🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
50. باب : التمتع
باب: حج تمتع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2740
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَال: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَمَتَّعَ، وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ" , قَالَ فِيهَا قَائِلٌ بِرَأْيِهِ.
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حج) تمتع کیا، اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ (حج) تمتع کیا (لیکن) کہنے والے نے اس سلسلے میں اپنی رائے سے کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2740]
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع فرمایا، ہم نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا، پھر ایک کہنے والے نے اپنی رائے سے کہا (کہ تمتع نہیں کرنا چاہیے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2740]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2729 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لہٰذا صریح سنت کے مقابلہ میں قائل کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2688
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُرْمِهِ حِينَ أَحْرَمَ، وَلِحِلِّهِ بَعْدَ مَا رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے احرام کے لیے خوشبو لگائی جس وقت آپ نے احرام باندھا، اور آپ کے احرام کھولنے کے لیے خوشبو لگائی اس کے بعد کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی کر لی، اور اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف کریں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2688]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام باندھتے وقت آپ کو خوشبو لگائی، اور جب آپ جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے کے بعد حلال ہوئے اس وقت بھی خوشبو لگائی اس سے پہلے کہ آپ بیت اللہ کا طواف فرمائیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2688]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، (تحفة الأشراف: 16446) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2723
أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُثْمَانَ , فَسَمِعَ عَلِيًّا يُلَبِّي بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ، فَقَالَ أَلَمْ تَكُنْ تُنْهَى عَنْ هَذَا؟ قَالَ:" بَلَى، وَلَكِنِّي، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا، فَلَمْ أَدَعْ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِكَ".
مروان بن حکم سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں عثمان کے پاس بیٹھا تھا کہ انہوں نے علی کو عمرہ و حج دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا تو کہا: کیا ہم اس سے روکے نہیں جاتے تھے۔ انہوں نے کہا: کیونکہ نہیں، لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں (حج و عمرہ) کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو آپ کے قول کے لیے نہیں چھوڑ سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2723]
حضرت مروان بن حکم سے روایت ہے کہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حج اور عمرے کی اکٹھی «لَبَّيْكَ» لبیک کہتے سنا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: کیا آپ کو علم نہیں کہ اس سے روکا گیا ہے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یقیناً علم ہے مگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دونوں کی اکٹھی «لَبَّيْكَ» لبیک کہتے سنا ہے، میں تمہارے حکم کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نہیں چھوڑ سکتا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2723]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج34 (1563)، (تحفة الأشراف: 10274)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج23 (1223)، مسند احمد (1/195، 135)، سنن الدارمی/المناسک 78 (1964) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2727
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يَقُولُ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ:" جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ تُوُفِّيَ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنْهَا، وَقَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْقُرْآنُ بِتَحْرِيمِهِ".
مطرف کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سے پہلے کہ آپ اس سے منع فرماتے یا اس کے حرام ہونے کے سلسلے میں آپ پر کوئی آیت اترتی آپ کی وفات ہو گئی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2727]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ اکٹھا کیا، پھر آپ فوت ہو گئے، نہ تو آپ نے (اس سے) روکا اور نہ قرآن میں اس کی حرمت کا حکم نازل ہوا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 23 (1226)، (تحفة الأشراف: 10846)، صحیح البخاری/الحج 36 (1571)، وتفسیر البقرة 33 (4518)، سنن ابن ماجہ/الحج40 (2978)، مسند احمد (4/427 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2728
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِمْرَانَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" جَمَعَ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ، ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ فِيهَا كِتَابٌ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ: فِيهِمَا رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ.
عمران رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سلسلے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان دونوں کو جمع کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، لیکن ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2728]
حضرت عمران رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ اکٹھا کیا، پھر (اس سے روکنے کے بارے میں) کوئی حکم نازل نہیں ہوا، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔ (بعد میں) ایک شخص (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے اپنی رائے سے اس کے بارے میں جو چاہا، کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2728]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 23 (1226)، (تحفة الأشراف: 10851) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اشارہ عمر رضی الله عنہ کی طرف سے، کیونکہ وہ حج و عمرہ دونوں کو جمع کرنے سے روکتے تھے، جیسے عثمان رضی الله عنہ روکتے تھے جیسا کہ امام مسلم نے اپنی صحیح ۲/۸۹۸ میں اس کی تصریح کی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2729
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ:" تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ثَلَاثَةٌ هَذَا أَحَدُهُمْ لَا بَأْسَ بِهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ شَيْخٌ يَرْوِي عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ لَا بَأْسَ بِهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ يَرْوِي عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَالْحَسَنُ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج) تمتع کیا، ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین لوگ ہیں، یہ اسماعیل بن مسلم (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) انہیں تینوں میں سے ایک ہیں، ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور (دوسرے) اسماعیل بن مسلم ایک شیخ ہیں جو ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں ان سے بھی حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تیسرے اسماعیل بن مسلم ہیں جو زہری اور حسن سے روایت کرتے ہیں یہ متروک الحدیث ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2729]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کیا۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین راویِ حدیث ہیں، ان میں سے ایک تو یہی ہیں، ان پر کوئی اعتراض نہیں۔ دوسرے بزرگ وہ ہیں جو ابوالطفیل سے بیان کرتے ہیں، ان میں بھی کوئی خرابی نہیں۔ تیسرے اسماعیل بن مسلم حضرت زہری اور حضرت حسن سے بیان کرتے ہیں، وہ محدثین کے نزدیک «مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ» (غیر معتبر) ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2729]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 23 (1226)، (تحفة الأشراف: 10853) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2730
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ , وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ. ح وَأَنْبَأَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، وَحُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، وَيَحْيَى بْنُ أبي إِسْحَاقَ، كُلُّهُمْ عَنْ أَنَسٍ سَمِعُوهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «‏لبيك عمرة وحجا لبيك عمرة وحجا» کہتے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2730]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا» اے اللہ! میں تیرے سامنے حج و عمرے کے لیے حاضر ہوں۔ فرماتے ہوئے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2730]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج34 (1251)، سنن ابی داود/الحج24 (1795)، (تحفة الأشراف: 781)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 11 (821)، سنن ابن ماجہ/الحج 14، 38 (2917، 2968، 2969)، مسند احمد (3/99)، سنن الدارمی/المناسک78 (1965) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2731
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ:" سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِهِمَا".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (حج و عمرہ) دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2731]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج اور عمرہ دونوں کی بیک وقت «لَبَّيْكَ» لبیک کہتے سنا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2731]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1712) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2732
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا يُحَدِّثُ، قَالَ:" سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِالْعُمْرَةِ وَالْحَجِّ جَمِيعًا"، فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ:" لَبَّى بِالْحَجِّ وَحْدَهُ" , فَلَقِيتُ أَنَسًا فَحَدَّثْتُهُ بِقَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، فَقَالَ أَنَسٌ: مَا تَعُدُّونَا إِلَّا صِبْيَانًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا مَعًا".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حج و عمرہ دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ہے تو میں نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر میری ملاقات انس سے ہوئی تو میں نے ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بیان کی، اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ ہمیں بچہ ہی سمجھتے ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ساتھ «لبيك عمرة وحجا» کہتے ہوئے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2732]
حضرت بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عمرہ و حج کی اکٹھی لبیک فرماتے سنا۔ میں نے یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کی تو وہ کہنے لگے: آپ نے صرف حج کی لبیک کہی تھی۔ میں پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات بیان کی۔ آپ فرمانے لگے: تم ہمیں بچے ہی سمجھتے ہو۔ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو «لَبَّيْكَ عُمْرَةً وَحَجًّا مَعًا» میں حاضر ہوں عمرہ اور حج دونوں کے لیے اکٹھے فرماتے سنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازی 61 (4353)، صحیح مسلم/الحج 27 (1232)، (تحفة الأشراف: 6657)، مسند احمد (2/41، 53، 79، 3/99، سنن الدارمی/المناسک 78 (1966) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2735
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ , وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَالَ سَعْدٌ:" بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي، قَالَ الضَّحَّاكُ:" فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نَهَى عَنْ ذَلِكَ" , قَالَ سَعْدٌ:" قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ".
محمد بن عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تمتع کا یعنی عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حج کرنے کا ذکر کرتے سنا، ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے وہی کرے گا، جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو گا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! بری بات ہے، جو تم نے کہی، تو ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تو اس سے روکا ہے اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم لوگوں نے بھی کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2735]
حضرت محمد بن عبد اللہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور ضحاک بن قیس کو حج سے پہلے عمرے کا فائدہ اٹھانے کا تذکرہ کرتے سنا۔ یہ اس سال کی بات ہے جس سال حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ حج کے لیے تشریف لائے تھے۔ ضحاک کہنے لگے: یہ کام (تمتع) تو وہی کر سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام سے ناواقف ہو۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے بھتیجے! تو نے بری بات کہی ہے۔ ضحاک نے کہا: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تو اس سے روکا تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2735]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج12 (823)، (تحفة الأشراف: 3928)، موطا امام مالک/الحج19 (60)، مسند احمد (1/174)، سنن الدارمی/المناسک 18 (1855) (ضعیف الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2736
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدُ، حَتَّى لَقِيتُهُ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ، وَلَكِنْ كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا مُعَرِّسِينَ بِهِنَّ فِي الْأَرَاكِ، ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ وہ تمتع کا فتویٰ دیتے تھے، تو ایک شخص نے ان سے کہا: آپ اپنے بعض فتاوے کو ملتوی رکھیں ۱؎ آپ کو امیر المؤمنین (عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ) نے اس کے بعد حج کے سلسلے میں جو نیا حکم جاری کیا ہے وہ معلوم نہیں، یہاں تک کہ میں ان سے ملا، اور میں نے ان سے پوچھا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا ہے، لیکن میں یہ اچھا نہیں سمجھتا کہ لوگ «اراک» میں اپنی بیویوں سے ہمبستر ہوں، پھر وہ صبح ہی حج کے لیے اس حال میں نکلیں کہ ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2736]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: اس قسم کا فتویٰ دینے سے رک جاؤ، شاید آپ کو پتہ نہیں کہ تمہارے بعد امیر المؤمنین (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے اس کے بارے میں کیا نیا حکم جاری فرمایا ہے۔ (حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا:) میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا، وہ فرمانے لگے: تحقیق! مجھے بھی معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیا ہے، مگر میں نے اچھا نہ سمجھا کہ لوگ رات کو پیلو کے درختوں کے نیچے بیویوں کے ساتھ جماع کرتے رہیں اور پھر حج کو جائیں تو ان کے سروں سے (غسلِ جنابت کے) پانی کے قطرے گر رہے ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2736]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 22 (1222)، سنن ابن ماجہ/الحج 40 (2979)، (تحفة الأشراف: 10584)، مسند احمد (1/49)، سنن الدارمی/المناسک 18 (1856) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کا یہ فتویٰ امیر المؤمنین کے جاری کردہ حکم کے خلاف ہو اور وہ تم پر ناراض ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2738
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِ عَبَّاسٍ:" أَعَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ؟" قَالَ: لَا. يَقُولُ ابْنُ عَبَّاسٍ:" هَذَا مُعَاوِيَةُ، يَنْهَى النَّاسَ عَنِ الْمُتْعَةِ وَقَدْ تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
طاؤس کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ مروہ کے پاس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال کترے تھے (میں یہ اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ نہ کہہ سکیں کہ یہ معاویہ ہیں جو لوگوں کو تمتع سے روکتے ہیں حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2738]
حضرت طاؤس رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کو پتہ ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال کاٹے تھے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو تمتع سے روکتے ہیں، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2738]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج127 (1730)، صحیح مسلم/الحج33 (1246)، سنن ابی داود/الحج24 (1802)، (تحفة الأشراف: 5762، 11423)، مسند احمد (4/96، 97، 98) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہاں روایت میں ایک اشکال ہے اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متمتع تھے حالانکہ صحیح یہ ہے کہ آپ قارن تھے، آپ نے اپنے بال میں سے کوئی چیز نہیں کتروائی اور نہ کوئی چیز اپنے لیے حلال کی یہاں تک کہ یوم النحر کو منیٰ میں آپ نے حلق کرائی اس لیے اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ شاید حج سے معاویہ کی مراد عمرہ جعرانہ ہو کیونکہ اسی موقع پروہ اسلام لائے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح ق دون قول ابن عباس هذا معاوية
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2807
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَحِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً"، فَبَلَغَهُ عَنَّا أَنَّا نَقُولُ: لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ، أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ، فَنَرُوحَ إِلَى مِنًى وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مِنَ الْمَنِيِّ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَنَا، فَقَالَ:" فَقَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَبَرُّكُمْ وَأَتْقَاكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ، وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ، فَقَالَ:" بِمَا أَهْلَلْتَ؟" قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَأَهْدِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا هَذَا أَوْ لِلْأَبَدِ؟ قَالَ:" هِيَ لِلْأَبَدِ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے خالص حج کا احرام باندھا، اس کے ساتھ اور کسی چیز کی نیت نہ تھی۔ تو ہم ۴ ذی الحجہ کی صبح کو مکہ پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا احرام کھول ڈالو اور اسے (حج کے بجائے) عمرہ بنا لو، تو آپ کو ہمارے متعلق یہ اطلاع پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن باقی رہ گئے ہیں اور آپ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم اپنے احرام کھول کر حلال ہو جائیں تو ہم منیٰ کو جائیں گے، اور ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو گی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: جو بات تم لوگوں نے کہی ہے وہ مجھے معلوم ہو چکی ہے، میں تم سے زیادہ نیک اور تم سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں، اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی حلال ہو گیا ہوتا، اگر جو بات مجھے اب معلوم ہوئی ہے پہلے معلوم ہو گئی ہوتی تو میں ہدی ساتھ لے کر نہ آتا۔ (اسی دوران) علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے، تو آپ نے ان سے پوچھا: تم نے کس چیز کا تلبیہ پکارا ہے؟ انہوں نے کہا: جس کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا ہے، آپ نے فرمایا: تم ہدی دو اور احرام باندھے رہو، جس طرح تم ہو۔ اور سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے ہمارا یہ عمرہ اسی سال کے لیے ہے، یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ نے فرمایا: ہمیشہ کے لیے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2807]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے خالص حج کا احرام باندھا تھا۔ کسی اور چیز کی نیت نہیں تھی، صرف حج کی نیت تھی۔ ہم ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو مکہ مکرمہ آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: اس احرام کو عمرہ بنا لو اور (عمرہ کر کے) حلال ہو جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی کہ ہم کہہ رہے ہیں: جب ہمارے اور یومِ عرفہ کے درمیان صرف پانچ دن کا فاصلہ رہ گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حلال ہونے کا حکم دے رہے ہیں، ہم منیٰ کو جائیں گے تو گویا ہمارے اعضائے تناسل منی بہا رہے ہوں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا: جو بات تم نے کہی ہے، وہ مجھے پہنچ گئی ہے۔ یقیناً میں تم سب سے بڑھ کر نیک اور پرہیزگار ہوں اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں خود حلال ہو جاتا، اور اگر مجھے اس بات کا پہلے پتہ چل جاتا جس کا بعد میں پتہ چلا تو میں قربانی کے جانور ساتھ نہ لاتا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے کیا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا: جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم (یومِ نحر کو) جانور ذبح کرنا اور تم محرم رہو جس طرح تم ہو۔ حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں: کیا اس ہمارے عمرے کی اجازت صرف اس سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ کے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2807]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/المناسک 23 (1787)، (تحفة الأشراف: 4259)، مسند احمد (3/317) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2808
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ عُمْرَتَنَا هَذِهِ لِعَامِنَا أَمْ لِأَبَدٍ؟ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيَ لِأَبَدٍ".
سراقہ بن مالک بن جعشم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمیں بتائیے کیا ہمارا یہ عمرہ ہمارے اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2808]
حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ فرمائیں، کیا ہمارا یہ عمرہ (یعنی ایام حج کے دوران میں) صرف اسی سال کے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیشہ کے لیے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحج40 (2977)، (تحفة الأشراف: 3815)، مسند احمد (4/175) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2809
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ: سُرَاقَةُ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ، فَقُلْنَا: أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِأَبَدٍ؟ قَالَ:" بَلْ لِأَبَدٍ".
سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ۱؎ اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا۔ تو ہم نے عرض کیا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2809]
حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا، پھر ہم نے کہا: کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2808 (صحیح الإسناد)»
وضاحت: ۱؎: یہاں اصطلاحی تمتع مراد نہیں لغوی تمتع مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کا آپ نے فائدہ اٹھایا کیونکہ صحیح روایتوں سے آپ کا قارن ہونا ثابت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2817
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَذِهِ عُمْرَةٌ اسْتَمْتَعْنَاهَا، فَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ هَدْيٌ، فَلْيَحِلَّ الْحِلَّ كُلَّهُ، فَقَدْ دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا ہے، تو جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ پورے طور پر حلال ہو جائے، کیونکہ عمرہ حج میں شامل ہو گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2817]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ ہے، ہم نے (حج کے ساتھ) اس کا فائدہ اٹھایا ہے، لہٰذا جس شخص کے پاس قربانی کا جانور نہیں، وہ مکمل طور پر حلال ہو جائے، اور سن لو کہ عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج31 (1214)، سنن ابی داود/الحج23 (1790)، (تحفة الأشراف: 6387)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج89 (932)، مسند احمد (1/236، 341)، سنن الدارمی/المناسک 38 (1898) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں