشر نے کہا) میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان کو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی یہ بات بتلائی تو انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سب عورتوں کے پاس گئے اور پھر غسل کر کے احرام باندھا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 417]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الغسل 12(267)، 14(270)، صحیح مسلم/الحج 7 (1192)، (تحفة الأشراف 17598) مسند احمد 6/175، ویأتي عندالمؤلف بأرقام: 431، 2705 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ان سے صحبت کی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2685
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ حِينَ أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَعِنْدَ إِحْلَالِهِ قَبْلَ أَنْ يُحِلَّ بِيَدَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے کے وقت جس وقت آپ نے احرام باندھنے کا ارادہ کیا اور احرام کھولنے کے وقت اس سے پہلے کہ آپ احرام کھولیں اپنے دونوں ہاتھوں سے خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2685]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاتھوں سے خوشبو لگائی آپ کے احرام کے وقت جب آپ نے احرام کا ارادہ فرمایا اور حلال ہونے (احرام کھولنے) کے وقت (خوشبو لگائی) پہلے اس سے کہ آپ مکمل حلال ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2685]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16091)، مسند احمد (6/106، 107) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2686
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے اس سے پہلے کہ آپ طواف کریں خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2686]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی، آپ کے احرام کے وقت احرام باندھنے سے پہلے اور آپ کے حلال ہونے (احرام کھولنے) کے وقت طواف زیارت کرنے سے پہلے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2686]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 18 (1539)، صحیح مسلم/الحج 1189)، سنن ابی داود/المناسک 11 (1745)، (تحفة الأشراف: 17518)، موطا امام مالک/الحج 7 (17) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2687
أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَلِحِلِّهِ حِينَ أَحَلَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے اس سے پہلے کہ آپ احرام باندھیں اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے جس وقت آپ نے احرام کھولا خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2687]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے وقت احرام باندھنے سے پہلے اور حلال ہونے کے وقت خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2687]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 73 (5922)، (تحفة الأشراف: 17529)، مسند احمد (6/238)، سنن الدارمی/المناسک 10 (1844) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 2688
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ بَعْدَ مَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2688]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھتے وقت آپ کو خوشبو لگائی، اور جب آپ جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد حلال ہوئے اس وقت بھی خوشبو لگائی اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف فرمائیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، (تحفة الأشراف: 16446) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2689
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو عُمَيْرٍ، عَنْ ضَمْرَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِحْلَالِهِ، وَطَيَّبْتُهُ لِإِحْرَامِهِ طِيبًا لَا يُشْبِهُ طِيبَكُمْ هَذَا" تَعْنِي: لَيْسَ لَهُ بَقَاءٌ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی، اور آپ کے احرام باندھنے کے لیے خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کے مشابہ نہیں تھی، یعنی یہ خوشبو دیرپا نہ تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2689]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حلال ہوتے وقت خوشبو لگائی اور احرام باندھنے کے وقت بھی ایسی خوشبو لگائی جو تمہاری اس خوشبو کی طرح نہیں تھی، یعنی جو باقی نہیں رہتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2689]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16523) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2690
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" بِأَطْيَبِ الطِّيبِ عِنْدَ حُرْمِهِ وَحِلِّهِ".
عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی خوشبو لگائی تھی؟ تو انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو تھی جو آپ کے احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت میں نے لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2690]
حضرت عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سی خوشبو لگائی تھی؟ انہوں نے فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بہترین خوشبو لگائی، احرام باندھنے کے وقت بھی اور حلال ہونے کے وقت بھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2690]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 79 (5928)، صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، (تحفة الأشراف: 16365)، مسند احمد (6/38، 130، 161، سنن الدارمی/المناسک 10 (1843) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2691
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ إِحْرَامِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ مجھے جو اچھی سے اچھی خوشبو مل سکتی تھی وہی میں آپ کو احرام باندھتے وقت لگاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2691]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے کے وقت بہترین خوشبو لگایا کرتی تھی جو میرے پاس ہوتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2691]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر رقم: 2685 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2692
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ لِحُرْمِهِ، وَلِحِلِّهِ وَحِينَ يُرِيدُ أَنْ يَزُورَ الْبَيْتَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھتے اور کھولتے وقت اور جس وقت آپ بیت اللہ کی زیارت کا ارادہ کرتے بہترین خوشبو جو میں پا سکتی لگاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2692]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے کے وقت اور حلال ہونے کے وقت اور جب آپ بیت اللہ کا طوافِ زیارت کرنے چلے، اپنے پاس موجود بہترین خوشبو لگائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2692]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2687 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2693
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ بِطِيبٍ فِيهِ مِسْكٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے پہلے اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگائی جس میں مشک کی آمیزش تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2693]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام باندھنے سے قبل اور قربانی والے دن طوافِ بیت اللہ کرنے سے پہلے خوشبو لگائی جس میں کستوری شامل تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2693]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1191)، سنن النسائی/الحج 77 (917)، (تحفة الأشراف: 17526)، مسند احمد (6/186) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2694
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ يَعْنِي الْعَدَنِيَّ , عَنْ سُفْيَانَ. ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْحَاق يَعْنِي الْأَزْرَقَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" , وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ فِي حَدِيثِهِ:" وَبِيصِ طِيبِ الْمِسْكِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ احرام باندھے ہوئے ہیں۔ احمد بن نصر نے اپنی روایت میں «وبيص الطيب في رأس رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» کے بجائے «وبيص طيب المسك في مفرق رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم» (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں مشک کی خوشبو کی چمک) روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2694]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے یوں محسوس ہو رہا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حالت احرام میں ہیں۔ (استاد) احمد بن نصر کی حدیث میں ہے: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں (دوران احرام) کستوری کی خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، سنن ابی داود/المناسک 11 (1746)، (تحفة الأشراف: 15925)، مسند احمد (6/38، 245) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2695
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" لَقَدْ كَانَ يُرَى وَبِيصُ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھی جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2695]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ دورانِ احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ مبارک میں خوشبو کی چمک صاف نظر آتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2695]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 18 (1538)، صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، (تحفة الأشراف: 5988)، مسند احمد (6/254، 267، 280) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2696
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم ہیں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2696]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے یوں لگتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2695 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2697
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي أُصُولِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2697]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں خوشبو کی چمک دیکھا کرتی تھی جبکہ آپ محرم ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2695 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2698
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2698]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطہارة 14 (271)، اللباس 70 (5918)، صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، (تحفة الأشراف: 15928) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2699
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: : نَبَّأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُنْدُرٌ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم خوشبو کی چمک دیکھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2699]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھی جبکہ آپ احرام کی حالت میں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، (تحفة الأشراف: 15954)، مسند احمد (6/109، 173، 175، 224، 230) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2700
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک پکار رہے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2700]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ ” «لَبَّيْكَ» “ ”میں حاضر ہوں“ پکار رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2699 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2701
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هَنَّادٌ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ، ادَّهَنَ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُهُ، حَتَّى أَرَى وَبِيصَهُ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ" , تَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ عَلَى هَذَا الْكَلَامِ , وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے (ہناد کی روایت میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھنے کا ارادہ کرتے) تو اچھے سے اچھا عطر جو آپ کو میسر ہوتا لگاتے یہاں تک کہ میں اس کی چمک آپ کے سر اور داڑھی میں دیکھتی۔ امام نسائی کہتے ہیں: اس بات پر ابواسحاق کی اسرائیل نے متابعت کی ہے انہوں نے اسے «عن عبدالرحمٰن بن الأسود عن أبيه عن عائشة» “ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2701]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ہناد (راوی) نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو اپنے پاس موجود بہترین خوشبو لگاتے، حتیٰ کہ میں اس کی چمک آپ کے سر اور داڑھی مبارک میں دیکھا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16035) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2702
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا كُنْتُ أَجِدُ مِنَ الطِّيبِ حَتَّى أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی سے اچھی خوشبو جو مجھے میسر ہوتی لگاتی تھی یہاں تک کہ احرام سے پہلے میں آپ کے سر اور داڑھی میں خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2702]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام سے قبل اپنے پاس موجود بہترین خوشبو لگاتی تھی حتیٰ کہ میں اس خوشبو کی چمک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی مبارک میں دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 74 (5923)، صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، (تحفة الأشراف: 16010)، مسند احمد (6/209، 250، 254) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2703
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگوں میں خوشبو کی چمک تین دن بعد (بھی) دیکھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2703]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تحقیق میں نے (احرام باندھنے سے) تین دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15979)، مسند احمد (6/41، 264) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، إبراهيم النخعي مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 371
حدیث نمبر: 2705
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِالْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ" لَقَدْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَطُوفُ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ يَنْضَحُ طِيبًا".
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام کے وقت خوشبو کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تارکول لگا لینا میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہے۔ تو میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کا چکر لگاتے، پھر آپ اس حال میں صبح کرتے تو آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2705]
حضرت محمد بن منتشر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام باندھتے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس سے تو اچھا یہ ہے کہ میں گندھک مل لوں۔ میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی تو وہ فرمانے لگیں: «رَحِمَ اللّٰهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ» ”اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن (ابن عمر رضی اللہ عنہ) پر رحم فرمائے!“ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس جاتے، پھر صبح ہوتی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوشبو کی مہک آ رہی ہوتی تھی (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو احرام باندھتے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 417 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق وليس عند خ ذكر الإطلاء
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2706
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ , وَسُفْيَانُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: لَأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَحُ طِيبًا فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ فَقَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا".
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ پر تار کول مل دیا جائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں احرام کی حالت میں صبح کروں اور میرے جسم سے خوشبو بکھر رہی ہو۔ تو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے انہیں ان کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس پھرے، آپ نے صبح کیا اس حال میں کہ آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2706]
حضرت محمد بن منتشر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ میں گندھک مل لوں تو زیادہ اچھا ہے بجائے اس کے کہ مجھ سے احرام کی حالت میں خوشبو کی مہک آئے۔ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے فرمایا: میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی، آپ اپنی بیویوں کے پاس گئے، پھر آپ نے احرام باندھا (اور آپ سے مہک آتی تھی)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2706]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 417 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن